دو دن پہلے میں اپنے پسندیدہ صحافی جو کبھی تھے ۔جناب عمر چیمہ صاحب کا ایک ٹویٹ دیکھ رہا تھا۔ وہ لکھ رہے تھے کہ برطانیہ گزشتہ دس برسوں میں سات وزرائے اعظم تبدیل کر چکا ہے۔ اس کے باوجود یہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے، یہاں مضبوط قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود ہیں، نظامِ حکومت مستحکم ہے، مگر پھر بھی لوگ مکمل طور پر مطمئن یا خوش نظر نہیں آتے۔
اس ٹویٹ پر میرے استاد پروفیسر طاہر ملک صاحب کا جواب بھی نظر سے گزرا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواہ لوگ خوش ہوں یا نہ ہوں، برطانیہ جیسے ممالک نے صدیوں کی جدوجہد اور سماجی معاہدے کے نتیجے میں جمہوری نظام قائم کیا ہے، اور وہ کسی صورت آمریت یا مطلق العنان طرزِ حکومت کی طرف واپس نہیں جائیں گے۔
ان دونوں آرا پر میں اپنا نقطۂ نظر پیش کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ پانچ برسوں سے برطانیہ میں رہنے، تقریباً ہر بڑے شہر کا مشاہدہ کرنے، مختلف قومیتوں کے لوگوں سے ملنے اور خاص طور پر مقامی برطانوی باشندوں کے ساتھ کام کرنے کے بعد میرا خیال ہے کہ میں اس حوالے سے نسبتاً بہتر رائے دے سکتا ہوں۔
برطانیہ میں دنیا کے تقریباً ہر ملک اور قوم کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں ہر فرد کو بنیادی حقوق حاصل ہیں اور ہر شخص کو اپنے مذہب، ثقافت اور رسم و رواج کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہے۔ بچپن ہی سے لوگوں کو دوسروں کے ساتھ ادب اور احترام سے پیش آنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ حکومت اور نجی شعبہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد معاشی سرگرمیوں میں شامل رہیں۔ اس کے علاوہ سال بھر مختلف تہوار، ثقافتی تقریبات، کھیلوں کے مقابلے اور عوامی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، جو معاشرے میں مثبت سرگرمی اور سماجی ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں۔
سڑکوں، پانی، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی سہولیات کا نظام ملک کے تقریباً ہر حصے تک پہنچا ہوا ہے۔ سب سے بڑھ کر قانون کی حکمرانی ایک ایسی حقیقت ہے جس کی مثال دنیا کے بہت سے ممالک میں مشکل سے ملتی ہے۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں سات وزرائے اعظم کیوں تبدیل ہوئے؟
میرے نزدیک اس کی ایک سادہ وجہ یہ ہے کہ یہاں نظام افراد کے بجائے اداروں پر قائم ہے۔ جب کوئی وزیر اعظم محسوس کرتا ہے کہ وہ موجودہ حالات اور چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی صلاحیت کھو چکا ہے، یا اس کی جماعت اور پارلیمان اس پر اعتماد نہیں کرتیں، تو وہ استعفیٰ دے دیتا ہے اور ایک عام رکنِ پارلیمان کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتا رہتا ہے۔ وہ اقتدار سے چمٹے رہنے کی کوشش نہیں کرتا، نہ ہی ذاتی اقتدار کی خاطر آئین اور قانون کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، مگر ریاستی پالیسیاں، ادارے اور نظامِ حکومت اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔
اسی لیے کسی ایک فرد کے جانے یا آنے سے پورا نظام متاثر نہیں ہوتا۔
جہاں تک بادشاہت کا تعلق ہے، برطانیہ میں آج بھی بادشاہ موجود ہے، لیکن وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ شاہی خاندان کے افراد بھی عوامی احتساب سے بالاتر نہیں ہیں۔ مختلف مواقع پر شاہی خاندان کے ارکان کو قانونی اور عوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قانون کی بالادستی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہے۔
برطانیہ کے لوگ اپنی روایات اور شاہی خاندان سے محبت رکھتے ہیں، لیکن وہ جمہوری اقدار پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا تصور یہاں مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ اسی طرح حکومت اور ریاستی اداروں پر تنقید کو بھی جمہوری عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
میرا سوال پاکستان کے صحافیوں، تجزیہ نگاروں اور دانشوروں سے یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے عوامی مسائل اور ان کے حل پر بحث کی؟ کیا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، تعلیمی نصاب، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت، یا ریاستی اداروں کی آئینی ذمہ داریوں پر مستقل اور مؤثر گفتگو کی گئی؟ کیا کبھی ججوں، جرنیلوں، بیوروکریٹس یا دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کی مراعات اور کارکردگی کا اسی شدت سے جائزہ لیا گیا جس شدت سے سیاسی شخصیات پر بحث کی جاتی ہے؟
اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر ہماری قومی بحث کا مرکز حقیقی مسائل کے بجائے شخصیات اور طاقت کے گرد کیوں گھومتا رہتا ہے۔
شاید یہی وہ سوال ہے جس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔