غلام محمد قاصر ؛ شخصیت وفن ، ایک تجزیہ

آج مجھے اپنے ہمدم دیرینہ ڈاکٹر طارق ہاشمی کی کتاب”غلام محمد قاصر۔ شخصیت وفن“پر بات کرنی ہے۔یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے شروع کئے گئے سلسلے ”پاکستانی ادب کے معمار“ کا تسلسل ہے۔ حال ہی میں میری اور شہاب صفدر کی کتب بھی اسی سلسلے کے تحت شائع ہوئی ہیں۔

اردو غزل کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی میں جو چند نمایاں نام ہمارے سامنے آتے ہیں،ان میں ایک نام غلام محمد قاصر کا بھی ہے۔میں ادب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے کالج کے زمانے میں غلام محمد قاصر کے نام سے روشناس ہوا۔اُن کے جداگانہ اسلوب نے ادب کے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ مجھے ان سے ملنے کا شرف تو حاصل نہ ہو سکا کہ جب میری تعیناتی ڈیرہ اسمعیل خان میں ہوئی تو وہ اس دارِفانی سے رخصت ہو چکے تھے مگر ڈیرہ اسمعیل خان میں قیام کے دوران ان کے بارے میں جاننے کا بہت زیادہ موقع ملا ۔ سعید احمد اختر، الطاف صفدر اورمحمد ابراہیم ذوق جیسے بزرگوں سے ان کی نسبت بہت کچھ سنا۔

بھلا ہو، اکادمی ادبیات پاکستان کا کہ انہوں نے غلام محمد قاصر کی شخصیت اور فن کے حوالے سے کام کرنے کے لیے ایسے فرد کا انتحاب کیا جو اس موضوع پر سند کا درجہ رکھتا ہے۔ تحقیق ایک مشکل کام ہے۔ ممدوح کے لواحقین سے کوائف اکھٹے کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بقول طارق ہاشمی ”تخلیق کار کی اولادِ معنوی اسے زندہ رکھتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ اولادِ حقیقی بھی سعادت مند ثابت ہو۔ بیشتر اوقات صورتِ حالات نہایت مختلف بلکہ تلخ ثابت ہوتی ہے۔ غلام محمد قاصر اس سلسلے میں نہایت نصیب والے تھے کہ ان کی اولادِ حقیقی ان کے حق میں نہایت سعادت مند ثابت ہوئی۔“

لیکن میں سمجھتا ہوں کہ طارق ہاشمی بھی بہت خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایک ایسی شخصیت پر کام کرنے کا موقع ملا، جس شخصیت کا پوراخاندان ”ایں خانہ ہمہ آفتاب است“ کے مصداق ہے۔عمومی طور پر ممدوحین کے متعلقین، محققین کے ساتھ سوانحی کوائف کی دستیابی کے سلسلے میں تعاون نہیں کرتے مگر غلام محمد قاصر پر تحقیقی کام کرتے وقت ان کے متعلقین نے محقق،ڈاکٹر طارق ہاشمی کے ساتھ حد درجہ تعاون کیا جس کا اعتراف ڈاکٹر صاحب نے کتاب کے دیباچے میں بطور خاص کیا ہے۔

ڈاکٹر طارق ہاشمی نے اس کتاب میں غلام محمد قاصر کی سوانح اور ادبی خدمات کو نہایت عرق ریزی سے تحریر کیا ہے۔ اکثر لوگ غلام محمد قاصر کی شعری روایت سے توآگاہ ہیں مگر وہ ان کی نثری کاوش سے لا علم ہیں۔ڈاکٹر طارق ہاشمی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے اس کتاب کے تیسرے باب میں غلام محمد قاصر کی نثری کاوش کا مفصل ذکر کیا ہے۔

تحقیق ایک مشکل کام ہے مگر ڈاکٹر طارق ہاشمی کواللہ تعالی نے محققانہ اوصاف سے مالا مال کر رکھا ہے۔انہوں نے نہایت استقامت، ذمہّ داری اورغیر جانب داری سے نامعلوم کو معلوم کرنے کی سعی کی ہے جو تحقیق کا اصل مقصد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے تحقیقی عمل کی بنیاد منطقی اور معروضی معیارات پر رکھی ہے اور انہوں نے ذاتی جذبات و تعصبات کو کسی بھی سطح پر تحقیقی عمل میں داخل نہیں ہونے دیا۔ محقق نے تمام تر موصولہ مواد کا تجزیہ کیا اورچھان پھٹک کے بعد صرف اس مواد کو اپنی تحقیق میں شامل کیا جو مستند تھا۔

ڈاکٹر صاحب نے اکثر اوقات بنیادی مآخذ سے استفادہ کیا ہے۔ ذاتی اور سرکاری دستاویزی ریکارڈ کواہمیت دی گئی ہے اورحسبِ ضرورت زبانی روایات سے بھی استفادہ کیا گیا ہے جو آسانی سے غلام محمد قاصر کے خانوادے سے دستیاب ہو سکتی تھیں ۔ گویا انہوں نے تحقیق کے لئے حصولِ مواد کے تمام طریقوں اور وسائل کو بہترین طریقے سے استعمال کیا ہے۔ میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ڈاکٹر طارق ہاشمی کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے۔ میں اپنی بات کا اختتام غلام محمد قاصر کی اس مشہورِزمانہ غزل کے اشعار سے کرنا چاہوں گا۔

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے
گھستے گھستے گھس گئے آخر،کنکر جو نوکیلے تھے

سارے سپیرے ویرانوں میں گھوم رہے ہیں بِین لیے
آبادی میں رہنے والے سانپ بڑے زہریلے تھے
تم یوں ہی ناراض ہوئے پو ورنہ مے خانے کا پتا
ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے
کون غلام محمد قاصر ؔ بے چارے سے کرتا بات
یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے