علم سیاسیات اور دینی علوم کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے میں سیاسی معاملات اور سماجی احوال کو دینی اصولوں کی روشنی میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ آج نو محرم کا دن ہے، عاشورہ کے ان بابرکت ایام میں یہی احساس قلم اٹھانے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ تحریر گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیر اعلیٰ جناب امجد حسین صاحب، ان کی کابینہ، قائد حزب اختلاف جناب حافظ حفیظ الرحمن صاحب، معزز اراکین اسمبلی، سیاسی قائدین، بیوروکریسی اور تمام بااختیار حلقوں کی خدمت میں بطور خیرخواہانہ گزارش پیش ہے، امید ہے اس تحریر کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے جنرل انتخابات مکمل ہو چکے ہیں،چند حلقوں کے سوا سارے معاملات پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہیں۔ گلگت بلتستان کی عوام نے اپنے نمائندوں کو امیدوں، خواہشوں اور مسائل کا بوجھ سونپ دیا ہے، مسائل بہت زیادہ ہیں اور وقت بہت ہی کم، تاہم اخلاص سے کام شروع کیا جائے تو کام وقت میں بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ اب اصل امتحان شروع ہوا ہے۔ الیکشن جیتنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، مگر عوام کی توقعات پر پورا اترنا، انصاف فراہم کرنا، وسائل کی منصفانہ تقسیم کرنا، مختلف اضلاع، مکاتبِ فکر، قبائل اور سیاسی جماعتوں، پریشر اور پروفشنل گروپس کو ساتھ لے کر چلنا اور ایک بہتر نظامِ حکمرانی قائم کرنا انتہائی مشکل اور صبر آزما کام ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا وہ تاریخی عہد نامہ یاد آتا ہے جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مصر کے گورنر جناب مالک اشتر کے نام تحریر فرمایا تھا۔ یہ ہدایت نامہ نہج البلاغہ میں خط نمبر 53 کے عنوان سے موجود ہے، اس کا عربی، فارسی ،انگریزی اور اردو کے تراجم آسانی سے دستیاب ہیں۔مجھے اس کے سند سے زیادہ متن میں دلچسپی ہے۔
لاریب! صدیاں گزر جانے کے باوجود اس أفاقی و الہامی دستاویز کی معنویت کم نہیں ہوئی۔ اس میں بیان کردہ اصول آج بھی ہر حکومت، ہر وزیر، ہر بیوروکریٹ اور ہر منتخب نمائندے کے لیے مشعلِ راہ بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس أفاقی لٹریچر کو تمام ممبران اسمبلی پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں اور تمام بیوروکریٹس کو بھی پڑھایا بلکہ سمجھایا جانے کی ضرورت ہے۔ اس خط کا اصل متن عربی میں ہے اور بہت مفصل ہے، میں کوشش کرکے اس کے چیدہ چیدہ نکات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں، ملاحظہ کیجیے۔
اس عظیم أفاقی عہد نامے کا پہلا اور بنیادی سبق "تقویٰ” ہے۔ بے شک! اقتدار و اختیار اگر خدا خوفی سے خالی ہو جائے تو وہ خدمت کے بجائے مفادات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ ہوں یا اپوزیشن لیڈر، وزیر ہوں یا رکن اسمبلی، سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار دائمی نہیں، لیکن اس کے فیصلوں کا حساب دائمی ہے اور اللہ کے ساتھ عوام بھی احتساب کرتی ہے اور تاریخ بھی۔
دوسرا بڑا اصول رعایا کے ساتھ رحمت اور شفقت کا ہے۔ حکمران اگر عوام سے دور ہو جائے، ان کے مسائل سننے کے بجائے صرف پروٹوکول اور درباری ماحول میں محصور ہو جائے تو حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں اور پھر یہ فاصلے کم ہونے میں طویل وقت درکار ہوتا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام آج بھی صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں اور بنیادی سہولیات، امن و امان، سیاسی و مذہبی اور قبائلی تعصب جیسے مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان مسائل کو سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے حل کرنا ہوگا۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا وہ تاریخی جملہ آج بھی انسانی حقوق کا عظیم منشور معلوم ہوتا ہے کہ "لوگ دو قسم کے ہیں، یا دین میں تمہارے بھائی ہیں یا انسانیت میں تمہارے برابر ہیں۔” اس اصول کی روشنی میں حکومت کو سیاسی وابستگی، علاقائی شناخت، مسلکی مذہبی تعلق، لسانی و رنگی امتیاز اور قبائلی و خاندانی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کرنا چاہیے۔
عدل و انصاف کسی بھی حکومت کی اصل بنیاد ہے۔ اگر طاقتور قانون سے بالاتر اور کمزور قانون کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو ریاست کے ستون کمزور ہو جاتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی نئی حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے کہ اداروں کو مضبوط بنائیں، قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں اور انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد بحال کریں۔ گلگت بلتستان ویسے بھی مختلف اعتبارات سے انتہائی حساسیت کا حامل خطہ ہے۔ ایسے حساس خطوں میں عدل و انصاف ضروری ہے۔
سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے اس فرمان مبارک میں ،مالک اشتر کو اہل اور دیانت دار افراد کو ذمہ داریاں دینے پر خاص زور دیا ہے۔ گلگت بلتستان کی ترقی کا انحصار بھی اسی اصول پر ہے۔ اگر تقرریوں اور ترقیوں میں اقربا پروری، سیاسی سفارش اور ذاتی تعلقات کو معیار بنایا گیا تو میرٹ، کارکردگی اور اداروں کی ساکھ متاثر ہوگی۔ امجد صاحب اورحکومتی کارپردازوں کو چاہیے کہ اہلیت، دیانت اور صلاحیت کو اولین معیار بنائیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مشاورت کو حکمرانی کا لازمی جزو قرار دیا۔ آج کے دور میں بھی کامیاب حکومت وہی ہوتی ہے جو مختلف آراء کو سنے، تنقید برداشت کرے اور اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھائے۔ اپوزیشن کو دشمن سمجھنے کے بجائے ایک آئینی اور جمہوری ضرورت سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح اپوزیشن کی ذمہ داری بھی صرف مخالفت نہیں بلکہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا ہے۔ اس حوالے سے امجد صاحب اور حفیظ صاحب کے اسمبلی کے پہلے سیشن کے کلمات و خیالات سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ یہی فراخ دلی کی مزید بھی توقع کی جاسکتی ہے۔
گلگت بلتستان جیسے خطے میں مالی شفافیت، ترقیاتی فنڈز کا درست استعمال اور کرپشن کے خلاف مؤثر اقدامات انتہائی اہم ہیں۔ عوام کے وسائل عوام کی امانت ہیں۔ ان کا ایک ایک روپیہ عوامی فلاح پر خرچ ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی تشہیر، سیاسی مفادات یا غیر ضروری منصوبوں اور اشرافیہ پر خرچ ہو۔
سیدنا علی رضی اللہ کی طرف سے ہدایت نامہ مالک اشتر میں کسانوں، تاجروں، غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور محروم طبقات کے حقوق پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ یہ وہ طبقے ہیں جو اکثر اقتدار کے ایوانوں میں اپنی آواز نہیں پہنچا پاتے۔ ایک اچھی حکومت کی پہچان یہی ہے کہ وہ کمزور ترین شہری کو بھی تحفظ اور سہارا فراہم کرے۔ کیا امجد صاحب اور اس کی ٹیم ایسا کرنے میں کامیاب ہونگی؟
گلگت بلتستان کے عوام نے نئی حکومت اور نئی اسمبلی کو امید کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ شاہراہِ قراقرم کی بندشوں، پانی کے مسائل، تعلیم و صحت کی کمزوریوں، بے روزگاری، مہنگائی اور انتظامی بدعنوانیوں جیسے مسائل پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔ عوام اب نعروں سے زیادہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔
بار دگر عرض ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا، اس مفصل ہدایت نامہ جو کامیاب حکومت پر مشتمل ہے کا خلاصہ بیس پوائنٹس میں پیش ہے۔
1۔ تقویٰ اور خدا خوفی
2۔ رعایا سے رحمت و شفقت اور ربط و تعلق
3۔ تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک
4۔ عدل و انصاف کا قیام
5۔ اہل اور دیانت دار افسران کا انتخاب
6۔ اہل علم و ماہرین حکومت و ہنر سے مشاورت کا نظام
7۔ فورسز کی نگرانی، فلاح و بہترین تعلقات
8۔ عدلیہ کی آزادی اور ججز کا میرٹ پر تقرری
9۔ مالی شفافیت،کرپشن سے پرہیز
10۔ ٹیکس اور محصولات میں اعتدال و توازن
11۔ کسانوں اور زراعت و جنگلات کا تحفظ
12۔ تجارت اور صنعت کی حوصلہ افزائی
13۔ غریب اور کمزور طبقات کی کفالت و محروم طبقات کی فلاح
14۔ عوام تک رسائی اور شکایات کا ازالہ
15۔ خوشامد اور خوش آمدیوں سے بچنا
16۔ وعدوں اور معاہدوں کی پابندی و پاسداری
17۔ غصے پر قابو اور جذباتی فیصلے نہ کرنا۔
18۔ احتساب کا شفاف نظام اور انتقام سے پرہیز
19۔ وقت کی تنظیم اور درست استعمال
20۔ عاجزی، انکساری ،روادی اور سماجی ہم آہنگی
اور ان بیس پوائنٹس کا خلاصہ پانچ الفاظ میں یعنی تقویٰ، عدل، رحمت، امانت ودیانت اور عوامی خدمت پر مشتمل ہے، بس ان کو ملحوظ رکھیں۔
یاد رہے! حکمرانی آسان نہیں۔ یہ صرف اختیارات اور پروٹوکول کا نام نہیں بلکہ جواب دہی، ذمہ داری ، ایثار و قربانی، احساس، انصاف، امانت و دیانت اور خدمت خلق کا دوسرا نام ہے۔ جوبھی حاکم اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے وہ تاریخ میں عزت پاتا ہے، اپنے اور پرائے سب قبول کرلیتے ہیں، اور جو اسے بھول جاتا ہے وہ اقتدار کے باوجود عوام کے دلوں میں جگہ نہیں بنا پاتا۔ اور پھر ہمیشہ کے لئے نسیا منسیا ہوجاتا ہے۔
آخر میں وزیر اعلیٰ جناب امجد حسین صاحب، قائد حزب اختلاف جناب حافظ حفیظ الرحمن صاحب اور تمام معزز اراکین اسمبلی سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اقتدار اور سیاست کو محض کامیابی کا نہیں بلکہ امانت اور خدمت کا میدان سمجھیں۔ اگر عہدِ مالک اشتر کے چند بنیادی اصول بھی اخلاص کے ساتھ نافذ ہو جائیں تو گلگت بلتستان میں اچھی حکمرانی، عوامی اعتماد اور حقیقی ترقی کی نئی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ کیا وہ ایسا کریں گے؟۔