کچے کا خوفناک استعارہ، ریاستی رٹ کے لیے ایک بڑا چیلنج

سندھ اور جنوبی پنجاب کے دریا برد علاقوں پر مشتمل “کچا” اب ایک جغرافیائی خطہ نہیں رہا ہے وقت کے ساتھ یہ ایک ایسے خوفناک استعارے میں بدل چکا ہے جہاں ریاستی رٹ کی کمزوری اور جرائم پیشہ عناصر کی منظم موجودگی نے ایک مستقل خطرے کی صورت اختیار کر لی ہے۔ دریاؤں کے درمیان پھیلے ہوئے ان دشوار گزار علاقوں میں برسوں سے ایسے منظم گروہ سرگرم رہے ہیں جو اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ڈکیتی، قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ یہ گروہ وقت کے ساتھ اپنی حکمت عملیوں کو جدید بناتے گئے اور انہوں نے اپنے نیٹ ورک کو اس قدر منظم اور پیچیدہ بنا لیا ہے کہ آج یہ پورا خطہ ایک مستقل سیکیورٹی چیلنج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ابتدائی طور پر یہ گروہ روایتی ڈاکوؤں کی شکل میں سامنے آئے تھے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کی سرگرمیاں ایک باقاعدہ جرائم کی معیشت میں تبدیل ہو گئیں۔ اب یہ صرف لوٹ مار تک محدود نہیں رہے بلکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شہریوں، مسافروں اور بعض اوقات سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ اغوا کے بعد متاثرین کو نامعلوم اور دشوار گزار مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے، ان پر تشدد کیا جاتا ہے اور پھر ان کی ویڈیوز بنا کر خوف پھیلانے اور دباؤ بڑھانے کے لیے سوشل میڈیا پر جاری کی جاتی ہیں۔ مقصد واضح ہوتا ہے: زیادہ سے زیادہ تاوان کا حصول اور معاشرے میں دہشت کی فضا قائم رکھنا۔ بعض اوقات مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں یہ گروہ انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یرغمالیوں کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

ان جرائم پیشہ عناصر نے سوشل میڈیا کو بھی ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جہاں بعض افراد خود کو ترجمان کے طور پر پیش کرتے ہوئے ریاستی اداروں کو کھلے عام چیلنج کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید اسلحے جیسے راکٹ لانچر، مارٹر اور دیگر بھاری ہتھیاروں تک رسائی نے ان کی طاقت میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث ان کے خلاف کارروائیاں مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو گئی ہیں۔ اگرچہ مختلف اوقات میں بڑے پیمانے پر آپریشنز کیے گئے، تاہم اس کے باوجود ان گروہوں کی مکمل بیخ کنی ایک مستقل اور انتہائی مشکل چیلنج بنی ہوئی ہے۔

اسی کشیدہ صورتحال کے درمیان حال ہی میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت سامنے آیا جب پشاور سے تعلق رکھنے والی گیارہ سالہ کمسن بچی حورم سعید مبینہ طور پر کچے کے علاقے میں انہی خطرناک جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں اغوا ہو گئی۔ یہ واقعہ صرف ایک گھر یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک طرف معصوم بچی کی گمشدگی کا دکھ اور دوسری طرف ایک ماں کی بے بسی نے ہر حساس دل کو متاثر کیا۔ بچی کی بازیابی کے لیے ماں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، ہر ممکن کوشش کی اور ان علاقوں تک بھی پہنچنے کی سعی کی جہاں جانا خود ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم اس دوران اسے شدید ذہنی اذیت، مشکلات اور مبینہ ہراسانی جیسے حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر اس کے باوجود ابتدائی طور پر بچی کی واپسی ممکن نہ ہو سکی۔

اس واقعے نے متاثرہ خاندان کو گہرے صدمے میں مبتلا کیا بلکہ پورے علاقے میں خوف، بے یقینی اور اضطراب کی فضا مزید گہری ہو گئی۔ عوامی سطح پر اس واقعے کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں اور مختلف سماجی و قبائلی حلقوں نے بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متاثرہ خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ مسلسل دباؤ اور عوامی ردعمل کے بعد ریاستی اداروں نے بھی صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے کچے کے علاقے میں ایک منظم اور بھرپور آپریشن کا آغاز کیا، جس کا بنیادی مقصد مغوی بچی کی بحفاظت بازیابی تھا۔

یہ کارروائی ایک مشکل اور حساس ماحول میں کی گئی، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پیشہ ورانہ مہارت اور حکمت عملی کے ساتھ پیش رفت کی۔ طویل اور پیچیدہ آپریشن کے دوران دو مختلف مغوی بچیوں کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا، جن میں حورم سعید بھی شامل تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس کارروائی کے دوران کچھ مقامات پر مزاحمت بھی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں مبینہ اغوا کاروں کے ساتھ مقابلے اور جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ بازیاب ہونے والی بچیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔

بچی کی بازیابی کی خبر سامنے آتے ہی متاثرہ خاندان اور علاقے میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ وہ ماں جو دن رات اپنی بیٹی کی تلاش میں بے قرار رہی تھی، بالآخر اپنی بچی کو دوبارہ اپنے سینے سے لگا سکی۔ یہ لمحہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے خوشی کا باعث بنا بلکہ اس نے ایک بار پھر یہ احساس اجاگر کیا کہ مشکل اور خطرناک حالات کے باوجود اگر ریاستی ادارے اور عوامی دباؤ ایک ساتھ ہوں تو ایسے پیچیدہ مسائل کا حل ممکن ہے۔

تاہم اس واقعے کے بعد بھی کئی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔ آخر یہ گروہ اتنے مضبوط کیسے ہو گئے کہ وہ برسوں سے ریاستی چیلنج بنے ہوئے ہیں؟ کیوں اب تک ایسے علاقوں میں مکمل امن قائم نہیں ہو سکا؟ اور کب تک عام شہری اس غیر یقینی صورتحال کا شکار رہیں گے؟ یہ سوالات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے محض وقتی کارروائیاں کافی نہیں ہیں، بلکہ ایک مستقل، مربوط اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

یہ واقعہ ایک طرف ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ ایک معصوم بچی کو بازیاب کرا لیا گیا، مگر دوسری طرف یہ حقیقت بھی واضح کرتا ہے کہ جب تک ان جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی مکمل بیخ کنی نہیں کی جاتی، اس وقت تک معاشرے میں مکمل امن و سکون کا خواب ادھورا رہے گا۔ اس لیے ناگزیر ہے کہ ریاستی ادارے نہ صرف اپنی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنائیں بلکہ ان علاقوں میں مستقل نگرانی، ترقیاتی اقدامات اور اجتماعی سطح پر اعتماد کی بحالی کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کریں، تاکہ آئندہ کسی اور گھر کو اس طرح کے کربناک امتحان سے نہ گزرنا پڑے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے