نہ ہو جہاں انصاف کی کوئی روشنی
وہ معاشرہ مہذب کہلانے کے قابل نہیں
(آمنہ درانی)
یہ شور سنتے سنتے ہمارے کان تھک چکے ہیں کہ معاشرے میں زیادتی، جنسی تشدد اور ظلم کے واقعات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ کبھی ان جرائم کا ذمہ دار تربیت کی کمی کو قرار دیا جاتا ہے، کبھی والدین کی غفلت کو اور کبھی معاشرتی بے راہ روی کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔
بلاشبہ یہ عوامل اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ایک تلخ حقیقت ایسی بھی ہے جس پر کم ہی لوگ کھل کر بات کرتے ہیں اور وہ حقیقت ہمارے معاشرے میں موجود دوغلے نظامِ انصاف کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم صرف اخلاقی تربیت پر سوالیہ نشان نہیں ہوتے بلکہ وہ اس معاشرے کے عدل و انصاف کے نظام کی ناکامی کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ جب ایک ہی قانون امیر اور غریب کے لیے مختلف انداز میں استعمال ہونے لگے تو جرائم میں اضافہ ہونا ایک فطری عمل بن جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جہاں غریب ہو وہاں قانون کی آنکھیں بہت تیز ہو جاتی ہیں لیکن جہاں طاقت، اثر و رسوخ اور دولت موجود ہو وہاں یہی قانون اندھا دکھائی دینے لگتا ہے۔ گویا اسے نہ کچھ سنائی دیتا ہے اور نہ ہی کچھ دکھائی دیتا ہے۔
طاقتور افراد اکثر بڑے سے بڑا جرم کرنے کے باوجود قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں جبکہ کمزور اور غریب افراد معمولی غلطیوں پر بھی سخت سزاؤں کا سامنا کرتے ہیں۔
یہی ناانصافی عوام کے دلوں سے قانون کا خوف اور انصاف پر اعتماد ختم کر دیتی ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ انصاف صرف کمزور طبقے کے لیے ہے تو معاشرے میں بے چینی، غصہ اور جرائم بڑھنے لگتے ہیں۔
خواہ وہ معصوم زینب جیسی بچی ہو یا معاشرے میں موجود کسی بھی گھر کی بیٹی …… یہ ایک افسوسناک حقیقت بنتی جا رہی ہے کہ بعض درندہ صفت افراد کے لیے دوسروں کی عزت، حرمت اور جان سے کھیلنا ایک معمول بن چکا ہے۔ ایسے افراد یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر ان کے پاس دولت، تعلقات یا طاقت موجود ہے تو وہ قانون کا رخ موڑ سکتے ہیں، عدالتوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اپنے اوپر عائد الزامات سے بچنے کے راستے تلاش کر سکتے ہیں۔
اس قسم کے واقعات پر میں کئی مرتبہ قلم اٹھا چکی ہوں۔ میں نے نہ صرف ان کے خلاف آواز بلند کی بلکہ ان کے حل کے لیے بھی بارہا بات کی مگر ہر بار ایک ہی تلخ حقیقت سامنے آتی رہی۔ اس بار میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ جب تک قانون کو حقیقی معنوں میں عملی طور پر نافذ نہیں کیا جائے گا تب تک معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم، زیادتی اور جنسی تشدد کے واقعات کو ہرگز کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔
صرف بیانات، وقتی شور یا سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کافی نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر بڑے مقدمات وقت گزرنے کے ساتھ دب جاتے ہیں گواہ دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں متاثرہ خاندان انصاف کے حصول کے لیے سالہا سال دروازے کھٹکھٹاتے رہتے ہیں اور تھک جاتے ہیں جبکہ بااثر افراد اپنے تعلقات اور دولت کے ذریعے قانونی کارروائی کو کمزور کر دیتے ہیں۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس پر بات کرنے سے اکثر لوگ گریز کرتے ہیں۔
کسی بھی معاشرے میں امن اسی وقت قائم ہوتا ہے جب مظلوم کو انصاف اور مجرم کو فوری سزا ملے۔ سزا کا مقصد صرف مجرم کو سزا دینا نہیں بلکہ پورے معاشرے کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں میں قانون بلاامتیاز نافذ کیا گیا وہاں جرائم کی شرح کم رہی کیونکہ مجرم جانتے تھے کہ وہ کسی صورت سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔
کیا ہر بار کوئی مسیحا آئے گا اور ہمارے مسائل کا حل نکالے گا؟ ہرگز نہیں۔ کسی بھی معاشرے کی اصلاح صرف ایک فرد یا چند لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ یہ پورے سماج کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ والدین، اساتذہ، ادارے، میڈیا اور ریاست سب کو اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔
ہمیں نئی نسل کو صرف اخلاقیات نہیں بلکہ انصاف، احترامِ انسانیت اور قانون کی برابری کا شعور بھی دینا ہوگا۔
ہمیں خود سے یہ سوال بھی کرنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ معاشرہ فراہم کر رہے ہیں؟ یا پھر ہم انہیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ طاقتور اور دولت مند افراد کسی بھی جرم کے بعد بچ نکلنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اگر ایک بچہ اپنے اردگرد یہی نظام دیکھے گا کہ طاقتور کے لیے قانون نرم اور کمزور کے لیے سخت ہے تو اس کی سوچ اور تربیت پر بھی منفی اثر پڑے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر ظلم کے خلاف کھڑے ہوں، قانون کے یکساں نفاذ کا مطالبہ کریں اور ایسے نظام کے قیام کے لیے آواز بلند کریں جہاں کسی بھی مجرم کو صرف اس کے اثر و رسوخ یا دولت کی بنیاد پر معافی نہ مل سکے۔ کیونکہ ایک محفوظ، مہذب اور پُرامن معاشرہ صرف نعروں سے نہیں بلکہ انصاف کے حقیقی اور بلاامتیاز نفاذ سے قائم ہوتا ہے۔