بڑھتی گرمی اور موسمی تبدیلی؛ ایک خاموش بحران

پاکستان کے شہروں میں پارہ پچاس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر رہا ہے، گلیشیئر پگھل کر سیلاب لا رہے ہیں، فصلیں خشک سالی سے برباد ہو رہی ہیں اور سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ یہ محض قدرتی عمل نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والا موسمی بحران ہے جسے دنیا کلائمیٹ چینج یا موسمیاتی تبدیلی کہتی ہے۔

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں ہمارا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ ناانصافی ہمیں خاموش نہیں رہنے دیتی۔

۲۰۲۲ء کا تباہ کن سیلاب پاکستان کی تاریخ کا بدترین قدرتی حادثہ تھا۔ ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیا، تین کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہوئے اور معاشی نقصان تیس ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے اس سیلاب کو چھ گنا زیادہ شدید بنا دیا۔

شمالی علاقہ جات میں ہزاروں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ گلوف (گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز) کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے شہروں میں ہیٹ ویوز عام ہو گئی ہیں اور ہر سال سینکڑوں افراد گرمی کی لپیٹ میں آ کر جان گنوا دیتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ فوسل فیولز جلانے سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔ کوئلہ، تیل اور گیس کا بے تحاشہ استعمال ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھا رہا ہے جو زمین کی حدت کو قید کر لیتا ہے۔ جنگلات کی کٹائی اس مسئلے کو اور سنگین بنا دیتی ہے کیونکہ درخت کاربن جذب کرنے کا قدرتی ذریعہ ہیں۔

پاکستان میں خود بھی کئی مسائل ہیں جن میں بے ہنگم شہر کاری، صنعتی آلودگی، پلاسٹک کا استعمال، گاڑیوں کا دھواں اور جنگلات کا سکڑنا شامل ہیں۔ ان مسائل پر فوری توجہ دینا ناگزیر ہے۔

حکومتِ پاکستان نے بلین ٹری سونامی پروجیکٹ کے ذریعے ماحولیاتی بحالی کی کوشش کی ہے جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ قابلِ تجدید توانائی کی طرف بڑھنا، الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور کاربن ٹیکس جیسے اقدامات ضروری ہیں۔

لیکن صرف حکومت پر ذمہ داری ڈالنا کافی نہیں۔ ہر شہری کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ درخت لگائیں، پلاسٹک کم استعمال کریں، توانائی ضائع نہ کریں اور موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں آگاہی پھیلائیں۔ مستقبل کی نسلوں کو صاف اور محفوظ ماحول دینا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ آج کی حقیقت ہے۔ پاکستان کی زمین، پانی، فصلیں اور عوام سب اس کی زد میں ہیں۔ ابھی اگر ہم نے عملی قدم نہ اٹھائے تو آنے والی نسلوں کو ایک ایسی دنیا ورثے میں ملے گی جہاں رہنا مشکل ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ گرمی کی آہ کو عمل کی راہ میں بدلیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے