پانی گفتگو کرتا ہے اور نہ ہی تقریر کرتا ہے، فتویٰ دیتا ہے اور نہ ہی کسی کو غدار یا گستاخ قرار دیتا ہے۔ بس بہتا ہے اور بہتا رہتا ہے۔ اور بہتے بہتے پتھروں کو تراش دیتا ہے، پہاڑوں کو راستہ دینے پر مجبور کر دیتا ہے، بنجر زمین کو زندگی بخش دیتا ہے۔ پانی کی اصل طاقت اس کی روانی میں ہے، اس کے جمود میں نہیں۔
آپ چاہیں تو پانی کو روک سکتے ہیں۔ بند باندھیں، جھیل بنائیں، خوبصورت نام رکھیں۔ مگر ایک شرط ہے۔ تازہ پانی آتا رہے اور پرانا پانی نکلتا رہے۔ جس دن آمد و اخراج کا یہ سلسلہ بند ہوا، اسی روز جھیل جوہڑ بننا شروع کر دے گی ۔
جھیل اور جوہڑ میں بظاہر کوئی فرق نہیں۔ دونوں میں پانی ہے، دونوں کا اپنا کنارہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جھیل سے پانی گزرتا رہتا ہے جبکہ جوہڑ میں پانی ٹھہرا رہتا ہے۔ جھیل میں مچھلیاں ہوتی ہیں، جوہڑ میں مچھر، جھیل سے پیاس بجھتی ہے، جوہڑ سے بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جھیل کے کنارے لوگ زندگی کا لطف لیتے ہیں جبکہ جوہڑ کے قریب بھی نہیں جا تے ۔ بس یہی کہانی معاشروں کی بھی ہے۔
زندہ معاشرے جھیل کی طرح ہوتے ہیں۔ وہاں سوال پوچھنا گناہ نہیں، عادت ہوتی ہے۔ اختلاف کو بغاوت نہیں، مکالمہ سمجھا جاتا ہے۔ نئی نسل پرانی نسل سے سیکھتی ہے اور پرانی نسل اتنی سمجھدار ہوتی ہے کہ نئی نسل سے بھی کچھ سیکھ لیتی ہے۔ وہاں کتابیں لکھی جاتی ہیں، پڑھی بھی جاتی ہیں، اور کبھی کبھی پرانے خیالات کو چیلنج بھی کیا جاتا ہے۔ جب کوئی نوجوان سوال کرتا ہے تو اس سے بزرگوں کا بلڈ پریشر نہیں بڑھتا، کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ سوال دشمن نہیں، دماغ کا سانس ہے۔
اور جو معاشرے جوہڑ بن جاتے ہیں؟
وہاں ایک عجیب مخلوق پیدا ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جو سوچتے کم اور دہراتے زیادہ ہیں۔ جو پڑھتے نہیں مگر سناتے بہت ہیں۔ جن کے ذہنوں میں "فارورڈڈ ایز ریسیوڈ” نے مستقل آئینی ترمیم کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ ہر پیچیدہ سوال کا جواب ان کے پاس ہوتا ہے، ایک پرانا کلپ، ایک ادھورا جملہ، یا کسی بزرگ کی ایک دھندلی سی تصویر ۔ آپ دلیل مانگیں تو وہ اس طرح حیران ہوتے ہیں جیسے کسی نے مچھلی سے سائیکل چلانے کا مطالبہ کر دیا ہو۔
ایسے معاشروں میں فتوؤں کی دکانیں خوب چلتی ہیں۔ ان دکانوں کے مالکان خود کو حق اور سچائی کا واحد ٹھیکیدار سمجھتے ہیں۔ ان کی حالت اس دکاندار جیسی ہے جو پچاس سال پرانا مال بیچ رہا ہو مگر دعویٰ یہ کرے کہ تازہ ترین اور جدید ترین سامان صرف اسی کے پاس ملتا ہے۔ ہر نیا خیال ان کی نظر میں سازش ہے، ہر نئی کتاب تہذیب کے جنازے کا اعلان، اور ہر سوال پوچھنے والا نوجوان در اصل کسی اجنبی ایجنڈے کا آلہ کار ہوتا ہے ۔
پھر اگر کبھی تازہ ہوا کا کوئی جھونکا آ جائے، کوئی نوجوان کوئی ایسا سوال کر بیٹھے جس کا جواب پرانے کلپوں میں نہ ملے، کوئی محقق کسی بیانیے کو دلیل سے چیلنج کر دے، یا کوئی فنکار معاشرے کو اس کا اصل چہرہ دکھانے کی جسارت کرے، تو اپنے آپ کو آسمان کا نمائندہ سمجھنے والوں کی نگاہیں غضب سے کانپنے لگتی ہیں۔ انہیں لگتا ہے جیسے ان کے گرد صدیوں سے تعمیر کی گئی دیواریں گرنے والی ہیں۔ جیسے کسی نے ان کے قالین کے نیچے جمع برسوں کی گرد اچانک سب کے سامنے جھاڑ دی ہو۔
یہ لوگ تبدیلی سے اتنا ہی ڈرتے ہیں جتنا بلی نہانے سے۔ ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ تہذیبیں سوالوں سے نہیں مرتیں، سوالوں سے زندہ رہتی ہیں۔ مرنا ہو تو بس سوچنا چھوڑ دیجیے، باقی کام وقت خود کر لیتا ہے۔ تاریخ نے ہمیشہ ایک ہی سبق دیا ہے کہ خیال کو طاقت سے دبایا نہیں جا سکتا ، خیال قید کے خود آنا چھوڑ نہیں دیتا .
زم زم کا مطلب "رک جا، رک جا” بتایا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق یہ الفاظ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی زبان سے نکلے تھے جب انہوں نے اس پانی کو روکنا چاہا۔ مگر وہ پانی آج بھی بہہ رہا ہے، ہزاروں برس سے بہہ رہا ہے ، اربوں انسانوں کو سیراب کر چکا ہے ۔ گویا قدرت نے ایک علامت دے دی کہ زندگی کا راز بہاؤ میں ہے، جمود میں نہیں۔
پانی کے سامنے دیوار کھڑی کریں گے تو وہ دیوار کے نیچے سے نکل جائے گا لیکن دیوار کو کچھ نہ کچھ کمزور ضرور کر جائے گا . اگلی بار جب آئے گا تو گرا بھی جائے گا . پانی اپنے کام میں مگن ہے ، اسے بہنا ہے . اس بہاؤ میں ہی اس کی زندگی ہے .معاشروں کی زندگی نئے خیال میں ہے . خیال کو قید کرو گے، وہ سرگوشیوں میں زندہ رہے گا۔ کتابیں جلاؤ گے ان میں رقم افکار حافظوں میں محفوظ ہو جائیں گے۔ سنسر کے پاس ہمیشہ قینچی ہوتی ہے، مگر خیال کے پاس ہمیشہ ایک اضافی راستہ ہوتا ہے۔
معاشروں کے سامنے انتخاب یہی ہے۔ جھیل بننا ہے یا جوہڑ؟ تازہ افکار کے لیے دروازے کھلے رکھنے ہیں یا ہر نئی سوچ پر تالہ لگانا ہے؟ جو معاشرے بہاؤ کو زندہ رکھتے ہیں وہ آگے بڑھتے ہیں۔ جو جمود کو عزت دیتے ہیں ان کے اندر تعفن پیدا ہوتا ہے، آہستہ آہستہ، خاموشی سے، بغیر کسی اعلان کے،،،پھر ایک دن جمودیت کے علمبردار لوگ حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ یہ بدبو کہاں سے آ رہی ہے۔
انہیں کون سمجھائے کہ بدبو باہر سے نہیں آئی۔ یہ تو اسی جوہڑ سے اٹھ رہی ہے جسے وہ برسوں سے جھیل سمجھ کر سلام کرتے رہے ہیں۔