کچھ کہانیاں صفحہِ قرطاس پر لفظوں کی صورت نہیں، بلکہ خون کی سرخی سے دل کے آئینے پر لکھی جاتی ہیں۔ کوئٹہ کی وحدت کالونی میں پیش آنے والا آصف کا یہ واقعہ بھی ایک ایسا ہی دل دوز اور روح فرسا المیہ ہے، جس نے انسانیت کے ماتھے پر ایک ایسا سوالیہ نشان چھوڑ دیا ہے جس کا جواب ڈھونڈنے سے ہمارا پورا معاشرہ قاصر ہے۔
ایک شخص، جس کا نام آصف تھا، جو اسی مٹی کا جایا تھا، جو کسی کا بیٹا، کسی کا شوہر اور معصوم کلیوں جیسے مسکراتے بچوں کا باپ تھا۔ وہی باپ، جس کا کندھا بچوں کے لیے دنیا کا سب سے محفوظ حصار ہوتا ہے؛ وہی شوہر، جس کی چھت تلے ایک عورت اپنی زندگی بھر کے سپنے سجاتی ہے۔ لیکن ایک رات ایسی آئی جب حالات کی سنگینی، ذہنی دباؤ اور شاید معاشرے کی بے حسی نے اس محافظ کو اپنی ہی دنیا کا قاتل بنا دیا۔
اس ہولناک قدم کو اٹھانے سے قبل آصف نے کچھ ویڈیوز ریکارڈ کیں۔ ان ویڈیوز میں کوئی جلاد نہیں، بلکہ ایک بے بس، سسکتا اور روتا ہوا انسان نظر آ رہا تھا جو اپنے بچوں کی حفاظت کی دہائیاں دے رہا تھا، جو کسی انجانے خوف، مایوسی یا ذہنی کرب کے آخری درجے پر کھڑا تھا۔ وہ رو رہا تھا، وہ پکار رہا تھا، وہ شاید معاشرے کے بند کواڑوں پر آخری دستک دے رہا تھا کہ کوئی آئے اور اسے اس دلدل سے نکال لے جہاں سانس لینا بھی محال ہو چکا تھا۔ کوئٹہ جیسے شہر میں، جہاں لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوتے ہیں، وہاں کسی کا اس حد تک اکیلا اور بے بس ہو جانا ایک الگ سوال کھڑا کرتا ہے۔
مگر افسوس! اس ڈیجیٹل دور میں جہاں لاکھوں آنکھیں ویڈیوز تو دیکھتی ہیں، مگر دل کسی کا درد محسوس کرنے سے عاری ہو چکے ہیں، کسی نے اس روتے ہوئے انسان کے اندر چھپے اس طوفان کو نہیں بھانپا جو کچھ ہی لمحوں بعد سب کچھ تباہ کرنے والا تھا۔
اور پھر وہ تاریک لمحہ آیا… جب خوف، پاگل پن اور شدید مایوسی نے اس کے شعور پر قبضہ کر لیا۔ آصف نے باری باری اپنی اس بیوی کو، جس نے اس کے اچھے برے وقت میں ساتھ دیا، اور ان معصوم، بے گناہ بچوں کو، جنہیں دنیا کی اونچی نیچی ہوا کا بھی علم نہ تھا، ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلا دیا۔ اس کے فوراً بعد، اپنے اس ہولناک فعل کے بوجھ اور کرب کو نہ سہتے ہوئے، اس نے خود بھی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
جب اس گھر سے جنازے اٹھے، تو وہ صرف لاشیں نہیں تھیں، وہ ہمارے پورے سماجی نظام، ہماری ہمدردی اور ہماری اخلاقیات کا جنازہ تھا۔
اس کہانی کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ اس میں قصور وار کون ہے؟ وہ معصوم بچے جن کا دنیا میں آنا اور جانا ان کے اپنے بس میں نہ تھا؟ وہ بیوی جو شوہر کے رحم و کرم پر تھی؟ یا وہ شخص جو حالات کی بھٹی میں جل کر کوئلہ ہو چکا تھا؟
حقیقت یہ ہے کہ اس جرم کی پہلی کڑی آصف کی اپنی ذات ہے، کیونکہ کسی بھی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مجبور ہو کر بھی کسی دوسرے کی سانسیں چھینے۔ لیکن اس جرم کی دوسری اتنی ہی بڑی کڑی وہ "نہ سننے والے” ہیں، وہ معاشرہ ہے جو کسی کے جیتے جی اس کی سسکیاں نہیں سنتا، مگر اس کے مرنے کے بعد اس کے تماشے کی ویڈیوز شیئر کرتا ہے۔
آصف، اس کی بیوی اور وہ معصوم بچے اب اس دنیا سے جا چکے ہیں۔ آصف کا حساب اب کائنات کی سب سے بڑی عدالت میں خدا کے حضور ہے، جہاں نہ کوئی ویڈیو چلے گی اور نہ کوئی عذر قبول ہوگا۔ مگر پیچھے رہ جانے والے اس معاشرے کے لیے، خاص طور پر ہمارے اپنوں کے لیے یہ واقعہ ایک عبرت ناک سبق ہے: اپنے آس پاس پھیلی خاموشیوں کو پڑھنا سیکھیں، اس سے پہلے کہ کسی کا ذہنی دباؤ اس حد تک پہنچ جائے کہ وہ محافظ سے قاتل بن جائے۔