بارہ نشستوں سے آگے کا سوال: ایک نفسیاتی خلیج کی داستان

آزاد جموں و کشمیر میں بارہ مہاجر نشستوں کے حوالے سے جاری بحث محض ایک آئینی یا سیاسی معاملہ نہیں رہی، بلکہ اس نے ایک ایسی نفسیاتی خلیج کو نمایاں کر دیا ہے جسے شاید ہم نے برسوں محسوس تو کیا، مگر کبھی کھل کر تسلیم نہیں کیا۔

گزشتہ دنوں مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا۔ ان خاندانوں کے ساتھ وقت گزارا جو تقسیمِ کشمیر کے نتیجے میں بچھڑ گئے، جن کے عزیز آج بھی لائن آف کنٹرول کے اُس پار آباد ہیں، اور جن کی زندگی کا ہر باب ہجرت، جدائی اور انتظار کی کہانی سناتا ہے۔ دوسری جانب ان لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی جو نسلوں سے آزاد کشمیر کے پہاڑوں، وادیوں اور بستیوں میں آباد ہیں اور جن کی شناخت اسی سرزمین کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

حیرت انگیز طور پر دونوں طبقات کے درمیان سوچ، احساسات اور ترجیحات میں ایک واضح فرق محسوس ہوا۔ یہ فرق صرف سیاسی رائے کا نہیں بلکہ نفسیات، تاریخ کے ادراک اور مستقبل کے تصور کا بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ خلیج کب اور کیسے پیدا ہوئی؟

کشمیر کی جدوجہد کی بنیاد ہمیشہ مشترکہ شناخت، مشترکہ درد اور مشترکہ مقصد پر قائم رہی ہے۔ اگر آج ہم خود کو مختلف خانوں میں تقسیم کرنے لگیں—مقامی اور مہاجر، اِدھر کے اور اُدھر کے—تو نقصان کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پوری کشمیر کاز کا ہوگا۔ کیونکہ کشمیر کی کہانی سرحدوں سے زیادہ رشتوں، یادوں اور مشترکہ قربانیوں کی کہانی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ سوچ آخر کہاں سے پروان چڑھی؟ وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے ایک مشترکہ جدوجہد اور مشترکہ شناخت رکھنے والے لوگوں کے درمیان فاصلے پیدا کیے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آج کے نوجوانوں کو اس مقام تک کس نے پہنچایا جہاں وہ ایک دوسرے کو الگ شناختوں میں دیکھنے لگے؟

اس موقع پر میں آزاد کشمیر کے چند بزرگ اور تجربہ کار سیاسی رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہوں گا جنہوں نے اپنے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ہمیشہ کشمیر کی مشترکہ شناخت اور مہاجر و مقامی کے درمیان رشتے کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ اگرچہ ان کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا، مگر انہوں نے کبھی اس جدوجہد کو علاقائی یا نسلی خانوں میں تقسیم ہونے نہیں دیا۔ ان کی سیاسی بصیرت نے برسوں تک اس تشخص کو محفوظ رکھا جو کشمیر کاز کی اصل بنیاد ہے۔

بدقسمتی سے آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئی نسل تک وہ سوچ، وہ تاریخ اور وہ حساسیت پوری طرح منتقل نہیں ہو سکی۔ نتیجتاً ایک ایسا بیانیہ جنم لے رہا ہے جو مسئلے کو صرف نشستوں، اختیارات یا نمائندگی تک محدود کر دیتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ پورے کشمیر کاز کی روح، اس کی بنیاد اور اس کے اجتماعی تشخص کا معاملہ ہے

اصل ضرورت یہ نہیں کہ بارہ نشستوں کے حق یا مخالفت میں دلائل دیے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ اس بڑھتی ہوئی نفسیاتی دوری کو سمجھا جائے اور اس کے اسباب تلاش کیے جائیں۔ اگر اس خلیج کو بروقت نہ بھرا گیا تو یہ محض ایک سیاسی اختلاف نہیں رہے گی بلکہ اُس فکری اور جذباتی بنیاد کو کمزور کر سکتی ہے جس پر کشمیر کی جدوجہد دہائیوں سے قائم ہے۔

آج شاید سب سے اہم سوال یہی ہے کہ ہم اپنے اختلافات کے باوجود خود کو ایک ہی داستان کا کردار سمجھتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ جب مشترکہ شناخت کمزور پڑنے لگے تو مسئلہ صرف بارہ نشستوں کا نہیں رہتا، پوری جدوجہد کی بنیادیں لرزنے لگتی ہیں.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے