مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کوئی اِس قدر سفاک کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی عورت کے چہرے پر تیزاب پھینک دے! یہ انسان نما حیوان ہمارے معاشرے میں کہاں سے آ گئے ہیں، کون اِنکی تربیت کر رہا ہے، کیسے یہ جنونی بن جاتے ہیں! ڈاکٹر ماہ نور کوئٹہ کے سول اسپتال کے سرجری وارڈ میں اپنی ڈیوٹی پر موجود تھیں جب اسی اسپتال کا ایک لفٹ آپریٹر، ہمایوں شاہ، وہاں آتا ہے اور اچانک ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینک دیتا ہے۔
جب ڈاکٹر ماہ نورچیختی چلاتی ہوئی کمرے سے باہر بھاگتی ہیں تو اُسی اسپتال کا ایک زیر تربیتی ملازم عبدالرزاق جان کی پرواکیے بغیر آگے بڑھتا ہے اور اپنا ایپرن اتار کر خاتون ڈاکٹر کو ڈھانپ دیتا ہے تاکہ تیزاب کے اثرات کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے اور اُسکی حُرمت قائم رہے۔ اِس کوشش میں عبدالرزاق خود بھی زخمی ہو جاتا ہے۔
آخری اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کو کراچی کے آغا خان اسپتال کے برن سینٹر میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اُنکا علاج جاری ہے۔ عبدالرزاق کیلئے حکومت بلوچستان نے سول ایوارڈ کا اعلان کیا ہے جبکہ ملزم ہمایوں شاہ کو پولیس مقابلے میں مار دیا گیا ہے۔ ہمارے ملک کے بھی ففٹی شیڈز آف گرے ہیں۔ ایک مرد جلانے والا، ایک مرد بچانے والا۔ ایک مرد عورت کے منہ پر تیزاب پھینکتا ہے، دوسرا مرد اپنی جان پر کھیل کر اسے بچاتا ہے۔ جان بچانے والے کو حکومت تمغے سے نوازتی ہے اور ملزم کو آدھے گھنٹے میں تلاش کرکے پولیس مقابلے میں پار کر دیا جاتا ہے۔
بندہ کس بات کی تعریف کرے اور کس اقدام کی مذمت! ایک عورت نے اپنی پوری زندگی کتابوں کے نام کر دی، میڈیکل کالج کی راتیں جاگ کر گزاریں، والدین نے خون پسینہ ایک کر کے اسے ڈاکٹر بنایا اور ایک جاہل مرد کو یہ حق مل گیا کہ وہ اسکی پوری زندگی کو ایک بوتل میں بند تیزاب کے ذریعے جہنم بنا دے۔ وہ تو شکر ہے میڈیکل سائنس کا کہ ڈاکٹر ماہ نور کی جان بچ گئی اور وہ ڈیڑھ دو ماہ میں صحت یاب بھی ہو جائیں گی مگر میں نے بطور کرائم رپورٹر میو اسپتال، لاہور کا برن سینٹر دیکھا ہوا ہے اور عورتوں کے جھلسے ہوئے چہرے مجھے یاد ہیں، جس اذیت، کرب اور تکلیف میں وہ ہوتی تھیں اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔
تیزاب پھینکنے کا عمل دراصل مرد کی اُس ذہنی پستی کو ظاہر کرتا ہے جہاں وہ کسی عورت کی ’ناں‘ کو برداشت نہیں کر پاتا یا جہاں وہ عورت کو اپنے سے برتر مقام پر دیکھ کر حسد کی آگ میں جلنے لگتا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن رو رہی ہے کہ سکیورٹی ناقص تھی، انتظامیہ غافل تھی، لیکن سچ یہ ہے کہ سکیورٹی کا مسئلہ بعد میں آتا ہے، پہلے ہمارے ذہنوں کی وہ سڑاند آتی ہے جو ایسے مجرموں کو جنم دیتی ہے۔
اب آتے ہیںکہانی کے اس حصے کی طرف جہاں پولیس نے ’پھرتی‘ کا عالمی ریکارڈ توڑ کر ملزم کو نہ صرف بس میں فرار ہوتے ہوئے جا لیا بلکہ موقع پر ’انصاف‘ کرتے ہوئے اسے ہلاک بھی کر دیا۔ملزم کا مارا جانا بظاہر ایک فوری اور سستا انصاف نظر آتا ہے، لیکن یہ انصاف نہیں، قانون کی ناکامی کا اعتراف ہے۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا عدالتی اور تفتیشی نظام اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ خود ریاست کو بھی معلوم ہے کہ اگر یہ مجرم عدالت گیا تو شاید برسوںتک مقدمہ لٹکا رہے گا، یا کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے وہ بچ نکلے گا، اسلئے اسے سڑک پر ہی ڈھیر کر دو۔ اس درندے کو زندہ گرفتار کیا جانا چاہیے تھا تاکہ اسے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا اور تفتیش کی جاتی کہ اس نے یہ تیزاب کہاں سے خریدا، اسکے پیچھے کیا محرکات تھے، کیا اسپتال میں اسے کسی کی پشت پناہی حاصل تھی؟ جب وہ قانون کے مطابق عمر قید یا سزائے موت پاتا اور میڈیا پر اس کی تذلیل ہوتی تو وہ دوسرے مجرموں کیلئے نشانِ عبرت بنتا۔ اب کیا ہوا؟ وہ تو مارا گیا مگر وہ سوالات وہیں کے وہیں رہ گئے ۔
ہمارے ہاں ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ چونکہ قانون کمزور ہے اِسلئے جرائم ہوتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ تیزاب پھینکنے والوں کیخلاف سخت قانون بناؤ جبکہ پاکستان میں تیزاب کے جرائم کیخلاف انتہائی سخت قوانین پہلے سے موجود ہیں جنکے تحت اگر کوئی شخص کسی پر تیزاب پھینکتا ہے تو اسکی کم سے کم سزا 14 سال قید بامشقت ہے، دس لاکھ روپے جرمانہ ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہ جرم ’ناقابلِ راضی نامہ‘ ہے۔
اسکے علاوہ یہ جرائم اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت دہشتگردی کے زمرے میں آتے ہیں جنکی سماعت انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں ہوتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قانون اتنا ہی سخت ہے تو پھر یہ جرائم رک کیوں نہیں رہے؟ اسکا جواب اُس اصول میں ہے کہ جرائم سخت قوانین بنانے سے نہیں بلکہ اُن پر عمل کرنے سے کم ہوتے ہیں۔ تیزاب کی خرید و فروخت پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ آپ بازار جائیں، چند روپوں میں آپکو تیزاب کی وہ بوتل مل جائیگی جو کسی کی زندگی تباہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ جب تک ہر تھانے دار اور دکان دار کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ تیزاب بیچنے کی سزا کیا ہے، تب تک یہ بوتلیں اسی طرح سرِعام بکتی رہینگی اور چہرے جھلستے رہینگے۔
لیکن اصل بیماری کچھ اور ہے اور وہ ہے ’مردانہ کمزوری‘۔ جن مردوں کو لگا ہے کہ یہاں غلطی سے مردانہ ذہنیت کی بجائے مردانہ کمزوری لکھا گیا ہے وہ یہ جان لیں کہ ایسی بیمار ذہنیت کی عکاسی کیلئے یہی الفاظ مناسب ہیں۔ ہم مرد، چاہے آزاد خیال ہوں یا قدامت پسند، مذہبی رجحان رکھتے ہوں یا غیر مذہبی، ا سٹینفارڈ سے پڑھے ہوں یا مدرسے کے فارغ التحصیل ، عورت کے معاملے میں ہمارے خیالات ’مردانہ‘ ہی رہیں گے۔
انگریزی میں کہتے ہیں Men will always be men، آخری تجزیے میں مرد، عورت کے کردار کا ’فیصلہ‘ اُسکے لباس، اُسکی آزادی اور اُسکی بیباک طبیعت کی بنیاد پر ہی کرے گا۔ ایک مرد اگر فیشن ایبل لباس پہن کر، کسی ہیرو کی طرح کالا چشمہ لگاتے ہوئے ایک مخصوص انداز میں لائٹر سے سگریٹ جلائے اور دبنگ انداز میں مدمقابل کو مخاطب کرے تو لوگ کہیں کہ واہ کیا گھبرو جوان ہے۔ لیکن یہی سب کچھ اگر ایک عورت کرے تو اسے ’ر‘ کے القابات سننے کو ملیں گے۔ ہمایوں شاہ کا ’علاج‘ تو پولیس مقابلے کے ذریعے کر دیا گیا لیکن اِن مردانہ کمزوری کے حامل مردوں کا علاج کیسے ہوگا،کوئی حکیم لقمان یہ بتا دے!
بشکریہ جنگ