عورت کے حقوق: قوانین، تحفظ اور زمینی حقائق

ظلمتوں میں بھی چراغِ حق جلائے رکھنا ہے
اس معاشرے کو ہمیں انسان بنائے رکھنا ہے
(آمنہ درانی)

حالیہ دنوں کوئٹہ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے افسوس ناک واقعے نے ایک بار پھر خواتین کے تحفظ اور ان کے حقوق سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس واقعے کے محرکات اور وجوہات کچھ بھی ہوں، لیکن یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ معاشرے میں خواتین آج بھی مختلف نوعیت کے مسائل اور خطرات کا سامنا کر رہی ہیں۔

اگرچہ خواتین کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے مختلف قوانین اور پالیسیوں کا نفاذ کیا گیا ہے تاہم ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے حوالے سے سوالات اب بھی موجود ہیں۔ متعدد سماجی حلقوں کا خیال ہے کہ قانون سازی کے ساتھ ساتھ اس پر سختی سے عمل درآمد بھی اتنا ہی ضروری ہے تاکہ خواتین کو عملی طور پر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

خواتین کو زندگی کے مختلف شعبوں میں ہراسانی، امتیازی سلوک، کردار کشی اور تشدد جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات سماجی دباؤ، بدنامی کے خوف یا انصاف کے پیچیدہ نظام کی وجہ سے متاثرہ خواتین اپنی آواز بلند نہیں کر پاتیں۔ اور اگر وہ شکایت درج بھی کروائیں تو انصاف کے حصول کا عمل طویل اور دشوار ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی معاشرے کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہاں خواتین کو کس حد تک تحفظ، عزت اور مساوی مواقع حاصل ہیں۔ تعلیم، صحت، کاروبار، سیاست اور دیگر شعبوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ قومی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم ان کی راہ میں حائل سماجی رکاوٹوں کو دور کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

اس صورتحال میں ریاست کی ذمہ داری مزید اہم ہو جاتی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کا فرض ہے کہ وہ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنائیں قوانین پر مؤثر عمل درآمد کریں تاکہ متاثرین کو فوری انصاف فراہم کریں اور ایسے ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کریں جہاں خواتین بلا خوف و خطر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا خواتین کے تحفظ کے لیے موجود اقدامات کافی ہیں؟ کیا قانون سازی کے ثمرات عام خواتین تک پہنچ رہے ہیں؟ اور کیا معاشرہ خواتین کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج بھی توجہ اور سنجیدہ غور و فکر کے متقاضی ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر خواتین کے حقوق کی بات صرف نعروں اور دعوؤں تک محدود رکھتے ہیں جبکہ عملی حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ معاشرے میں بعض مخصوص طبقوں کی خواتین کو نسبتاً تحفظ اور مواقع میسر ہیں لیکن یہ حقوق دراصل ہر طبقے، ہر پس منظر اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی عورت کے لیے یکساں ہونے چاہییں۔

کسی بھی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عورت کو اپنی ملکیت یا ذاتی جاگیر سمجھ کر اس پر ناجائز اختیار جتائے۔

اگر کوئی خاتون اپنے حق، عزت اور آزادی کے لیے آواز بلند کرے تو اسے خاموش کرانے یا سزا دینے کے بجائے اس کی بات کو سننا اور انصاف فراہم کرنا ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے کیونکہ کسی ایک عورت کی زندگی کو بھی ظلم اور ناانصافی کے باعث تباہ ہونے دینا ایک اجتماعی ناکامی ہے۔

ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہاں خواتین کو عزت، تحفظ، انصاف اور ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ جب تک یہ مقصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہوتا خواتین کے حقوق کے حوالے سے بحث اور اصلاح کی ضرورت برقرار رہے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے