کوئٹہ کے دلخراش واقعے کے آئینے میں ایک اجتماعی سوال؟

وہ صرف اس لیے نشانہ بنی کہ وہ ایک عورت ہے۔ ایک ایسا وجود جسے اس معاشرے میں اکثر اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے بھی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں کچھ ذہن ابھی تک عورت کو انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں بلکہ اختیار کی چیز سمجھتے ہیں، وہاں اس کا سانس لینا بھی بعض اوقات کسی جرم جیسا محسوس ہوتا ہے۔ ماں ہو، بہن ہو یا بیوی ہر رشتے میں اس سے محبت اور احترام کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر عملی زندگی میں اسے اپنی مرضی سے جینے کا حق دینے میں بخل سے کام لیا جاتا ہے۔ یہ تضاد ہی ہمارے معاشرتی بحران کی اصل جڑ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے خوف نے عورت کے قدموں کے ساتھ ساتھ چلنا سیکھ لیا ہو۔ گھر سے نکلتے وقت دعا، راستے میں بے یقینی، اور واپسی تک ایک انجانا اضطراب یہ سب اس کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کوئی واقعہ کب ہوگا، یہ ہے کہ کہاں اور کس کے ساتھ ہوگا۔ یہ سوچ بذاتِ خود کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ایک المیہ ہے۔

حال ہی میں کوئٹہ کے سول اسپتال میں پیش آنے والا واقعہ اسی خوف کی ایک ہولناک تصویر ہے۔ صبح کے پرسکون لمحات میں جب ڈاکٹرز اپنی ذمہ داریوں میں مصروف تھے، ایک ایسا لمحہ آیا جس نے ہر چیز بدل کر رکھ دی۔ سرجری میں پوسٹ گریجویشن کرنے والی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ایک شخص نے تیزاب پھینک دیا۔ چند سیکنڈز میں ایک امید بھرا چہرہ شدید اذیت کا استعارہ بن گیا۔ ان کے چہرے، سینے اور بازو بری طرح متاثر ہوئے، جبکہ دو دیگر افراد بھی اس حملے کی زد میں آ کر زخمی ہوئے۔ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے جسم کا تقریباً 35 فیصد حصہ جھلس چکا ہے۔ بعد ازاں انہیں مزید بہتر علاج کے لیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا، جہاں وہ اس وقت زیر علاج ہیں۔ یہ واقعہ ایک پورے نظام، ایک پوری سوچ اور ایک پورے معاشرے پر سوالیہ نشان ہے۔

ڈاکٹر ماہ نور کوئی عام فرد نہیں تھیں۔ وہ اس سرزمین کی وہ بیٹی تھیں جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود تعلیم حاصل کی، اپنی صلاحیتوں کو نکھارا اور پھر اسی معاشرے کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔ وہ ان ہزاروں خواتین کی نمائندہ ہیں جو ہر روز رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مزید برآں، اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے، وہ کسی بھی مہذب نظام کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر مردوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کریں۔ سورۃ النساء کی آیت 19 میں تاکید کی گئی ہے کہ عورتوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گزاری جائے۔ اسی طرح وراثت میں حصہ، معاشی خودمختاری اور عزتِ نفس کا تحفظ یہ سب وہ حقوق ہیں جو اسلام نے صدیوں پہلے متعین کر دیے تھے۔

اسی طرح گھریلو معاملات میں بھی قرآن صبر، برداشت اور حکمت کا درس دیتا ہے۔ اگر ناچاقی پیدا ہو تو اصلاح کے لیے تدریجی اور پرامن طریقے اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے، نہ کہ تشدد اور جبر کا راستہ۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی اس بات کی عملی مثال ہے کہ عورت کے ساتھ بہترین برتاؤ ہی اصل مردانگی ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر اپنی مرضی کے معنی گھڑ لیے ہیں۔ کوئٹہ کا یہ واقعہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ایک ایسا مقام جہاں اسپتال جیسے محفوظ سمجھے جانے والے مقامات بھی غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ جہاں ایک ڈاکٹر، جو زندگی بچانے کا کام کرتی ہے، خود اپنی جان اور شناخت کے لیے لڑنے پر مجبور ہو جائے یہ کسی بھی معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔

اسی طرح قانونی طور پر پاکستان میں تیزاب گردی کے خلاف سخت سزائیں موجود ہیں۔ "Acid Control and Acid Crime Prevention Act 2010” اور "Criminal Law (Second Amendment) Act 2011” کے تحت اس جرم میں ملوث افراد کو کم از کم چودہ سال قید سے لے کر عمر قید تک سزا دی جا سکتی ہے، جبکہ بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے تاکہ متاثرہ فرد کے علاج اور بحالی میں مدد مل سکے۔ مگر مسئلہ نہ صرف قانون بنانے کا ہے اس پر مؤثر عمل درآمد کا ہے۔ بخدا بے حد دکھ کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسے کیسز میں تفتیش کمزور پڑ جاتی ہے، گواہ عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں اور عدالتی کارروائیاں طویل ہو جاتی ہیں تاریخ پر تاریخ سالوں سال تک جاری رہتی ہے۔ نتیجتاً انصاف کا عمل سست روی کا شکار ہو جاتا ہے، جو مجرموں کے حوصلے بلند کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اگر قانون کی گرفت مضبوط ہو اور سزا یقینی ہو تو ایسے جرائم میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اسی طرح ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا ردعمل بھی اسی عدم تحفظ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر ڈاکٹرز خود کو محفوظ محسوس نہ کریں تو صحت کا پورا نظام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یہ ایک پیشے کا مسئلہ ہے بلکہ ہر شہری کی زندگی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور کی بحالی کا سفر طویل اور کٹھن ہوگا۔ تیزاب کے زخم جسم کو جلاتے ہیں یہ انسان کے اندر تک سرایت کر جاتے ہیں۔ ہمت اور بہادری، خود اعتمادی، سماجی تعلقات اور ذہنی آرام و سکون سب کچھ متاثر ہوتا ہے۔ ایسے متاثرین کو طبی امداد فراہم ہونے کے ساتھ نفسیاتی اور سماجی سہارا بھی درکار ہوتا ہے تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ اسی طرح یہ واقعہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم خود سے ایک سنجیدہ سوال کریں، کیا ہم واقعی ایک ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں جہاں ہماری بیٹیاں خوف کے سائے میں زندہ رہیں؟ یا ہم وہ راستہ اختیار کریں گے جہاں انہیں عزت، تحفظ اور آزادی کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے