قربانی اور بڑھتی مہنگائی ؛ عوام کی مشکل آزمائش

عیدالاضحیٰ مسلمانوں کے لیے خوشی، عبادت اور قربانی کا عظیم تہوار ہے، مگر موجودہ مہنگائی کے دور میں یہ عید بہت سے لوگوں کے لیے ایک مشکل امتحان بنتی جا رہی ہے۔ جانوروں کی بڑھتی قیمتیں، چارے کے اخراجات اور دیگر ضروری اشیاء کی مہنگائی نے متوسط طبقے کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

ہر سال عیدالاضحیٰ کے قریب مویشی منڈیوں میں رونق بڑھ جاتی ہے، مگر اس بار خریداروں کے چہروں پر خوشی سے زیادہ فکر دکھائی دیتی ہے۔ ایک عام تنخواہ دار شخص کے لیے قربانی کرنا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ کئی لوگ اپنی خواہش کے باوجود قربانی کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اجتماعی قربانی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں قربانی جیسی عبادت میں بھی نمود و نمائش بڑھتی جا رہی ہے۔ مہنگے جانور، سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور قیمتوں کے چرچے بعض اوقات اس عبادت کی اصل روح کو متاثر کرتے ہیں۔ حالانکہ اسلام سادگی، اخلاص اور نیت کی پاکیزگی کا درس دیتا ہے۔

عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام ایثار اور دوسروں کو خوشیوں میں شامل کرنا ہے۔ اگر صاحبِ استطاعت لوگ غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھیں تو عید کی حقیقی خوشی معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکتی ہے۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے اندر موجود غرور، حسد اور خودغرضی کو ختم کرنے کا درس بھی دیتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس عید کو صرف رسم یا مقابلے کے طور پر نہ منائیں بلکہ اس کے حقیقی مقصد کو سمجھیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کی حیثیت یا جانور کی قیمت نہیں بلکہ اس کا اخلاص اور تقویٰ دیکھتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے