جامعۃ الرشید کراچی، ملک کا ایک معروف اور ممتاز دینی ادارہ ہے۔ اس کی بنیاد حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ نے رکھی۔ اگرچہ مجھے اس ادارے میں باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا، تاہم زمانۂ طالب علمی سے اس ادارے کی خدمات کا معترف اور مداح رہا ہوں۔
میں دینی اور عصری علوم کا طالب علم ہوں، میری نظر میں جامعۃ الرشید نے دینی اور عصری علوم کے امتزاج، جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے دینی علوم کے پروگراموں، اور متعدد تعلیمی اصلاحات کے ذریعے ایک نئی راہ ہموار کی، جس کی اس وقت واقعی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
بعد ازاں جامعۃ الرشید اور مفتی عبدالرحیم صاحب کی قیادت میں الگ وفاقی تعلیمی بورڈ کا قیام اور الغزالی یونیورسٹی کا آغاز بھی ایک اہم پیش رفت تھی۔ اگرچہ ان اقدامات پر ملک بھر میں اختلافات ہوئے اور متعدد اکابر علماء نے بھی سخت تنقید کی، لیکن میں نے بطور طالب علم، ہمیشہ اسے ایک تعلیمی اجتہاد اور اصلاحی کوشش کے طور پر دیکھا۔ آج بھی میرا یہی خیال ہے کہ دینی و عصری علوم کے حسین امتزاج اور تعلیمی جدت کے اس سفر کو آگے بڑھنا چاہیے۔ نئے پروگرام شامل ہونے چاہیے، امت کی دینی ضرورتیں پورا کرنے کی سعی ہونی چاہیے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن صاحب نصف صدی سے ملکی سیاست کا اہم کردار ہیں۔ ان کی سیاسی حکمتِ عملی سے اختلاف کی گنجائش ہمیشہ رہی ہے۔ میں نے خود بھی مختلف مواقع پر جمعیت علماء اسلام پاکستان اور بالخصوص گلگت بلتستان کی تنظیمی سیاست پر تنقیدی کالم لکھے، بار بار لکھے، لیکن وہ ہمیشہ خیرخواہی، اصلاح اور احترام کے دائرے میں تھے، کسی کی ایماء پر نہیں تھے، اسی لیے تعلقات میں کبھی تلخی پیدا نہیں ہوئی۔ اور جی بی کی قیادت سے احترام کا تعلق باقی ہے۔
اسی تناظر میں، میری گزارش صرف یہ ہے کہ جامعۃ الرشید اور اس کی قیادت کی اصل شناخت ایک تعلیمی و تحقیقی تحریک ہے۔ عوام بھی اس ادارے سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی توانائیاں تعلیم، تحقیق، نصاب، جدید علوم، تربیت اور فکری رہنمائی پر صرف کرے۔
یاد رہے کہ اگر جامعہ الرشید اور مفتی عبدالرحیم صاحب کی عوامی شناخت مسلسل سیاسی تبصروں اور شخصیات پر تنقید کے گرد گھومنے لگے اور بار بار پوڈ کاسٹوں کے ذریعے مولانا فضل الرحمن صاحب کی اصلاح اور سیاسی تربیت ہونے لگے، تو خدشہ ہے کہ اس کی تعلیمی شناخت پس منظر میں چلی جائے۔ اور لوگ پھر اسی انداز میں جامعۃ الرشید اور مفتی عبدالرحیم صاحب کے ساتھ سلوک کرنے لگیں گے۔
پاکستان میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، جامعہ دارالعلوم کراچی، جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ فاروقیہ اور جامعہ دارالعلوم حقانیہ جیسے ادارے بھی مختلف سیاسی آراء رکھتے ہیں، اور مولانا فضل الرحمن صاحب سے بھی سیاسی و فکری اختلاف کرتے آئے ہیں، مولانا صاحب اور ان کی جماعت کے لوگ اچھی طرح جانتے بھی ہیں تاہم مولانا اس کے باوجود ان سب کیساتھ بہترین تعلقات رکھتے ہیں، یہ ادارے اور ان کے شخصیات بھی باوجود اختلاف کے وتعاونوا علی البر والتقوى کی بنیاد پر چلتے ہیں اور مولانا بھی ان کے کام آتے ہیں۔ ان اداروں اور شخصیات کی بنیادی شناخت ہمیشہ علمی و تعلیمی اور دینی رہی ہے۔ اختلافات کے باوجود ان اداروں اور مختلف سیاسی قیادتوں کے درمیان احترام اور تعاون کا رشتہ قائم رہا، کیونکہ انہوں نے ادارے کی علمی حیثیت کو سیاسی کشمکش سے بالاتر رکھا۔ اس طرح کے پوسٹ کاسٹ ریلیز نہیں کیے جو جامعۃ الرشید اور مفتی عبدالرحیم صاحب کی طرف سے ہورہے ہیں۔
میں یہاں خصوصیت کیساتھ مولانا سمیع الحق شہید رحمہ اللہ کی مثال دینا چاہونگا، انہوں نے سیاست بھی کی اور ایک سیاسی جماعت کی قیادت بھی کی، لیکن دارالعلوم حقانیہ کی ادارہ جاتی شناخت کو حتی المقدور سیاسی مناظروں سے الگ رکھا۔ یہی طرزِ عمل تعلیمی اداروں کے وقار کے زیادہ قریب محسوس ہوتا ہے۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے کبار اساتذہ مولانا فضل الرحمن صاحب کی جماعت سے وابستہ ہیں لیکن مولانا سمیع الحق شہید نے کھبی اس چیز کی پروا نہیں کی، بلکہ اشارۃً بھی ان اساتذہ اور طلبہ کو موٹیویٹ نہیں کیا، جس کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن سمیت کسی بھی سیاسی جماعت اور شخص کا دارالعلوم حقانیہ کے حوالے سے دل خراب نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ ہی تعاون و احترام کا رشتہ باقی رہا۔ اگر کھبی شکایت بھی ہوئی تو جامعہ حقانیہ کے مہتمم اور استاد الحدیث مولانا سمیع الحق سے نہیں، بلکہ جمیعت علماء اسلام (س) کے امیر سے ہوئی۔ تو جامعۃ الرشید اور مفتی عبدالرحیم صاحب کو ان سب سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ جامعۃ الرشید سے بھی قوم کی بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ اگر اس ادارے کی گفتگو کا مرکز جدید تعلیمی منصوبے، الغزالی یونیورسٹی کی پیش رفت، تحقیقی مراکز، نصابی اصلاحات، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، دعوت، معیشت اور عصری تقاضوں اور ملی ضروریات کے مطابق علماء اور محققین کی تیاری ہو تو یقیناً اس کے اثرات زیادہ دیرپا اور مفید ہوں گے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن ایک تعلیمی ادارے کی اصل طاقت اس کا علمی سرمایہ ہوتا ہے۔ اسی سرمایہ کو بچانا مفتی عبدالرحیم صاحب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
میں بطور طالب علم مفتی عبدالرحیم صاحب کی خدمت میں چند مخلصانہ تجاویز پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں، دور گلگت سے یہ گزارشات اس نیت کیساتھ پیش کی جارہی ہیں تاکہ آپ سنجیدگی سے غور کر کے ہم جیسے نیک امیدیں رکھنے والوں کو مایوس نہیں کریں گے۔ تجاویز ملاحظہ فرمائیں۔
جامعۃ الرشید کی اصل شناخت کو تعلیم، تحقیق اور تربیت تک محدود رکھنے کی کوشش کیجیے۔
الغزالی یونیورسٹی کو اسلامی دنیا کی ایک ممتاز تحقیقی یونیورسٹی بنانے کے لیے مزید منصوبے متعارف کرائیے۔
جدید علوم، مصنوعی ذہانت، معاشیات و اقتصادیات، قانون و فقہ، میڈیا اور بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھنے والے علماء تیار کرنے پر خصوصی توجہ دیجیے۔
سیاسی چپقلشوں اور اختلافات سے دور رہیں ، تاکہ ادارے کی غیر جانب دار علمی ساکھ برقرار رہے۔
قوم کو زیادہ سے زیادہ تعلیمی اصلاحات، تحقیقی کامیابیوں اور نئے منصوبوں سے آگاہ کیجیے، یہی آپ کی سب سے بڑی دعوت اور پہچان بن سکتی ہے۔
جناب مفتی صاحب! سب سے اہم اور آخری گزارش یہی ہے کہ اگر سیاسی میدان میں فعال کردار ادا کرنا مقصود ہے، تو اسے ادارے کی تعلیمی شناخت سے الگ رکھنا زیادہ مناسب ہوگا، تاکہ جامعۃ الرشید اور الغزالی یونیورسٹی کی علمی حیثیت ہر قسم کے سیاسی تنازعات سے محفوظ رہے۔اور اس کے لیے باقاعدہ ایک سیاسی جماعت بناکر اس فعالیت کا مظاہرہ کیجئے۔ یہی آپ اور ادارہ دونوں کے لیے بہتر ہوگا۔
اس میں دو رائے نہیں کہ جامعۃ الرشید کا شمار بلاشبہ پاکستان کے ممتاز دینی اداروں میں ہوتا ہے۔ اس ادارے نے دینی و عصری علوم کے امتزاج، جدید تعلیمی منصوبوں، صحافت اور فکری اصلاح کے میدان میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ قابل قدر ہیں اور ان کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔اسی وجہ سے اس ادارے سے وابستہ توقعات بھی غیر معمولی ہیں۔
دور گلگت بلتستان سے میری یہ گزارشات، مخالفت یا تنقیص کے جذبے سے نہیں بلکہ ایک خیر خواہ طالب علم اور قلم کار کی حیثیت سے ہے کہ جامعۃ الرشید اپنی اصل شناخت، یعنی علم و عمل، تحقیق و تدقیق ، دعوت و تبلیغ، تربیت و حسن سلوک اور تعلیمی اصلاحات و اجتہادات کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ادارے کی ساکھ بھی مضبوط ہوگی، امت کو فائدہ بھی پہنچے گا اور آنے والی نسلیں بھی اس کے علمی فیض سے مستفید ہوں گی۔ اختلافات آتے رہتے ہیں، مگر اداروں کی دائمی عظمت ان کے علمی کردار، اعتدال اور وسعتِ ظرف سے قائم رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ جامعۃ الرشید، اس کے ذمہ داران، تمام دینی جامعات اور اہل علم کو اخلاص، اعتدال اور امت کی حقیقی علمی خدمت کی توفیق عطا فرمائے، اور اختلافات کو خیر، حکمت اور باہمی احترام کا ذریعہ بنائے۔ اور بالخصوص جامعۃ الرشید اور مفتی عبدالرحیم صاحب کو سیاسی محاذ آرائی سے بچتے ہوئے تعلیمی قیادت فراہم کرنے کی توفیق عطاء فرمائے، آمین۔