جنت کا مخمصہ اور کچھ سوالات

فلسفیانہ مخمصے (Paradoxes) مجھے بہت پسند ہیں، دماغ کی کھڑکیاں کھول دیتے ہیں، یار لوگ ایسے ایسے سوال اٹھاتے ہیں کہ بندہ چکرا کر رہ جاتا ہے۔ جنت کا مخمصہ اور خیر و شر کا معمہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ سوال وہی سینکڑوں برس پرانا ہے کہ اگر خدا عادل و قادر ہے تو بندہ مزدور کے اوقات کیوں تلخ ہیں، دنیا میں بدی کیوں ہے، فلسطین میں ظلم کیوں ہو رہا ہے؟ صدیوں سے فلسفی اور متکلمین اس سوال کا ایک ہی روایتی جواب دیتے آئے ہیں کہ چونکہ خدا نے انسان کو فیصلہ کرنے کی آزادی کیساتھ پیدا کیا ہے لہٰذا اگر دنیا میں ظلم ہے تو وہ خدا کی وجہ سے نہیں بلکہ انسان کی اس آزادیِ انتخاب کا نتیجہ ہے۔

معتزلہ نے اِس پر سیر حاصل بحث کی ہے، مولانا مودودی کی کتاب ’مسئلہ جبر و قدر‘ بھی خاصی پُرمغز ہے، مگر آج ہم بھی اپنا حصہ ڈال دیتے ہیں۔ جنت کا مخمصہ یہ ہے کہ جب کوئی انسان دنیا کی آزمائشوں سے گزر کر جنت میں داخل ہوگا تو وہاں کا ماحول کیسا ہوگا؟ وہاں نہ کوئی دکھ ہوگا، نہ کوئی ظلم، نہ کوئی گناہ اور نہ ہی کوئی شر۔ وہاں صرف امن، خوشی اور پاکیزگی ہوگی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنت میں انسانوں کے پاس ’فری وِل‘ ہوگی یعنی وہ جنت میں مجبور ہوگا یا مختار؟

اگر جواب یہ ہے کہ جنت میں انسان مکمل آزاد ہوگا تو پھر منطقی طور پر یہ ماننا پڑے گا کہ ایک ایسی دنیا ممکن تھی جہاں انسان کے پاس مکمل آزادیِ انتخاب بھی ہوتی اور وہاں کسی قسم کا کوئی گناہ یا شر بھی جنم نہ لے سکتا۔ اگر ایسی دنیا ممکن تھی، جیسا کہ جنت میں ہوگا، تو پھر قادرِ مطلق نے اس کائنات کی ابتدا ہی ایک ایسی زمین سے کیوں نہ کی جہاں انسان آزاد اور مختار بھی ہوتا اور گناہ و ظلم کی گنجائش بھی نہ ہوتی؟

اور اگر جواب یہ ہے کہ جنت میں انسان کے پاس برائی کرنے کی آزادی نہیں ہوگی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنت میں انسان مجبور محض ہوگا۔ اگر جنت میں وہاں فری وِل نہیں ہوگی تو گویا وہاں انسانوں میں نیکی کی ’چِپ‘ لگا دی جائیگی جسکی وجہ سے وہ گناہ پر مائل ہی نہیں ہو سکیں گے۔ لیکن اگر خدا انسان کو روبوٹ بنا کر ہی خوش تھا تو پھر زمین پر انسان کو مختار بنانے اور معصوم بچوں کو جنگوں اور بیماریوں کی بھینٹ چڑھانے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے؟

کچھ سوالات مزید بھی ہیں۔ مثلاً، اگر جنت دائمی، غیر متبدل نعمتوں کی جگہ ہے جو بغیر کسی جدوجہد کے میسر ہوں گی تو وہاں کرنے کیلئے کیا ہوگا؟ اگر کسی قسم کا چیلنج نہیں ہوگا اور کوئی ہدف نہیں ہوگا تو کیاخوشیوں کی ابدیت آخر کار جمود، بے معنی پن، یا نفسیاتی بوریت کا باعث نہیں بن جائیگی؟ اگر آپ جنت میں ہوں اور یہ جانتے ہوں کہ آپ کے پیارے جنت کی بجائے دوزخ میں ہیں تو کیا پھر بھی آپ جنت میں خوش اور مطمئن رہیں گے؟ آخری سوال، اگر یہ دنیا محض آخرت کی زندگی تک پہنچنے کیلئے ایک عارضی سیڑھی ہے تو پھر موجودہ زندگی میں جدوجہد کرنے کی کیا تُک ہے؟

ایسا نہیں ہے کہ متکلمین اور فلسفیوں نے اِن سوالات کے جوابات نہیں دیے۔ سینٹ تھامس اکوائنس نے بوریت کے مسئلے کا خاصا دلچسپ جواب دیا، انہوں نے کہا کہ جنت اِس دنیا کے زمان و مکان سے باہر ہے، وہاں وقت لامتناہی ہوگا نہ کہ اِس دنیا کے حساب سے گنا جائے گا کہ آج اتوار ہے تو کل پیر کو کیا کریں گے، لہٰذا انسان کی دنیاوی بوریت کا اصول جنت پر لاگو نہیں ہوگا۔ انسان کے اختیار اور شر کے انتخاب کا مسئلہ سینٹ آگسٹائن نے یہ کہہ کر’حل‘ کر دیا کہ انسان کے کُلی طور پر مختار ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ شر کا انتخاب کر سکے بلکہ جنت میں اسے ’شعور‘ حاصل ہوگا کہ شر کا انتخاب درست فیصلہ نہیں اِس لیے وہ بااختیار ہونے کے باوجود بدی کی طرف مائل نہیں ہوگا۔ مجھے جرمن فلسفی لائبنیز کا نظریہ پسند ہے۔

اس نے کہا کہ خدا چونکہ علیم و خبیر ہے اِس لیے اُس نے جتنی بھی ممکنہ کائناتیں ہو سکتی تھیں اُن سب کا جائزہ لیا اور اُن میں سے اِس کائنات کو چنا۔ لائبنیز کے مطابق، یہ دنیا ’تمام ممکنہ دنیاؤں میں سب سے بہترین دنیا‘ہے۔خیر و شر کے متعلق اُسکا استدلال یہ تھا کہ کچھ اچھائیاں یا نیکیاں ایسی ہوتی ہیں جو برائی کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتیں۔ مثلاً، اگر دنیا میں ظلم نہ ہو تو انصاف کی کوئی قیمت نہیں، اگر دنیا میں خطرہ اور خوف نہ ہو تو بہادری جنم نہیں لے سکتی، اسلئے، ایک اعلیٰ اخلاقی نظام کیلئے شر کا وجود ہے۔

مجھے یوں لگتا ہے کہ انسان کا جو ماڈل اِس دنیا میں ’لانچ‘ کیا گیا ہے وہ ماڈل جنت میں نہیں ہوگا کیونکہ یہ دنیا زمان و مکان کی محتاج ہے جبکہ جنت کا تصور مابعدالطبیعاتی ہے۔ جس طرح نیوٹن کے فزکس کے قوانین اُس شے پر لاگو نہیں کیے جا سکتے جو روشنی کی رفتار سے سفر کر رہی ہو، بعینہ دنیا کے قوانین کا اطلاق جنت پر نہیں کیا جا سکتا۔ ہم کوانٹم مکینکس پر ’ایمان‘ رکھتے ہیں جو یہ کہتی ہے کہ ایک ذرے کی رفتار اور جگہ کا تعین بیک وقت نہیں کیا جا سکتا، وہ ذرہ کہیں بھی ’موجود‘ ہو سکتا ہے۔

جس طرح بظاہر یہ کوانٹم مکینکس کوئی ’تُک‘ نہیں بناتی بالکل اُسی طرح جنت کی بھی بظاہر کوئی منطق سمجھ نہیں آتی اور اِسکی وجہ یہ ہے کہ دونوں کی دنیائیں مختلف ہیں ۔ نیوٹن، آئن اسٹائن اور ہائیزن برگ، تینوں نے اسی دنیا کے قوانین پیش کیے مگر تینوں کا اطلاق مختلف صورتوں، حالتوں اور کیفیتوں میں ہوتا ہے، کہیں ایک قانون باطل ہو جاتا ہے تو کہیں دوسرا۔ اگر اِس ظاہری دنیا کی پیچیدگی کا یہ حال ہے تو جنت کی تو بات ہی چھوڑ دیں جو ویسے ہی مابعدالطبیعاتی ہے، ہم اُس پر دنیاوی قوانین اور اصولوں کا اطلاق کیوں کر کریں؟

بظاہر یہ موضوعات پامال ہو چکے ہیں مگر آج بھی انسان اِن سے بور نہیں ہوا، خاص طور سے نوجوان نسل جنکے ذہنوں کو محض رٹے رٹائے جوابات سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ باقی رہا حتمی جواب تو اُس کیلئےہمیں دنیا سے اپنے کوچ کرنے کا انتظار کرنا پڑے گا، پھر دیکھیں گے پردہ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے، یا آتی ہے!
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے