اسفارِ حج: قسط نمبر 2

کعبے کی حدود میں مامتا کی تلاش اور ایک دیوانے کی پکار

والدہ صاحبہ کے لیے حج کی تڑپ میرے دل میں اللہ پاک نے میرے پہلے حج کے دوران ہی ڈال دی تھی۔ میری والدہ صاحبہ اللہ پاک جنت الفردوس میں ان کو اعلیٰ مقام عطا فرمائے،وہ اخلاق کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز تھیں۔ وہ محبت و شفقت کا ایک شاندار نمونہ اور نہایت باہمت خاتون تھیں۔ کینسر جیسے موذی مرض سے بہادری سے لڑیں، مگر جانبر نہ ہو پائیں اور نومبر 2014 میں خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں سب کچھ آ جائے، لیکن اگر ماں باپ کی آنکھیں سامنے نہ ہوں تو سب کچھ ادھورا لگتا ہے۔

بہر حال، میں اکثر سوچتا ہوں کہ میں اپنی والدہ کا حق کیسے ادا کر سکتا ہوں؟ کیا حج سے یا کسی اور عمل سے یہ حق ادا ہو سکتا ہے؟ یہ تو سراسر ناممکن ہے! میری بی بی کا حق تو کسی صورت ادا ہو ہی نہیں سکتا، یہ بات تو طے ہے۔

ہاں، مگر دل کی تسلی کے لیے میں حج ضرور کروں گا، تاکہ چلو بروزِ قیامت ان کے سامنے جب کھڑا ہوں تو اور کچھ نہ سہی، اپنی یہ چھوٹی سی خدمت ہی پیش کر دوں کہ "امی! میں نے آپ کے لیے حج کیا ہے”۔ یہ انہی ماں کے قدموں کی خدمت کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے، جنہیں میں اکثر چوم کر گھر سے باہر نکلا کرتا تھا۔

میں نے کسی روایت میں سنا تھا کہ اگر ایک انسان اپنی ماں کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر کئی سو مرتبہ بھی کعبے کا طواف کرائے، تو وہ اس ایک رات کا مقابلہ بھی نہیں کر پاتا جب انسان چھوٹا ہوتا ہے اور اپنی ماں کی گود میں پیشاب کر دیتا ہے، اور ماں اس گیلی طرف خود لیٹ جاتی ہے اور اپنے بچے کو خشک طرف رکھتی ہے۔

ایک ماں، اور پھر میری ‘بی بی’ کی مامتا کا حق۔۔۔ ایک حج کیا، ہزار، کروڑ یا بے حساب حج بھی کبھی پورا نہیں کر سکتے اور نہ کبھی کر پائیں گے۔ رحیم شاہ اگر لامحدود عرصے تک بھی زندہ ہو، پھر زندگی بھر حج کرے، اور پھر یہ ترتیب بے حساب مرتبہ چلے، تب بھی ماں کا حق ادا نہیں ہو سکتا، نہیں ہو سکتا، نہیں ہو سکتا۔

جب بھی مجھے میری والدہ کی یاد آتی ہے، تو میں گویا دیوانہ سا ہو جاتا ہوں۔ مجھے اپنی والدہ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ایسا ہی ایک منظر اس وقت پیش آیا جب جمعے کا مبارک دن تھا اور میں حرم پاک میں اپنے لیے حج کے فرائض کی سرانجام دہی میں مگن تھا کہ اچانک میری ‘بی بی’ کا خیال گرد و پیش کو چیرتا ہوا مجھے آ پہنچا۔ میں کعبے کی حدود سے نکلتا ہوا، زار و قطار روتا جا رہا تھا اور دل میں ایک ہی صدا تھی:

> "میرے اللہ! مجھے میری بی بی چاہیے۔ مجھے پتہ ہے وہ فوت ہو گئی ہیں، لیکن مجھے نہیں پتہ، مجھے میری بی بی سے ملواؤ۔ مجھے اپنی والدہ کو دیکھنا ہے۔ جو کرنا ہے کرو، میرے رب تم جانو اور تمہارا کام! مجھے میری ماں چاہیے، ابھی کے ابھی۔”

میرا اللہ بڑا مہربان ہے، وہ سب کی باتیں سنتا ہے۔ دیوانوں کی، پاگلوں کی، اور ضد کرنے والے محبت کرنے والوں کی تو وہ ضرور سنتا ہے۔ اب اس دیوانگی اور محبت کے عالم میں کب میرے رب نے مجھے مکہ کی گلیوں سے واپس بیت اللہ کی جانب موڑ دیا، مجھے پتا ہی نہ چلا اور میں واپس کعبہ پہنچ گیا۔

میں اپنی والدہ کی یادوں میں گم، ایک پاگل کی مانند کعبہ شریف کی طرف جا رہا تھا کہ کسی نے مجھے روکا۔ وہ ایک بھائی تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: "کیا آپ کو پشتو آتی ہے؟”
میں نے سر ہلایا کہ "ہاں۔”
انہوں نے کہا: "یہ ایک اماں جی گم ہو گئی ہیں، ان سے پشتو میں پوچھیں کہ یہ کیا کہنا چاہتی ہیں؟”

میں نے جب اس اماں جی کی طرف دیکھا تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ ان کے پیر ہو بہو میری بی بی جیسے تھے، ہاتھ میری بی بی جیسے تھے، چہرے پر ماں کی وہی شفقت اور بات کرنے کا انداز بھی بالکل میری بی بی جیسا تھا۔ میں ہکا بکا رہ گیا! اپنی بی بی سے ملنے والی دعا کی قبولیت پر میں حیران و پریشان کھڑا تھا، جیسے میرے رب نے فرما دیا ہو: "یہ لو رحیم! اپنی ماں سے مل لو”۔

جمعے کا دن تھا، مجھے طوافِ حج کرنا تھا اور میں روتی ہوئی آنکھوں میں آنسو سمیٹتے ہوئے اماں جی کے پاس گیا اور پوچھا: "اماں جی! مسئلہ کیا ہے؟”

ماں جی نے تڑپ کر کہا: "بیٹا! میرا بیٹا دکھی ہوگا، میں کل سے کھو گئی ہوں اور پتا نہیں میرا بیٹا کتنا پریشان ہو رہا ہوگا۔”

میں نے ماں جی سے پوچھا: "اماں! کچھ کھایا ہے؟”
کہنے لگیں: "کل سے کچھ نہیں کھایا، مگر میرا بیٹا پریشان ہو رہا ہوگا۔۔۔”

یہ ہوتی ہے ماں کی محبت اپنے بیٹے کے لیے! اسے اپنی بھوک کی نہیں، اپنے بچے کی فکر تھی۔

میں نے ساتھ کھڑے لوگوں کی پروا کیے بغیر اماں جی سے فوراً پوچھنا شروع کیا کہ "اماں جی! آپ نے شیطان کو کنکریاں مارنے والا عمل (رمی) کیا ہے کہ نہیں؟” کیونکہ جمرات کے فرائض کی ادائیگی کا وہ آخری دن تھا اور نہ ہی اماں نے ابھی تک طوافِ حج کیا تھا۔ میں نے اماں جی کے سرکاری حج کارڈ پر لکھے نمبر پر کال کی تو پاک حج مشن کے بندے نے کہا: "بھائی! اماں کو آپ ہی ان کے خیمے میں پہنچائیں، کیونکہ جب تک ہم پہنچیں گے، اماں کے فرائضِ حج اور مناسک رہ جائیں گے۔”

اس صورتحال میں اللہ کی توفیق اور اماں جی کا چہرہ اور شخصیت جو کہ بالکل میری والدہ جیسی تھی، میرے لیے حکم بن گئی۔ پھر کیا تھا، کہیں سے وہیل چیئر پکڑی، اماں کو بٹھایا اور میں نے اور میری بی بی جیسی اماں نے ایک ساتھ طوافِ حج کیا، جمعہ ایک ساتھ پڑھا، صفا مروہ کی سعی کی اور پھر چل پڑے منیٰ جمرات کی جانب۔

اماں کے پیروں میں چپل نہیں تھی۔ میں نے اپنے جوتے اتارے، اماں کی خدمت میں پیش کیے اور خود ننگے پیر تپتی ہوئی سڑک پر چل پڑا۔ راستے میں جناب مرتضیٰ جاوید عباسی صاحب بھی ملے، میں نے ان سے کہا: "سر! یہ پروٹوکول کی جگہ نہیں ہے۔” وہ سمجھدار آدمی تھے، کہنے لگے: "اماں جی کو پہنچاؤ اور اگر پیسوں کی ضرورت ہے تو۔۔۔” انہوں نے جیب پر ہاتھ رکھا۔ میں نے کہا: "نہیں سر، ضرورت نہیں ہے۔”

اور میں اپنی دعاؤں سے ملی اس اماں جی کو 10 سے 12 کلومیٹر پیدل لے کر جمرات پہنچا۔ وہاں ان سے شیطان کو کنکریاں مروائیں اور جب خیمے میں پہنچے تو عشاء کی اذانیں ہونے کو تھیں۔ اماں جی کا خیمہ مزدلفہ کے قریب تھا۔

جب میں اماں کے ساتھ ان کے خیمے میں داخل ہوا، تو اماں جی کے رشتہ دار روتے ہوئے ان سے ملے اور انہیں گلے لگا لیا۔ سب سے جذباتی وقت وہ تھا جب اماں کا بیٹا جو کہ ایک مفتی صاحب تھے۔اپنی کھوئی ہوئی ماں سے ملا۔ دونوں گلے لگ کر خوب روئے، اور میں نے اس وقت آسمان کی طرف دیکھا اور سوچا کہ: "میری اصلی ماں، میری بی بی، ضرور جنت سے یہ سب کچھ دیکھ کر مسکرا رہی ہوں گی۔۔۔”

وہاں موجود ایک بندے نے کہا: "اللہ کمبڑ ک کے بازاروں میں اس نیکی کا اجر دے۔” کسی ایک نے خوشی میں 100 ریال میری طرف بڑھائے، میں نے وہ رقم واپس کر دی اور کہا: "بس دعا کیجیے گا، اماں! بھائی! آپ سب لوگ دعا کریں کہ اللہ مجھے میری اپنی والدہ کے لیے حج کرنے کا موقع دے۔”

یہ دعا کیسے قبول ہوئی؟ اور میں نے اپنی والدہ صاحبہ کے لیے اگلے سال یا اس سے اگلے سال حج کیسے کیا؟ انشاء اللہ، یہ داستانِ شوق اگلے کالم میں بیان کروں گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے