خالدہ حسین کا شمار اردو ادب کی ان منفرد افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تحریروں میں ایک علیحدہ شناخت قائم کی۔ وہ نہ صرف پاکستان کی بہترین افسانہ نگاروں میں شمار کی جاتی ہیں بلکہ انہوں نے اردو افسانے میں جدیدیت اور علامت نگاری کا ایک نیا رجحان متعارف کرایا۔
خالدہ حسین 18 جولائی 1938 کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام خالدہ اصغر تھا۔ ان کے والد ڈاکٹر اے جی اصغر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور کے وائس چانسلر تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی اور بعد ازاں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ انہوں نے اورینٹل کالج، لاہور اور پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔
وہ ایک استاد کے طور پر بھی وابستہ رہیں لیکن ان کی اصل شناخت ایک افسانہ نگار کے طور پر ہے۔ خالدہ حسین نے اپنی تحریروں کا آغاز 1956 میں کیا۔ ان کی ابتدائی کہانیوں میں انتظار حسین کے اسلوب کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں، مگر جلد ہی انہوں نے اپنا منفرد راستہ اختیار کیا۔ خالدہ حسین کی شادی اقبال حسین سے ہوئی، جو ایک سرکاری محکمے میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ شادی کے بعد وہ خالدہ اصغر سے خالدہ حسین بنیں اور کچھ عرصے کے لیے انہوں نے گھریلو ذمہ داریوں اور بچوں کی پرورش کی وجہ سے لکھنا چھوڑ دیا تھا، جسے ادبی حلقوں میں ان کی "طویل خاموشی” کا دور کہا جاتا ہے۔ بعد میں انہوں نے پہچان مجموعے کے ساتھ شاندار واپسی کی۔
ان کے افسانوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ چھوٹے، عام اور بظاہر معمولی واقعات کے ذریعے انسانی زندگی کے گہرے سوالات کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کا افسانہ "سواری” اردو ادب میں لایعنیت اور خوف کی فضا کو پیش کرنے والا ایک شاہکار علامتی افسانہ مانا جاتا ہے۔
خالدہ حسین کی نمایاں کتابوں میں پہچان، دروازہ، مصروف عورت، ہائی وے، گاڑی بھر رات اور ناول کاغذی گھاٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے مجموعے مجموعۂ خالدہ حسین، مقالات اور پاکستانی ادب – حصۂ نثر بھی معروف ہیں۔ یہ تمام تصانیف ان کے اس منفرد علامتی اسلوب اور وجودی فکر کی نمائندگی کرتی ہیں جو انہیں اردو افسانے کی تاریخ میں ایک بلند مقام عطا کرتی ہیں۔
خالدہ حسین کو ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔
ان کی اولاد میں بیٹے اور بیٹیاں شامل ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے اپنے شعبوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ زندگی کے آخری برسوں میں وہ اپنی بیٹی کے پاس اسلام آباد منتقل ہو گئی تھیں اور 11 جنوری 2019 کو اسلام آباد میں 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز نے ان کے اعزاز میں تعزیتی تقریب منعقد کی، اور ادبی حلقوں نے ان کے فن پر تفصیلی مضامین شائع کیے۔
خالدہ حسین کی تحریریں آج بھی اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کا منفرد اسلوب، انسانی نفسیات کی گہری سمجھ اور خود شناسی کا سفر انہیں اردو افسانے کی تاریخ میں ایک خاص مقام عطا کرتا ہے۔