کائنات کی ہر زندہ چیز کی بنیاد پانی ہے، مگر افسوس کہ جس شے کو ہم قدرت کا مفت عطیہ سمجھ کر بے دردی سے بہاتے ہیں، وہ اب دنیا کا مہنگا ترین اثاثہ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرینِ معاشیات اب اسے "نیلا سونا” (Blue Gold) پکار رہے ہیں، کیونکہ مستقبل کی جنگیں زمین یا تیل کے لیے نہیں، بلکہ پانی کے ایک ایک قطرے کے لیے لڑی جائیں گی۔
پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو تیزی سے پانی کی قلت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک طرف تو ہمارے گلی محلوں میں صبح سویرے گاڑیوں اور صحنوں کو پائپ لگا کر گھنٹوں دھونے کا رواج عام ہے، تو دوسری طرف اسی ملک کے تھر اور چولستان جیسے علاقوں میں مائیں اور معصوم بچے میلوں پیدل چل کر اپنی پیاس بجھانے کے لیے گدلا پانی لانے پر مجبور ہیں۔ یہ تضاد ہمارے معاشرے کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پانی کی قلت صرف ایک قدرتی آفت نہیں، بلکہ ہماری انتظامی نااہلی اور اسراف کا نتیجہ بھی ہے۔ ہم نے اپنے دریاؤں کو گندے نالوں میں بدل دیا ہے اور زیرِ زمین پانی کو اتنی بے رحمی سے نکالا ہے کہ اب واٹر ٹیبل خطرناک حد تک نیچے جا چکا ہے۔ کسان پریشان ہے، زمینیں بنجر ہو رہی ہیں اور پینے کا صاف پانی ایک عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
اگر ہم نے اب بھی اپنی عادتیں نہ بدلیں، تو وہ دن دور نہیں جب سونے کی قیمت گر جائے گی اور پانی کا ایک گلاس اس سے مہنگا ہو جائے گا۔ ہمیں اپنے بچوں کو پانی بچانے کا ہنر سکھانا ہوگا۔ وضو کرتے وقت، برش کرتے وقت یا برتن دھوتے وقت ہم جتنا پانی ضائع کرتے ہیں، وہ کسی دوسرے انسان کی زندگی بچا سکتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے، مگر سب سے بڑی ذمہ داری بطور شہری ہماری ہے۔ یاد رکھیے، سونا نہ ہو تو زندگی گزاری جا سکتی ہے، لیکن پانی کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ قدرت ہمیں بار بار خبردار کر رہی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ہمیں ہوش آئے تو بہت دیر ہو چکی ہو اور ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہ بچے۔