کشمیر: احتجاج، بحران اور مذاکرات کی ضرورت

آج وہ کشمیر سے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر

موجودہ کشمیر کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ اس کے پسِ منظر میں گزشتہ چند دنوں سے جاری احتجاج اور پورے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کی معطلی شامل ہیں۔ کوئی بھی گروہ احتجاج کا راستہ اُس وقت اختیار کرتا ہے جب اسے اپنے بنیادی حقوق سے محروم محسوس ہو۔ بعض حقوق انسان کو مذہب عطا کرتا ہے اور بعض ریاست کی جانب سے فراہم کیے جاتے ہیں۔ آزادیِ رائے ایک ایسا حق ہے جس کی حمایت مذہب اور ریاست دونوں کرتے ہیں۔

کشمیر میں ہونے والے احتجاج میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مختلف مطالبات کے ساتھ شریک ہے۔ یہ احتجاج ایک ایسی تحریک کی قیادت میں جاری ہے جسے قائم ہوئے ابھی صرف تین سے چار سال ہوئے ہیں۔ اس تحریک کا نام عوامی ایکشن کمیٹی ہے۔ اس وقت یہ تحریک لاکھوں افراد کو اپنے ساتھ سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے کہ ایک نسبتاً نئی تحریک اُس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہے جسے آج تک کوئی سیاسی جماعت پُر نہ کر سکی۔

جہاں تک مطالبات کا تعلق ہے، عوامی مطالبات کے علاوہ یہ تحریک حکومت سے کچھ ایسے مطالبات بھی کر رہی ہے جن کی آئینی حیثیت خاصی مضبوط ہے، مثلاً مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ۔ تاہم آئین میں ترمیم کے بغیر ان نشستوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔ موجودہ حالات میں آئینی ترمیم بھی ایک مشکل مرحلہ ہے، خصوصاً جب کشمیر میں انتخابی عمل بھی درپیش ہو۔

اس دو طرفہ کشمکش میں ریاست کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ گزشتہ چند دنوں سے معمولاتِ زندگی درہم برہم ہیں۔ کہیں لوگ جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور کہیں مختلف اضلاع میں کرفیو جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ چند دنوں میں 100 سے زائد اموات باعثِ تشویش ہیں، خواہ ان کا تعلق عام شہریوں سے ہو یا کسی ادارے سے وابستہ افراد سے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جتنی بھی بڑی عوامی تحریکیں اور احتجاجی مظاہرے ہوئے، اگر اُن کا مقصد پورے نظام کو تبدیل کرنا تھا تو وہ انقلاب کی صورت اختیار کر گئے، ورنہ اکثر احتجاج بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ختم ہوئے۔ موجودہ کشمیر کے احتجاج کو بھی مذاکرات کی اشد ضرورت ہے۔ دونوں فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے، جبکہ کشمیر کی نامور شخصیات، خواہ ان کا تعلق سیاست، صحافت، مذہبی حلقوں یا سماجی شعبوں سے ہو، موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کریں تاکہ ریاست ایک بار پھر امن، استحکام اور ترقی کے سفر پر گامزن ہو سکے۔

خواب آنکھوں میں سلامت رہیں، تعبیر کی خیر
میرے مالک، میرے مولا، میرے کشمیر کی خیر

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے