حسینؑ سے درِ رسول ﷺ تک: زندگی کے ایک لازوال منگل کی روداد

اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

اس بات کی سمجھ بھلا کیسے آئے؟ انسان اپنی زندگی میں مختلف اشخاص سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، ان کے بغیر جی نہیں سکتا۔ خواہ وہ حیات ہوں یا دنیائے فانی سے پردہ فرما چکے ہوں، ان کے در پہ حاضری اور ملاقات روح کو وہ تسلی دیتی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ مجھ ناچیز کی روح کو یہ تسلی ’درِ حسینؑ‘ اور ’درِ رسول ﷺ‘ پہ ملتی ہے۔

اور ہمیشہ میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ جو روح کو پہنچنے والا سرور ان دروں پہ ملتا ہے، اسے زیرِ قلم کر دوں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ احساسات میرے الفاظ میں شاید پوری طرح بیان نہ ہو پائیں، مگر میں اللہ کی توفیق سے کوشش کرتا ہوں کہ جو لکھ سکوں، لکھوں۔

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ زندگی کے خوبصورت ترین دنوں میں سے کسی ایک دن کی روداد سناؤ، تو میں بلا جھجھک نیچے لکھا ہوا یہ احوال سناؤں گا۔

منگل کا دن تھا۔۔۔

مجھے امریکہ سے آئے ہوئے بس ایک آدھ دن ہی ہوا تھا کہ میں قاہرہ (مصر) پہنچا تھا۔ وہاں سے میں صبح نو بجے اڑا تھا اور جب قاہرہ پہنچا تو پھر صبح کے سات یا آٹھ بج رہے تھے۔ گویا زندگی میں اس دن رات آئی ہی نہیں تھی!

میں سیدھا درِ حسینؑ پر واقع ’بدر فندق‘ (ہوٹل) پہنچا، جو اسلامی قاہرہ میں میری پاکیزہ آرام گاہ ہے۔ وہ ہوٹل والے بھی مجھے جانتے ہیں اور وہاں کے آس پاس کے احباب بھی۔ غالباً اتوار کا دن تھا یا پیر کا۔ سامان رکھنے کے بعد میں سیدھا نیچے گلی میں آیا، درِ حسینؑ پہ حاضری دی اور خوب روحانی استفادہ کیا۔

پھر مسجدِ حسینؑ سے باہر آیا اور اپنے من پسند ڈھابے پہ گیا، جس کا مالک پہلے خود اڈے پر کھڑے ہو کر لوبیا اور ابلا ہوا انڈا میری چائے کے ساتھ پیش کرتا تھا، مگر اب وہ کام اس کے بچے کرتے ہیں۔ وہ بوڑھا بابا مجھے دیکھ کر پہچان جاتا ہے اور عربی میں کچھ بولتا ہے۔ کچھ باتیں سمجھ آتی ہیں، کچھ پہ میں ویسے ہی سر ہلا دیتا ہوں۔ لوبیا، ابلا ہوا انڈا اور دریائے نیل کے باغ کا سلاد صبح کے ناشتے میں مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ پہلے یہ ناشتہ ۲۰ مصری پاؤنڈ کا ملتا تھا، اب ۵۰ کا ہو گیا ہے۔ بہرحال، قاہرہ میں دن گزرنے کے بعد اور پے در پے درِ حسینؑ پہ حاضری کے بعد دل اور روح جیسے باغ باغ ہو گئے۔

مگر خوشی کا اصل دن، جسے میں کبھی نہیں بھول سکتا، وہ منگل کا دن تھا۔

رات کے تیسرے پہر میں اٹھا اور سیدھا درِ حسینؑ پہ جا پہنچا۔ ایک میں اور ایک میرا حسینؑ! میں روضے پہ جا کر بیٹھ گیا۔ فجر ہونے تک بہت ساری باتیں ہوئیں ۔ ۔ ۔ درِ حسینؑ پہ سرِ حسینؑ کے ساتھ جو گفتگو ہوئی، وہ ناقابلِ بیان ہے۔ پھر فجر کی نماز پڑھی۔ وہاں ایک سید صاحب بعد از فجر خیرات تقسیم کرتے ہیں۔ ایک ڈبل روٹی میں فلافل، کچھ آلو کے چپس، لبن (لسی/دہی) اور بہت ساری محبت، خلوص اور مہمان نوازی۔ درِ حسینؑ کا یہ صبح کا تحفہ مجھے کسی بھی سیون سٹار، فائیو سٹار کانٹینینٹل یا دنیا کے ہر قسم کے کھانے سے لاکھ، کروڑ، ارب، کھرب گنا، بلکہ بے حساب اچھا لگتا ہے۔ میں کسی کونے میں جا کر بہت انہماک کے ساتھ اسے نوش فرماتا ہوں، پھر سرخ چائے پیتا ہوں اور اجازت لے کر ایئرپورٹ کی جانب رواں دواں ہو جاتا ہوں۔

نو بجے کی فلائٹ پکڑتا ہوں اور میری اگلی منزل ہوتی ہے: ’درِ رسول ﷺ‘۔

ایئرپورٹ پہ اترتے ہی بھائی حامد شاہ کی کال آتی ہے اور وہ پوچھتے ہیں، "کدھر ہیں رحیم شاہ؟” میری مسافتوں میں، میرے مسافری کے دنوں میں حامد شاہ میرا سایہ ہوتے ہیں۔ ٹکٹ سے لے کر رہائش تک، وہ ایک باپ کی مانند ہر دوسرے تیسرے دن میسج کر کے حال احوال پوچھتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا، "بس ابھی مدینہ اترا ہوں۔” کہنے لگے، "یار! ایک دوست کا نمبر بھیج رہا ہوں، وہ پی آئی اے (PIA) میں میرے کولیگ ہیں، وہ تمہارے لیے رہائش کا بندوبست کر لیں گے۔” میں نے کہا، "بھائی! میں تو رسول اللہ ﷺ کا مہمان ہوں، کسی چیز کی ضرورت نہیں، وہ خود ہی بندوبست کر لیں گے۔”

مجھے کیا پتہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی حامد شاہ کے ذریعے ان کے دوست کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی!

بھائی نے نمبر دیا، میں ابھی بس میں بیٹھا ہی تھا کہ ان کے دوست سے بات ہوئی۔ وہ کہنے لگے، "بس مجھے دس منٹ دیں۔” میں بس میں سوار ہوا۔ جیسے ہی میں مدینہ منورہ میں ۲۰ سے ۲۵ منٹ کی مسافت کے بعد بس سے اترا، ان کے دوست کی کال آ گئی اور ہوٹل کا بندوبست ہو چکا تھا۔ جہاں بس نے اتارا، بالکل سامنے ہی ہوٹل تھا۔ حامد کے دوست نے جس ہوٹل والے کا نام اور نمبر دیا تھا، وہ پہلے سے ہی تیار کھڑا تھا۔ کمرے کی چابی لی اور میں وہاں سامان رکھ کر سیدھا رسول اللہ ﷺ کے دربار میں حاضر ہو گیا۔

وہ منگل کا دن تھا۔۔۔ فجر درِ حسینؑ میں ہوئی، اور ظہر، عصر، مغرب و عشاء درِ رسول ﷺ پہ!

مہمان نواز ہو تو ایسا! پہلے سے اس گنہگار کے لیے سب کچھ تیار تھا ۔ ۔ ۔ رہائش، کھانا پینا، ہوٹل، سب کچھ۔ لوگ جب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ "مدینہ جا رہے ہو، کوئی جاننے والا ہے وہاں پہ؟” تو مجھے حیرت ہوتی ہے۔ پھر میں کہتا ہوں، "ہاں! میرے جاننے والے ہیں،” اور رسول اللہ ﷺ کا نام لے لیتا ہوں۔ وہ کبھی مایوس نہیں ہونے دیتے۔ ان کی مہمان نوازی میں کبھی کمی نہیں آتی۔ پیٹ بھر کر کھلا کے بھیجتے ہیں، سونے اور آرام کا خیال رکھتے ہیں، حتیٰ کہ واپسی پہ گھر والوں کے لیے کھجوروں اور پرفیومز تک کا انتظام کر دیتے ہیں۔

اسی سفر میں میرا اے ٹی ایم کارڈ گھم ہو گیا تھا، جیب میں پیسے نہیں تھے۔ میں نے دل میں بس خیال ہی کیا تھا کہ کیا کروں گا؟ اور جاتے جاتے جب جبار بھائی کی دکان پہ پہنچا تو میں نے کہا، "بھائی! اگر آپ بھروسہ کریں تو میں آپ کے پاکستان والے اکاؤنٹ میں پیسے بھیج دوں گا، مجھے یہاں کچھ ریال دے دیں۔” انہوں نے بغیر پہچانے فوراً بولا، "یہ رسول اللہ ﷺ کا شہر ہے، یہاں دھوکہ بازی نہیں ہوتی، یہ لیں ریال۔” ساتھ میں انہوں نے آگے کے سفر کے لیے کھجور کے تین ڈبے بھی بنا دیے۔ گھر والوں کے لیے کھجور بھی مل گئی اور وہ منگل کا دن جیسے میری ایک پوری زندگی بن گیا۔

درِ حسینؑ سے درِ رسول ﷺ تک، میں گنہگار اپنے دو لیدر تلے (پیشواؤں کے درمیان) ایسے مہمان اور شاہ بن کے چل رہا تھا جیسے حالات، وقت اور راستوں کو میرے لیے مزین کر دیا گیا ہو، جیسے وہاں کا شاہی مہمان کوئی اور نہیں بلکہ میں ناچیز ہوں۔

میں نے اپنے حافظِ قرآن بھانجے عبد الجلیل کو درِ نبیؐ سے پیغام بھیجا کہ "میرے ساتھ مہمان نوازی میں رسولِ خدا ﷺ اور حسین ابنِ فاطمہ و علیؑ یہ پیار عطا فرما رہے ہیں۔” اور مجھے اپنے آپ پر حیرانی بھی ہو رہی تھی۔ اپنے گناہوں کا سمندر آنکھوں کے سامنے تھا اور یہ محبت اور شفقت میری حیثیت اور شخصیت سے بہت بڑھ کر تھی۔ میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ میں تو ان دونوں ہستیوں کے در پہ حاضری کے قابل بھی نہیں، مگر یہ تو مجھ سے پیار، خلوص اور محبت کی انتہا فرما رہے ہیں۔

عبد الجلیل نے کہا، "ماموں! یہ بس خلوص کی بات ہے۔”

قربان جاؤں محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر! صدیاں گزر گئیں، نہ ان کی مہمان نوازی میں کوئی کمی آئی، نہ خلوص میں، نہ محبت میں اور نہ احساس میں۔

وہ منگل کا دن، درِ حسینؑ سے درِ رسول ﷺ تک، میری زندگی کا خوبصورت ترین دن تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

اگر قیامت میں گناہوں کا بوجھ اترا اور شفاعت نصیب ہوئی، تو ان شاء اللہ دونوں حضرات کا شکریہ ادا کروں گا اس دن کے لیے، اس مہمان نوازی، شفاعت اور محبت کے لیے۔

اللہ ان ہستیوں کی محبت میرے دل میں، روح میں، احساس میں اور کردار میں رچا بسائے۔ یہ ہستیاں بہت میٹھی، خوبصورت اور مہمان نواز ہیں۔ مجھ جیسے روز ان کے دربار پہ آتے ہیں اور بہت کچھ لے کر جاتے ہیں۔ نہ ان کی مہمان نوازی میں فرق آتا ہے، نہ خلوص میں، نہ محبت میں۔

درود و سلام ہو محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے