سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی سفارتی فتح: جب فوجی قیادت امن کی سفیر بنی

آج برف پوش سوئس پہاڑیوں کی بلندیوں پر برکن اسٹاک کے پُرسکون ریسارٹ میں ایک ایسا تاریخی لمحہ رونما ہو رہا ہے جس کا پاکستان کو کبھی گمان بھی نہ تھا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات میں پاکستان نہ صرف ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ اس کی اعلیٰ ترین فوجی اور سول قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف خود اس عمل کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے محض ایک سفارتی کامیابی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر اس کی شناخت اور وقار کی نئی تعریف ہے۔

یہ مذاکرات 17 جون 2026 کو طے پانے والے "اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت” کے تحت ہو رہے ہیں۔ اس معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کیے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بطور ثالث اس کی توثیق کی۔ تقریباً چار ماہ کی جنگ کے بعد یہ معاہدہ خلیج ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں میں نرمی اور 60 روزہ عمل کے ذریعے ایران کے ایٹمی پروگرام پر جامع طے پانے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔

آج برکن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات اس مفاہمت کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کی پہلی رسمی کوشش ہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی پارلیمان اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرخارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔ قطر بھی بطور شریک ثالث اس عمل میں شامل ہے
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا اس مذاکراتی عمل میں مرکزی کردار کوئی اتفاق نہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر وہ شخصیت ہیں جنہوں نے پاکستان کو امریکہ-ایران تنازع میں ایک "غیر متوقع سفارتی پل” کے طور پر ابھارا۔ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق، عاصم منیر نے براہ راست رابطوں، فون کالز اور ثالثی کے ذریعے دونوں رہنماؤں کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈروں سے واقفیت اور امریکی حکومت میں ان کی قابل اعتمادی نے پاکستان کو اس مشکل سفارتی کھیل میں کامیابی بخشی۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق اخلاص، پیشہ ورانہ مہارت حکمت اور خدا کے فضل سے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے کو بڑے تصادم سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کیا”۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں یہ ایک ایسی کامیابی ہے جو بغیر جنگ لڑے حاصل ہوئی اور اعلیٰ ترین سطح کی اسٹریٹجک سوچ کا عکاس ہے۔

پاکستان نے اپریل 2026 میں اسلام آباد میں امریکہ-ایران کے پہلے مذاکرات کی میزبانی کی۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل سفارتی رابطوں میں مصروف رہا۔ آج برکن اسٹاک میں یہ مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کو دونوں فریقوں کا اعتماد حاصل ہے۔

اس سفارتی کامیابی کے کئی ابعاد ہیں۔ اول، یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی "متوازن، تعمیری اور اصولی” حکمت عملی کا مظہر ہے۔ دوم، یہ پاکستان کو خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر ابھارتا ہے۔ تیسرا، یہ پاکستان کی معاشی اور جغرافیائی سیاسی حیثیت کو بھی تقویت دیتا ہے — خاص طور پر جب خلیج ہرمز کی بحری آمدورفت عالمی معیشت کے لیے مرکزی اہمیت رکھتی ہے۔

تاہم یہ راستہ آسان نہیں۔ ایران نے اسرائیل کی لبنان میں جاری کارروائیوں کے جواب میں خلیج ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جس نے مذاکرات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی حکام نے اسرائیل کے حملوں کو امریکی "بد عہدی” قرار دیا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ کے ترجمان نے "عزم کے بدلے عزم” کے اصول پر زور دیا ہے۔
ان چیلنجز کے باوجود، پاکستان اپنے ثالثی کردار پر قائم ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف مذاکرات کے موقع پر ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کی وفود کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔

آج برکن اسٹاک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض ایک سفارتی نشست نہیں یہ پاکستان کے لیے ایک نئی صبح ہے۔ ایک ایسا ملک جو کبھی علاقائی عدم استحکام کا شکار سمجھا جاتا تھا، آج عالمی امن کے لیے ایک ناگزیر ثالث بن کر ابھرا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی مشترکہ قیادت میں پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے، بلکہ عالمی تنازعات کے حل میں بھی اپنا مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ لمحہ پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے اور اس سے بڑھ کر، یہ ایک ذمہ داری ہے کہ وہ اس اعتماد کو برقرار رکھے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے۔ پاکستان آج ثالث نہیں، امن کا معمار ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے