ہمالیہ، قراقرم اور ہندو کش کے سنگم پر واقع پاکستان قدرت کے انمول خزانوں سے مالامال ہے۔ K2 سے لے کر موہنجو دڑو تک، بدین کی مینگرووز سے لے کر لاہور کے مغلیہ محلات تک، پاکستان میں سیاحوں کے لیے ان گنت نعمتیں موجود ہیں۔ پھر بھی آج پاکستان کی سیاحتی صنعت اپنی اصل صلاحیت سے کوسوں دور ہے۔
اگر ہم سیاحت کو ترجیح دیں تو یہ شعبہ نہ صرف کروڑوں افراد کو روزگار دے سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط کرنے اور پاکستان کا مثبت تصویر دنیا تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K2 ہے۔ گلگت بلتستان میں نانگا پربت، راکاپوشی اور گاشربرم جیسی دیوہیکل چوٹیاں ہیں جو کوہ پیماؤں کی جنت ہیں۔ ہنزہ، سوات، کاغان اور ناران کی وادیاں دنیا کی خوبصورت ترین وادیوں میں شمار ہوتی ہیں۔
تاریخی اعتبار سے بھی پاکستان انتہائی غنی ہے۔ موہنجو دڑو اور ہڑپہ میں پانچ ہزار سال پرانی تہذیبوں کے آثار ہیں۔ تخت بھائی کا بدھ مت سے متعلق ورثہ، لاہور کا شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد، ٹھٹہ کی تاریخی مسجدیں اور قلعے اور تاریخی شاہراہِ ریشم کے راستے ایسے مقامات ہیں جو پوری دنیا کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
تھائی لینڈ، ترکی اور دبئی جیسے ممالک سیاحت سے ہر سال اربوں ڈالر کماتے ہیں۔ پاکستان بھی اگر اپنے سیاحتی وسائل کو درست طریقے سے فروغ دے تو یہ معاشی انقلاب لا سکتا ہے۔ سیاحت براہِ راست ہوٹل، ٹرانسپورٹ، ریستوران، گائیڈ اور دستکاری جیسے شعبوں میں روزگار پیدا کرتی ہے۔
دور دراز پہاڑی علاقوں کے غریب باشندوں کے لیے سیاحت آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔ جب غیر ملکی سیاح آتے ہیں تو زرمبادلہ ملک میں آتا ہے جو معیشت کو مضبوط کرتا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کا مثبت تصویر دنیا تک پہنچتا ہے جو سفارتی اور تجارتی تعلقات کو بھی بہتر بناتا ہے۔
سیاحت کو فروغ دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ حفاظتی خدشات ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔ اگرچہ صورتحال بہت بہتر ہو چکی ہے لیکن بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کی منفی تصویر ابھی بھی سیاحوں کو ہچکچاہٹ میں مبتلا کرتی ہے۔
اس کے علاوہ بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی، سیاحتی مقامات پر سہولیات کا فقدان، ویزا پالیسیوں کی پیچیدگی اور مقامی سطح پر سیاحوں کے ساتھ غیر مناسب رویہ بھی اہم مسائل ہیں۔
حکومت کو ویزا آن ارائیول کی سہولت بڑھانی چاہیے، سیاحتی مقامات پر بنیادی سہولیات مہیا کرنی چاہییں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی مارکیٹنگ میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ مقامی لوگوں کو سیاحت دوست رویوں کی تربیت دینا بھی ضروری ہے۔
نجی شعبہ بھی اس میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ معیاری ہوٹل، ایڈونچر ٹورزم کمپنیاں اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے پاکستان کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ نوجوانوں کا ولاگنگ اور سوشل میڈیا پر پاکستان کا حسن دکھانا بھی اس کام میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں صبح کا ناشتہ پہاڑوں کی گود میں اور شام کا کھانا صحرا کے سناٹے میں کیا جا سکتا ہے۔ یہاں پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کی سانسیں آج بھی محسوس ہوتی ہیں۔ بس ضرورت ہے ارادے، سرمایہ کاری اور درست حکمتِ عملی کی۔ سیاحت وہ سنہری کلید ہے جو پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔