بے بنیاد تعصب

ہمارا پیارا وطن پاکستان ایک خوبصورت چمن کی مانند ہے، جہاں مختلف رنگ، نسل، زبان، مذہب اور عقیدے سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے ہیں۔ یہی تنوع دراصل ہماری خوبصورتی اور طاقت ہے۔ مگر افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس چمن میں نفرت، تعصب اور تقسیم کی ایسی ہوائیں چل پڑی ہیں جنہوں نے بھائی کو بھائی سے دور کر دیا۔ کبھی فرقے کے نام پر، کبھی زبان کے نام پر، کبھی صوبائیت اور کبھی نسلی عصبیت کے ذریعے ہمارے درمیان فاصلے پیدا کیے جا رہے ہیں۔

چند دہائیاں پہلے تک ہمارے معاشرے میں وہ شدت نہیں تھی جو آج دکھائی دیتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔ عید، خوشی اور غم سب مل کر بانٹتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ بیرونی قوتوں کے مذموم عزائم اور اندرونی مفادات نے ہمارے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کر دیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے ایک دوسرے پر الزام لگانے لگے ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا جس نے دل کو شدید دکھ پہنچایا۔ مصنف کا تعلق بھی اسی دھرتی خیبر پختونخوا سے ہے اور وہ ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ عید کی تعطیلات شروع ہوتے ہی قبائلی علاقوں اور گرد و نواح سے نوجوانوں کے جتھے پشاور آ جاتے ہیں، پارکوں اور تفریحی مقامات پر قبضہ جما لیتے ہیں ۔لمبی لمبی قمیضیں پہنے یہ نوجوان ہلڑ بازی کرتے ہیں ۔خواتین پر آوازیں کستے ہیں جس کی وجہ سے پشاور کے شہری اپنے خاندانوں کے ساتھ باہر نہیں نکل سکتے۔ انہوں نے یہاں تک تجویز دے دی کہ باہر سے آنے والے ان نوجوانوں کے داخلے پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ یہ الفاظ پڑھ کر دل میں عجیب سی ٹھیس اٹھی۔ میں سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ آخر ہم کب تک اپنے ہی لوگوں کو اجنبی سمجھتے رہیں گے؟ کیا یہ نوجوان اس ملک کے شہری نہیں؟ کیا ان کا پاکستان پر اتنا حق نہیں جتنا ہمارا؟آخر کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے علاقوں کو چھوڑ کر پشاور کا رخ کرتے ہیں ۔۔۔کیا ہم نے کبھی اس بارے میں سوچا؟
ذرا ان قبائلی علاقوں کی حالت زار پر بھی نظر ڈالیں۔ لنڈی کوتل، باڑہ، تیراہ اور سرحدی دیہات میں آج بھی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ کہیں سکول نہیں، کہیں کالج اور ہسپتال ویران ہیں، کہیں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، کہیں بجلی اور پانی کی سہولت میسر نہیں۔ نوجوان میلوں دور سفر کر کے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ کھیل کے میدان، لائبریریاں، پارکس اور تفریحی مراکز تو ان علاقوں میں خواب بن چکے ہیں۔

یہ وہ علاقے ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔ قیام پاکستان کے وقت قبائلی عوام نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ پاک فوج کے شانہ بشانہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے، بازار تباہ ہوئے، معیشت برباد ہوئی، مگر ان کے دلوں میں وطن کی محبت کم نہ ہوئی۔ آج بھی اگر سرحد پر خطرہ ہو تو یہی قبائلی نوجوان سب سے پہلے پاکستان کے پرچم کے دفاع کے لیے کھڑے نظر آتے ہیں۔
ایسے نوجوان اگر عید یا تہوار کے موقع پر پشاور آ کر چند خوشیوں کے لمحات گزارنا چاہتے ہیں تو کیا یہ ان کا حق نہیں؟ اگر وہ پارکوں میں جاتے ہیں، بازاروں میں گھومتے ہیں، یا تفریح کے مواقع تلاش کرتے ہیں تو اس میں نفرت اور تعصب کیسا؟ یقیناً بعض افراد کا رویہ غلط ہو سکتا ہے، خواتین کو ہراساں کرنا یا بدتمیزی کسی صورت قابل قبول نہیں، مگر چند افراد کی غلطی کی سزا پوری قوم یا پورے طبقے کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟

اصل مسئلہ رویوں کا نہیں بلکہ محرومیوں کا ہے۔ جب ایک نوجوان بچپن سے محرومی، غربت، بے روزگاری اور احساسِ محرومی میں پرورش پاتا ہے، جب اس کے علاقے میں نہ تعلیم ہو نہ تفریح، نہ روزگار ہو نہ ترقی، تو اس کے اندر بے چینی اور غصہ پیدا ہونا فطری بات ہے۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، اور ماں اپنے تمام بچوں کو برابر کا حق دیتی ہے۔ اگر کچھ علاقوں کے لوگ خود کو نظر انداز شدہ محسوس کریں گے تو ان کے دلوں میں شکوے جنم لیں گے۔
میں نے بہت سے قبائلی نوجوانوں سے ملاقات کی ہے۔ بے حد مہذب، باوقار، باصلاحیت اور وطن سے محبت کرنے والے نوجوان۔ ان کی گفتگو میں پاکستان کے لیے درد اور محبت صاف جھلکتی تھی۔ مگر ان کی آنکھوں میں ایک سوال بھی تھا:

“اگر ہم بھی پاکستانی ہیں تو ہمارے علاقے ترقی سے محروم کیوں ہیں؟ ہمیں وہ سہولتیں کیوں حاصل نہیں جو ملک کے دوسرے حصوں کو حاصل ہیں؟”
یہ سوال صرف ان کا نہیں بلکہ ریاست کے ضمیر کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ قبائلی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے۔ وہاں جدید تعلیمی ادارے، ہسپتال، سڑکیں، کھیل کے میدان، لائبریریاں اور تفریحی مراکز قائم کیے جائیں۔ نوجوانوں کو روزگار اور ہنر کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ احساسِ محرومی کا شکار نہ ہوں۔اگر ان کے اپنے علاقوں میں یہ تفریحی مواقع حاصل ہوں گے تو پھر وہ باہر کا رخ کیوں کریں گے ۔
تعصب کسی مسئلے کا حل نہیں۔ نفرتیں صرف فاصلے بڑھاتی ہیں۔ ہمیں اپنے قبائلی بھائیوں کو گلے لگانا ہوگا، ان کے دکھ درد کو سمجھنا ہوگا، کیونکہ وہ ہم سے الگ نہیں بلکہ ہمارے اپنے ہیں۔ پاکستان صرف لاہور، کراچی، اسلام آباد یا پشاور کا نام نہیں بلکہ ان دور افتادہ پہاڑوں، وادیوں اور سرحدی بستیوں کا بھی نام ہے جہاں لوگ آج بھی سبز ہلالی پرچم سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔

وطن کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں ۔عوام خوشحال اور مطمئن ہوں گے تو ملکی ترقی میں بہترین حصہ ڈالیں گے ۔ جب تک ملک کے ہر شہری کو برابری، عزت اور محبت نہیں ملے گی، تب تک حقیقی اتحاد ممکن نہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ نفرت سے قومیں کمزور اور محبت سے مضبوط ہوتی ہیں۔
آئیے ہم عہد کریں کہ تعصب، نفرت اور عصبیت کی بجائے محبت، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیں گے۔ کیونکہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ گھر ہے، اور گھر اسی وقت خوبصورت بنتا ہے جب اس میں رہنے والے ایک دوسرے کو اپنا سمجھیں۔بقول مینا آفریدی

ہمارا ملک بھی میناؔ
چمن کے ہی تو جیسا ہے
سبھی مذہب یہاں پر ہیں
زبانیں بھی بہت سی ہیں
مگر ہم لوگ لڑتے ہیں
جلن آپس میں رکھتے ہیں
محبت کیوں نہیں کرتے

چلو اب ساری نفرت کو
جلن کو اور عداوت کو
مٹانے کی قسم کھائیں
دلوں میں پریم دیپک پھر
جلانے کی قسم کھائیں
محبت اور اخوت کے
شرافت کے صداقت کے
سبق سب کو سکھائیں ہم
گلے سب کو لگائیں ہم

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے