جشنِ آزادی کی نئی پہچان… پاں، پاں پاں!

14 اگست آتے ہی پاکستان جاگ اٹھتا ہے۔ گلیاں جھنڈیوں سے سج جاتی ہیں، گھروں کی چھتوں پر سبز ہلالی پرچم لہرانے لگتے ہیں، ملی نغمے گونجتے ہیں اور بازار سبز و سفید رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔اور رکیے! جشنِ آزادی کی ایک نئی اور مقبول پہچان کو ہم کیسے بھول سکتے ہیں؟ وہ ہے پاں پاں باجا!

جسے بجانے کی آزادی ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ 14 اگست کی رات سڑکوں پر ایک طرف ملی نغمے ہوتے ہیں اور دوسری طرف پاں پاں کی ایسی لے کہ لگتا ہے جیسے باجا بھی جشنِ آزادی کی تقریب میں باقاعدہ شریک ہے۔

یہ بھی ہماری خوشی کا ایک انداز ہے۔ ہم خوش ہوتے ہیں، جشن مناتے ہیں، اپنے وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن اسی شور، رنگ اور جوش کے درمیان اگر چند لمحے رک کر یہ سوچ لیا جائے کہ جشنِ آزادی کا اصل مطلب کیا ہے تو شاید اس خوشی میں ایک اور خوبصورت معنی شامل ہوجائے۔ آخر آزادی صرف جشن منانے کا نام تو نہیں۔

چلیں، ذرا تاریخ میں جھانکتے ہیں۔

پاکستان کا قیام کسی ایک دن کا واقعہ نہیں تھا۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی سیاسی، فکری اور سماجی جدوجہد تھی۔ برصغیر کے مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہوا کہ وہ اپنی الگ تہذیبی، ثقافتی اور سیاسی شناخت رکھتے ہیں اور انہیں اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے چاہئیں۔

اسی سوچ کے سفر میں سر سید احمد خان اور سید امیر علی جیسے مسلم مفکرین نے مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی پر زور دیا۔ جدید تعلیم، عقل، معاشی خودمختاری اور بدلتی دنیا کو سمجھنے کی ضرورت پر بات ہوئی۔ پھر علامہ اقبال نے اسی مسلم شعور کو ایک وسیع فکری اور سیاسی سمت دینے کی کوشش کی۔ ان کے ہاں مسلمان صرف اپنے ماضی پر فخر کرنے والی قوم نہیں بلکہ علم، خودی اور اجتماعی قوت کے ذریعے اپنا مستقبل بنانے والی قوم تھے۔

یوں یہ سوچ آگے بڑھتی رہی، سیاسی جدوجہد مضبوط ہوتی گئی اور بالآخر قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کی حیثیت سے ابھرا۔

یعنی پاکستان کے قیام کے پیچھے صرف ایک الگ ملک کا حصول نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک ایسے معاشرے کا تصور بھی تھا جو باوقار، ترقی پسند، باشعور اور اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اور پھر پاکستان بن گیا!

مگر شاید اصل سفر اسی دن شروع ہوا تھا۔

آزادی حاصل کرنا ایک تاریخی کامیابی تھی، لیکن آزادی کو ایک کامیاب معاشرے میں تبدیل کرنا ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ سفر صرف حکومتوں یا چند افراد کا نہیں، ہم سب کا ہے۔

اسی لیے جشنِ آزادی کے ہنگامے میں ایک لمحے کے لیے یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہے کہ ترقی یافتہ اور باشعور معاشرے کی اصل پہچان کیا ہوتی ہے۔

ایسا معاشرہ اپنے حقوق کے ساتھ فرائض کو بھی سمجھتا ہے۔ قانون کی پابندی کو اپنی آزادی کے خلاف نہیں سمجھتا۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرتا ہے، دلیل سنتا ہے اور نئی نسل کو صرف کامیابی نہیں بلکہ ذمہ داری کا شعور بھی دیتا ہے۔

وہ تعلیم کو محض ڈگری تک محدود نہیں کرتا بلکہ علم، تحقیق، ہنر اور قابلیت کو ترقی کی بنیاد سمجھتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ آج کی تیاری ہی آنے والے کل کی سمت طے کرتی ہے۔

اور شاید سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ ایک باشعور معاشرہ اپنی کمزوریوں سے گھبراتا نہیں۔اپنی خامیوں کو تسلیم کرنا اپنے وطن سے محبت کے خلاف نہیں ہوتا۔ بلکہ جس چیز کو ہم اپنا سمجھتے ہیں، اسے بہتر دیکھنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ہم اپنے گھر کو اپنا سمجھتے ہیں تو اس کی ٹوٹی ہوئی چیز درست کرتے ہیں۔ اپنے بچے کی کمزوری دیکھتے ہیں تو اسے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے دوست کی خوبیوں کے ساتھ اس کی کمزوریوں کو بھی جانتے ہیں۔

پھر وطن تو ہم سب کا سانجھا ہے!!

اس کی کامیابی ہمارا فخر ہے اور اس کی بہتری کی ذمہ داری بھی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس لیے کسی خامی کی نشاندہی کو وطن سے دوری نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ نشاندہی کے بعد ہم بہتری کے لیے کیا کرتے ہیں۔یہی سوچ جشنِ آزادی کو محض ایک تقریب سے ایک احساس میں بدل دیتی ہے۔

جھنڈا لگائیں، ضرور لگائیں۔ ملی نغمے سنیں، ضرور سنیں۔ سبز لباس پہنیں، خوب پہنیں۔ بچوں کو پاکستان کی تاریخ بھی بتائیں اور یہ بھی سمجھائیں کہ وطن سے محبت صرف الفاظ نہیں، رویوں میں بھی نظر آتی ہے۔

اور اگر پاں پاں باجا بھی بجانا ہے تو جشن کی خوشی اپنی جگہ، بس اتنا خیال رہے کہ ہماری خوشی کسی دوسرے کے سکون کی قیمت پر نہ ہو۔
آخر آزادی کا حسن بھی تو یہی ہے کہ ہم اپنی آزادی کے ساتھ دوسروں کے حق کا بھی احترام کریں۔

یوں دیکھا جائے تو 14 اگست صرف ماضی کو یاد کرنے کا دن نہیں، اپنے آج کو دیکھنے اور مستقبل کی سمت پر غور کرنے کا موقع بھی ہے۔

پاکستان نے اپنے قیام کے بعد ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ اس دوران بہت کچھ حاصل ہوا، بہت کچھ سیکھا گیا اور کئی مشکل مرحلے بھی آئے۔ ہمارے پاس باصلاحیت نوجوان، قدرتی وسائل، اہم جغرافیائی حیثیت اور بے شمار امکانات موجود ہیں۔لیکن قوموں کا سفر کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ تعلیم، تحقیق، معیشت، شہری شعور، قانون کی پاسداری اور باہمی برداشت جیسے میدانوں میں آگے بڑھنے کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ہم صرف آج کے پاکستان کو نہ دیکھیں بلکہ اس پاکستان کا تصور بھی کریں جو ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑنا چاہتے ہیں۔

وطن سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کی ہر بات کو درست ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ محبت تو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں پر دل سے فخر کریں، کامیابیوں پر خوش ہوں اور جہاں بہتری کی گنجائش ہو وہاں بہتری کی خواہش بھی رکھیں۔

اس لیے شاید اس 14 اگست ہمیں صرف جشن نہیں منانا، بلکہ یہ احساس بھی تازہ کرنا ہے کہ پاکستان کسی ایک طبقے، ایک شہر، ایک نسل یا ایک وقت کا نام نہیں۔ اس کی کہانی میں ہمارا ماضی بھی ہے، ہمارا آج بھی اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی۔

تو آج جب گلیوں میں سبز پرچم لہرا رہے ہوں، ملی نغمے بج رہے ہوں اورگلی سے پھر وہ مانوس سی آواز آرہی ہو…

پاں… پاں پاں!

تو مسکرا دیجیے، جشن بھی منائیےاور شاید جشنِ آزادی کی سب سے خوبصورت بات بھی یہی ہے کہ ہم اپنے وطن پر فخر کریں، اس کی کامیابیوں کو سراہیں اور اس کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا حصہ ڈالتے رہیں۔

پاکستان زندہ باد!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے