دینِ مصطفیٰؐ اور محبتِ حسینؑ
آج سات محرم ہے۔ عصر ابھی ابھی ادا کی ہے اور والدہ صاحبہ سے منسوب اس جائے نماز پر بیٹھ کر لکھنے کی ہمت کر رہا ہوں۔ وہی جائے نماز جس پر برسوں ان کی پیشانی اللہ کے حضور جھکتی رہی، وہی جائے نماز جس کے دھاگوں میں شاید اب بھی ان دعاؤں کی خوشبو باقی ہو جو انہوں نے اپنی اولاد کے لیے مانگی تھیں۔
عصر کا وقت گزرنے کو ہے، مغرب کی آمد ہے، مگر واللہ دل کربلا کے ان خیموں میں ہے جہاں کائنات کی سب سے عظیم ہستی کے شاہی خاندان کے پھول پیاس سے تڑپ رہے ہیں۔ حسین ابن علیؑ و فاطمہؓ آنکھوں کے سامنے ہیں، وہ ایک خیمے سے دوسرے خیمے اور دوسرے سے تیسرے خیمے میں اپنے اہلِ خانہ کا حال پوچھ رہے ہیں اور سب کو صبر کی تلقین کر رہے ہیں۔ جو پانی عباس علمدارؑ اپنے ساتھیوں سمیت لائے تھے، وہ ختم ہو چکا ہے۔
گزشتہ قسط میں 7 اور 8 محرم کے لمحات بیان کیے تھے ، اب اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے نگاہِ قلم 9 محرم (تاسوعا) کے ان نازک ترین لمحات پر ہے جہاں ایک طرف ابنِ زیاد کا جبر اپنے عروج پر تھا اور دوسری طرف حضرت حبیبِ ابنِ مظاہرؒ جیسے وفا شعار اصحاب کا عزمِ استقامت تھا۔
کربلا کے واقعات کے سب سے معتبر اور اوّلین راوی وہ لوگ ہیں جو اس میدان سے زندہ لوٹے۔ اہلِ بیتؑ کی خواتین، بچے، اور ایک صحابیِ رسولؐ۔ انہی کی روایات کو بعد کے مؤرخین نے قلم بند کیا۔ 9 جیسا کہ حضرت زینبؑ، امام زین العابدینؑ، اور حضرت ام کلثومؑ نے بیان فرمایا، اور جو عقبہ بن سمعان[1] اور ابو مخنف[2] کے ذریعے محفوظ ہوا۔
اسفارِ حسینؑ: حق کے مسافر کا شاہراہِ عام پر سفر (قسط نمبر ۳)
عقبہ بن سمعان جو حضرت رباب (زوجۂ امامؑ) کا غلام تھا اور کربلا سے زندہ بچا اپنا دیکھا واقعہ یوں بیان کرتا ہے: دوپہر کے وقت شمر ذی الجوشن یزیدی لشکر لے کر خیموں کی طرف بڑھا، اس کے ہاتھ میں ابنِ زیاد کا وہ خط تھا جس میں حضرت عباسؑ اور ان کے بھائیوں کو امان کی پیشکش کی گئی تھی۔ شمر نے پکار کر کہا: یا بنی اُمّ البنین! کہاں ہو تم؟[3]
حضرت عباسؑ نے جواب میں فرمایا: یہ امان کس چیز کی؟ اللہ تجھ پر اور اس امان پر لعنت کرے! تم ہمیں اپنے مولا حسینؑ سے جدا کرکے امان دینا چاہتے ہو؟ ہرگز نہیں! پھر انہوں نے اپنے بھائیوں عبداللہ، جعفر اور عثمان کی طرف دیکھا اور کہا: کیا تم بھی یہی کہتے ہو؟ تینوں نے ایک آواز ہو کر کہا: جی ہاں، ہم بھی یہی کہتے ہیں۔[4]
اسفارِ مشرق بعید: قسط نمبر 2سفر
امام زین العابدینؑ جو بیماری کے باعث خیمے میں تھے اور بعد میں کربلا سے واپس لائے گئے فرماتے ہیں: عصر کے بعد جب یزیدی فوج بڑھی تو ابّاجانؑ نے حضرت عباسؑ کو حضرت حبیب ابن مظاہرؒ اور زہیر بن قین کے ہمراہ بھیجا کہ دشمن کا ارادہ معلوم کریں۔ دشمن نے کہا: ابنِ زیاد کا حکم ہے کہ فوری بیعت کرو یا لڑنے کو تیار ہو جاؤ۔[5]
امامؑ نے فرمایا: ابھی عجلت مت کرو، آج کی رات ہمیں مہلت دو تاکہ ہم اپنے رب سے دعا و نماز کر سکیں۔ عمر بن سعد نے مشورے کے بعد یہ بات مانی۔ امام زین العابدینؑ فرماتے ہیں: مجھے یقین ہے کہ ابّاجانؑ جانتے تھے یہ آخری رات ہے، انہوں نے یہ مہلت صرف اس لیے مانگی تاکہ اللہ کے حضور آخری سجدے ادا کر سکیں۔[6]
اسی رات کا ایک اور نہایت اہم واقعہ امام زین العابدینؑ نے بیان فرمایا۔ وہ کہتے ہیں کہ رات کے ایک حصے میں جب سب اصحاب عبادت اور تیاریوں میں مشغول تھے، ابّاجانؑ خیمے کے ایک کونے میں تنہا بیٹھے تھے اور آنکھیں مندلی تھیں۔ پھر جب آنکھیں کھلیں تو چہرۂ مبارک پر ایسا سکون تھا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ انہوں نے بی بی زینبؑ کو بلایا اور فرمایا: میں نے ابھی خواب میں نانا جانﷺ کو دیکھا ہے۔[7]
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس خواب میں فرمایا: اے حسین! تم نے اپنا کام پورا کر دیا، کل ہم سے آ ملو گے۔ یہ وہ شہادت ہے جو عرشِ الٰہی پر لکھی جا چکی ہے۔ حضرت زینبؑ فرماتی ہیں: جب بھائی جانؑ نے یہ سنایا تو میں رو پڑی، مگر انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور فرمایا: زینب! جو اللہ کا فیصلہ ہو اس پر صبر کرو، ہم اہلِ بیتِ نبوت کے لیے آنسو نہیں، بلکہ شکرِ خداوندی کے سزاوار ہیں۔[8]
حضرت زینبؑ جو کربلا سے کوفہ اور پھر شام لے جائی گئیں۔ فرماتی ہیں: جب بھائی جانؑ نے رات کو اصحاب کو جمع کیا اور چراغ بجھا دیا تو میں قریب ہو کر سننے لگی۔ انہوں نے فرمایا: میں تم سب کو بیعت سے آزاد کرتا ہوں، رات کا اندھیرا ہے، اپنے اپنے گھروں کو جاؤ۔ تمام اصحاب نے ایک آواز ہو کر کہا: یا ابنَ رسول اللہ! ہم کہاں جائیں؟[9]
حضرت زینبؑ فرماتی ہیں: جب میں نے یہ کلام سنا تو میرا دل بھر آیا یہ وفادار ہیں، یہ کہیں نہیں جائیں گے۔ اور پھر بھائی جانؑ کا وہ خواب یاد آیا جو انہوں نے ابھی سنایا تھا۔ یہ رات گزرنے کے بعد سورج پھر وہی نہیں رہے گا۔[10]
حضرت ام کلثومؑ جو کربلا کی چشم دید گواہ تھیں بیان کرتی ہیں کہ جب بی بی زینبؑ کے رونے کی آواز خیموں میں گونجی تو حضرت حبیبِ ابن مظاہرؒ وہ بوڑھے صحابیِ رسولؐ جن کے سر کے بال سفید ہو چکے تھے جھٹ سے اٹھے، تلوار میان سے نکالی اور تمام اصحاب کو باہر بلایا۔
انہوں نے کہا: مخدراتِ عصمت کو یقین دلاؤ کہ جب تک ہم زندہ ہیں، دشمن کی میلی آنکھ بھی ان خیموں کی طرف نہیں اٹھ سکتی۔[11]
حضرت ام کلثومؑ فرماتی ہیں: اس رات تمام اصحاب نے تلواریں لہراتے ہوئے قسمیں اٹھائیں کہ ہم ستر بار قتل ہو کر بھی واپس آئیں گے اور آپؑ کا دفاع کریں گے۔ وہ آواز آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے۔[12]
یہ 9 محرم کی وہ رات تھی جس میں نانا جانﷺ کی زیارت نے امامؑ کو سکونِ قلب عطا کیا اور وفاشعار اصحاب نے اپنے عہد کو آخری بار تازہ کیا کربلا کے زندہ بچ جانے والوں نے اسے یاد رکھا اور آج ہم تک پہنچایا۔ شام، یکم نومبر ۲۰۱۴ سات محرم کو میری والدہ کی آخری سانسیں چل رہی تھیں اور ہم سب ان کے اردگرد بیٹھ کر سورۂ یٰسین پڑھ رہے تھے۔ اور جب کسی کے منہ سے رونے کی آواز زیادہ ہو جاتی, تو ان کے آخری وقت میں بھی چہرے پر بے چینی کے آثار آ جاتے۔
ہم سب گاؤں والے، رشتہ دار، اس بات پر متفق ہیں کہ میری والدہ صاحبہ اللہ کی ولیہ تھیں۔ اور بڑے بھائی کہتے ہیں کہ محرم اکثر ان اولیائے اللہ کو اپنے ربِ عزیز کے پاس جانے کا وقت دکھا دیتا ہے۔ 8 محرم کو والدہ دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ وہ فرماتی تھیں: دنیا میں ہر کسی کو خود سے بہتر سمجھو، کبھی تکبر مت کرو، اور دنیا کے سامنے فرض نمازیں پڑھو، نوافل دنیا سے چھپ کر پڑھو۔ میری کیفیت محرم کے ساتویں دن بدل جاتی ہے۔ مجھے دو باتیں نہیں بھولتیں۔ ایک جب والدہ صاحبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ قبر میں جا رہی تھیں اور دوسری جب میں انجان درِ حسینؑ پر کربلا میں کھڑا تھا۔
کربلا میں میری آمد بغداد سے ہوئی تھی۔ یقین جانیے بغداد میں پہلی رات بہت بے چینی میں گزری تھی۔ ایئرپورٹ سے نکل کر ہوٹل ڈھونڈنا عذاب بن گیا تھا اور جہاں ہوٹل ملا وہ ایسی جگہ تھی کہ جگہ جگہ موسیقی تو بے چین ہی رہ گیا تھا۔ مگر صبح اللہ نے کاظمین شریفین کی ترتیب بنا دی. امام ابو حنیفہؒ کے مزار پر حاضری بھی دی۔ پھر کاظمین میں دو راتیں قیام کیا.اور اگلی صبح پہنچ گیا کربلا۔ مزارِ حسینؑ کے قریب چھوٹا سا ہوٹل تھا، کمرہ لیا اور چلا گیا غالباً ظہر کی نماز کے لیے کربلائے معلیٰ میں امام حسینؑ کے پاؤں کے پاس۔ میں اکثر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ان ہستیوں سے ملاقات کروائی اور ساتھ میں مجھے وہاں جانے کی اجازت ملتی رہی۔ اللہ کریم یہ سلسلہ تا مرگ جاری و ساری رکھے۔
ایک شخص آیا، آدھی اردو اور آدھی پنجابی بول رہا تھا۔ وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر دربارِ حسینؑ اور عباس علمدارؑ کے احاطے میں ایسے سمجھا رہا تھا جیسے اسے معلوم ہو کہ میں پہلی مرتبہ آیا ہوں۔ وہ شخص مجھے ہاتھ سے پکڑ کر پہلے عباس علمدارؑ اور دوبارہ پکڑ کر ابا عبداللہؑ اور ان کے ساتھ تشریف فرما اہلِ جنت کے پاس لے آیا اور اچانک کہا: یہ سرخ بتی دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا ہاں۔ کہتے ہیں یہ سامنے والی جگہ تھوڑی اونچی ہے۔ جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ہاتھ اٹھائے کہ ربِ ذوالجلال مجھے میرا بھائی دکھاؤ تو جیسے زمین تھوڑی اونچی ہوگئی ہو۔
میں نے پوچھا پھر؟ کہتے ہیں یہ جو سرخ بتیاں ہیں، یہاں امام صاحب کی گردن… یا اللہ کیسے لکھوں… یہاں امام حسینؑ کو ذبح کر دیا گیا تھا۔ اِنّا للّٰہ و اِنّا اِلَیْہِ راجعون۔ میری ماں 8 محرم کو دنیا سے رحلت فرما گئی تھیں۔ بہت بڑا سانحہ ہے۔ مگر حسینؑ کا غم میری ماں کے غم سے بہت بڑھ کر ہے۔ اس شخص نے جب یہ الفاظ اپنے منہ سے نکالے تو میرے آنسوؤں اور میرے رونے پر میرا اختیار نہ تھا۔ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اس کائنات کی کسی زبان میں ایسے الفاظ بنے ہی نہیں جو غمِ حسینؑ کو بیان کر سکیں۔ کربلا میں میں نے ڈیرے ڈال دیے اور پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا۔
جب میں تاریخ پڑھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے انسان اتنا گر سکتا ہے کہ خود کو مسلمان کہلانے والے نواسۂ رسول ﷺ کے خلاف برسرِپیکار تھے۔ آج بھی کچھ لوگ منہ میں محبت کا فریب لے کر یزید کی پشت پناہی کرتے ہیں، انہیں اپنی صفوں سے نکال باہر پھینکنا وقت کی ضرورت ہے۔ ابنِ ملجم اور شمر جیسے لوگ بھی اللہ اور رسول ﷺ کا نام لے کر ان ہستیوں کے مقابل آئے تھے۔ تاریخ بے رحم ہے، وہ سب کے پول کھول کر رکھتی ہے۔ درسِ حسینؑ یہی ہے: جو کل حسینؑ کے خلاف تھا، ہم اس کے خلاف ہیں۔ جو آج حسینؑ کے خلاف ہے، ہم اس کے خلاف ہیں۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو، کسی بھی مذہب سے ہو۔ دین کا تقاضا ہے کہ حسینؑ پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ میں حسینؑ کا تھا اور رہوں گا۔ میرا مسلک ایک ہے، اور وہ ہے حسینؑ کا طرزِ عمل: پہلے صبر کرو، پھر صبر، پھر صبر، اور پھر تلوار۔
اللہ شیعانِ علیؑ اور مومنین کی زندگیوں میں برکتیں ڈالے، وہ اکثر و بیشتر ان زیاراتِ سادات کی حاضری کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ اللہ اہلِ سنت والجماعت کے پیروکاروں کی زندگیوں میں بھی رحمتوں کا نزول کرے اور ہمیں بھی ان مقامات کی بار بار زیارت کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔ شیعانِ علیؑ اور اہلِ سنت والجماعت دونوں دینِ اسلام کی آنکھیں ہیں۔ دونوں میں نہ کوئی فرق ہے نہ کوئی عداوت۔ اللہ حاسدوں کے شر سے ان کو بچائے اور دونوں کو دینِ اسلام کے بازو بنائے۔ آمین۔ اختلاف میں کیا رکھا ہے؟ میرے اللہ نے نبیؐ کی ہر سنت اور عمل اور روایت اور حدیث کو زندہ رکھنا ہے۔
کوئی اہلِ حدیث ہے، کوئی تشیع، کوئی شافعی، کوئی امام حنبل تو کوئی مالک اور لیث بن سعد کے طریقے سے بجا وریِ دین کرتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا بس کہ اگلا غلط نہیں، وہ نبی کریمؐ کی سنتِ مبارکہ کو اپنی محبت و اطاعت میں قائم رکھنے میں کوشاں ہے۔ ہمیں اللہ اتحادِ دین و اسلام کے کام لائے۔ ا ہم نے کبھی خریداری کے وقت، سودا سلف کے وقت اور دنیا داری کے وقت اگر یہ نہیں سوچنا کہ سامنے والا انسان کون سے مسلک کا ہے تو ایمان و زہد و تقویٰ میں کیوں؟
اسلامک جورس پروڈنس میں پڑھا کہ یہ مسالک، یہ تفصیلی فکریں تو شریعت کو بیان کرنے کی مختلف صورتیں ہیں اور یقین جانیے کہ سب اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ ہمیں صبر کے ساتھ ایک دوسرے کی شرعی فکر کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اس پہ لڑنے کی نہیں۔ اب ذرا سوچیے کہ نکاح سے لے کر نماز و ترتیبِ دنیا کے بہت سارے اصولوں میں آئمہ آپس میں علمی اختلاف رکھتے ہیں تو کیا اس پہ ہم لڑ پڑیں گے یا مثال کے طور پر کسی کا نکاح یا کوئی اور شرعی حاجت قبول نہیں ہوگی؟ یا اگر میں شیعانِ علیؑ کی طرح سنی ہوتے ہوئے کربلا میں نماز ظہرین ادا کروں تو میری نماز نہیں ہوگی؟
یہ سوچ تنگ نظروں کی ہے۔ زندگی میں تمام مسالک والی خوبیاں لائیں تاکہ نبی کریمؐ کے دامن میں ایسے عمل کے ساتھ پیش ہوں کہ ان کی تمام سنتیں اور اطاعتیں ساتھ ہوں، نہ کہ کسی کا بغض ہو دل میں۔ کربلا کا یہی سبق و تدریس ہے۔ ہم ایک دین کے پیروکار ہیں۔ ہم میں کوئی لڑائی نہیں۔ ہمارے آباء و اجداد نے اپنی زندگیاں دین کے لیے قربان کر دی ہیں، وہ جنت کے مکین ہیں۔ ہمیں کیا کرنا ہے، کیا تاریخ بنانی ہے، کس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اور کیا اعمال لے کر آگے جانا ہے، یہ ضروری ہے۔
حواشی و مصادر
1. عقبہ بن سمعان: حضرت رباب (زوجۂ امام حسینؑ) کا غلام — کربلا میں موجود تھا، بعد میں رہا کر دیا گیا۔ روایات: مقتل الحسین، ابو مخنف، ص ۷۲-۹۵
2. ابو مخنف لوط بن یحییٰ (م. ۱۵۷ ھ): اوّلین عراقی مؤرخ، عینی شاہدین سے روایات جمع کیں۔ طبری نے ان کا پورا مواد شامل کیا: تاریخ الامم والملوک، طبری، ج ۵، ص ۴۰۰-۴۶۰
3. شمر کی آمد اور امانِ کذب: تاریخ الطبری، ج ۵، ص ۴۱۵؛ الارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص ۸۸؛ الکامل فی التاریخ، ابن اثیر، ج ۴، ص ۵۶
4. حضرت عباسؑ اور بھائیوں کا جواب: مقتل الحسین، ابو مخنف، ص ۸۲؛ انساب الاشراف، البلاذری، ج ۳، ص ۱۸۳؛ اللہوف، سید ابن طاووس، ص ۴۵
5. ایک رات کی مہلت کا مطالبہ: الارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص ۸۹؛ مقتل الحسین، ابو مخنف، ص ۸۵؛ تاریخ الطبری، ج ۵، ص ۴۱۶
6. مہلت کا مقصد — امام زین العابدینؑ کی روایت: الکامل فی التاریخ، ابن اثیر، ج ۴، ص ۵۷؛ بحار الانوار، علامہ مجلسی، ج ۴۵، ص ۳
7. رسول اللہﷺ کی خواب میں زیارت — امام زین العابدینؑ سے روایت: تاریخ الطبری، ج ۵، ص ۴۱۹؛ الارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص ۹۱؛ اللہوف، سید ابن طاووس، ص ۴۸-۴۹
8. رسول اللہﷺ کے الفاظ اور حضرت زینبؑ کا غم: بحار الانوار، علامہ مجلسی، ج ۴۵، ص ۳-۴؛ مقتل الحسین، خوارزمی، ج ۱، ص ۲۴۵؛ نفس المہموم، شیخ عباس قمی، بابِ شبِ عاشور
9. شبِ عاشور اصحاب کو آزادی دینا: تاریخ الطبری، ج ۵، ص ۴۱۸؛ الارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص ۹۱؛ اللہوف، سید ابن طاووس، ص ۴۷
10. حضرت زینبؑ کا بیان — خواب کے بعد: انساب الاشراف، البلاذری، ج ۳، ص ۱۸۵؛ نفس المہموم، شیخ عباس قمی، بابِ شبِ عاشور
11. حضرت حبیبِ ابن مظاہرؒ کا خیموں کا دفاع: اللہوف، سید ابن طاووس، ص ۴۸؛ نفس المہموم، شیخ عباس قمی، ص ۲۲۸
12. اصحاب کی آخری قسمیں: تاریخ الطبری، ج ۵، ص ۴۱۸؛ مقتل الحسین، ابو مخنف، ص ۸۷؛ الارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص ۹۱-۹۲
خاکِ پائے حسینؑ۔