کل ہی ایک کیس آیا کلینک میں جس میں 3 سال کا بچہ دانتوں کی تکلیف میں مبتلا تھا۔ اس چھوٹی سی عمر میں دانتوں کے شدید درد، چبھن اور ٹھنڈا گرم لگنے کی شکایت کے ساتھ کلینک آنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔جب ہم نے بچے کا معائنہ کیا اور اس کے روزمرہ کے معمولات کے بارے میں پوچھا، تو جو حقیقت سامنے آئی وہ افسوسناک بھی تھی ۔معلوم ہوا کہ اس معصوم کو دن میں تین بار کولڈ ڈرنک اور تین بار آئس کریم دی جا رہی تھی۔ یعنی چوبیس گھنٹوں میں چھ بار اس کے نازک دانتوں پر چینی اور تیزاب کا خوفناک حملہ کروایا جا رہا تھا۔
محترم والدین آپ سے گزارش ہے کہ والدین جسے "لاڈ پیار” یا بچے کی ضد پورا کرنا سمجھ رہے تھے، وہ دراصل اس بچے کے ساتھ نادانستہ دشمنی تھی۔ تین سال کے بچے کے دودھ کے دانت بہت نرم اور حساس ہوتے ہیں۔ جب انہیں دن میں چھ بار میٹھی اور تیزابی اشیاء میں ڈبو کر رکھا جائے، تو دانتوں کی حفاظتی تہہ (Enamel) پگھل جاتی ہے اور اندر کی نسیں خراب ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس معصوم کے دانتوں میں شدید انفیکشن ہو چکا تھا اور وہ چبھن اور درد سے تڑپ رہا تھا۔
آج کے دور میں دانتوں کی بیماریاں اور مسوڑھوں کا درد ایک ایسی خاموش وبا بن کر ابھرا ہے جس کی زد میں معصوم بچوں سے لے کر بزرگوں تک، ہر عمر کے افراد آ چکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس قدر پھیلاؤ کے باوجود ہمارے معاشرے میں دانتوں کی صحت (Oral Health) کو بری طرح نظرانداز کیا جاتا ہے۔
اس بحران کی جڑیں ہماری روزمرہ کی عادات میں چھپی ہیں۔ دانتوں کی صفائی ستھرائی سے متعلق شعور کی کمی، برش کرنے کے غلط طریقے، اور دانتوں کی دیکھ بھال کے معمولات کو عام سمجھنا اور اس پہ توجہ نہ دینا اور اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ اور مزید بیماریوں کو دعوت دینا ہے ۔
ہماری جدید طرزِ زندگی اور ناقص غذا اور دانتوں کی بیماریوں کو فروغ دیتی ہیں۔ میٹھی اشیاء، ٹافیاں، کاربونیٹیڈ مشروبات (کولڈ ڈرنکس) اور ڈبوں میں بند (ٹیٹرا پیک) جوسز کا بے دریغ استعمال دانتوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
تمباکو، چھالیہ، پان، گٹکا اور سگریٹ کا کثرت سے استعمال منہ کی صحت کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہ عادات دانتوں پر کیلکولس (پلاک کی سخت تہہ) جما دیتی ہیں، جو بعد میں شدید انفیکشن کا باعث بنتی ہے۔
جب بھی ہم کوئی میٹھی چیز کھاتے ہیں، تو منہ میں موجود بیکٹیریا اس چینی کے ساتھ مل کر ایک ایسا تیزاب بناتے ہیں جو اگلے **20 منٹ** تک دانتوں کی حفاظتی تہہ پر مسلسل حملہ آور رہتا ہے۔
دن بھر وقفے وقفے سے کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے سے دانت مسلسل تیزابی ماحول میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسوڑھے خراب ہو جاتے ہیں، دانتوں میں پیپ (پھوڑے) پڑنے لگتی ہے اور انسان مسوڑھوں کی دائمی بیماریوں (Periodontal Diseases) کا شکار ہو جاتا ہے۔
جسمانی و ذہنی صحت پر اثرات: منہ سے آگے کا نقصان
خراب دانت صرف منہ تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ پورے جسم اور دماغ کو مفلوج کرنے میں ایک خاموش مجرم کا کردار ادا کرتے ہیں:
ذیابیطس اور موٹاپا:
زیادہ چینی کا استعمال جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت (Insulin Resistance) پیدا کرتا ہے، جو آگے چل کر ذیابیطس، موٹاپے اور ہائی بلڈ پریشر کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
کیلشیم کی چوری:
جب منہ اور جسم میں تیزابیت بڑھتی ہے، تو جسم اس تیزاب کو بے اثر (Neutralize) کرنے کے لیے ہڈیوں اور دانتوں سے کیلشیم کھینچنا شروع کر دیتا ہے، جس سے ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں۔
دل کے امراض:
جدید طبی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ منہ کے خطرناک بیکٹیریا خون کی گردش کے ذریعے دل تک پہنچ کر دل کی سنگین بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
دماغی اور جلدی مسائل:
یہ بیکٹیریا اور انفیکشن دماغی دھند (Brain Fog) کا باعث بنتے ہیں جس سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، جلد پر دانے (مہاسے) اور وقت سے پہلے بڑھاپے کے اثرات بھی اسی وجہ سے ظاہر ہو سکتے ہیں۔
بچوں کے رویے میں تبدیلی:
بچوں میں شوگر کی زیادتی ان کے مزاج کو چڑچڑا بنا دیتی ہے اور وہ ہائپر ایکٹیویٹی (Hyperactivity) یعنی ضرورت سے زیادہ اچھل کود اور بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
بچاؤ اور ماہرانہ دیکھ بھال (حفاظتی تدابیر)
اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ احتیاط اور صحیح معلومات پر عمل کرنا ہے۔ دانتوں کو محفوظ رکھنے کے چند سنہری اصول یہ ہیں:
حفاظتی عمل | طریقہ کار اور افادیت
برش کرنا
دن میں دو بار (خاص طور پر صبح ناشتے کے بعد اور رات کو سونے سے پہلے) باقاعدگی سے برش کریں۔
فلاسنگ (Flossing)
دانتوں کے درمیان پھنسے ہوئے باریک ذرات کو نکالنے کے لیے دھاگے (Floss) کا استعمال کریں، جہاں برش کا پہنچنا ناممکن ہوتا ہے۔
کلی کرنا؛
چائے، کافی، دودھ یا کوئی بھی کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی سے اچھی طرح کلی کریں تاکہ سانس کی بدبو (Halitosis) اور بیکٹیریا کا خاتمہ ہو سکے۔
اہم مشورہ:
اگر آپ کو دانتوں میں معمولی سا درد یا چبھن بھی محسوس ہو، تو اسے معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کریں بلکہ فوراً کسی مستند ڈینٹسٹ (دانتوں کے ڈاکٹر) سے رجوع کریں۔ یاد رکھیں، بیماری کے ابتدائی مرحلے میں ہی ڈاکٹر سے رابطہ کرنا آپ کو مستقبل کی بڑی پیچیدگیوں، شدید درد اور مہنگے علاج سے بچا سکتا ہے۔