آج صبح ہی سے کراچی کے ہر کونے سے دین کے طالب علموں کا رخ مادرِ علمی جامعہ دارالعلوم کراچی کی طرف تھا، یہ شائقین استاذِ محترم شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم کے درسِ حدیث میں شرکت کے لئے جوق در جوق چلے آرہے تھے، آج کا یہ اجتماع کوئی عوامی جلسہ نہیں تھا، بلکہ خالص علماء کرام اور طلبہ کرام کی مجلس تھی، مجلس کا انعقاد نمازِ جمعہ کے بعد ہونا تھا اور حضرت استاذِ محترم کی نمازِ جمعہ کے بیان کے لئے آمد سے قبل ہی مسجد کا اکثر مرکزی حصہ شائقینِ حدیث سے بھر چکا تھا، اور عوام کی شرکت سے ساتھ آج دارالعلوم میں نمازِ جمعہ کا اجتماع انتہائی بھرپور تھا ماشاءاللہ۔
یہ درسِ حدیث کا حلقہ تھا جس میں شرکت کرنے والے دور دور سے صرف اس غرض سے تشریف لائے تھے کہ وقت کے محدّث سے اجازتِ حدیث لے کر حدیث شریف کے سلسلہ طیبہ میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کرسکیں۔
یہ مجلس امتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کی اپنے آقا دو جہاں سے محبت کی ایک ادا کو آگے منتقل کرنے کی مجلس تھی۔
یہ امتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کا امتیاز ہے کہ انہوں نے نہ صرف حدیث (وحی غیر متلو) کو انتہائی باریک اصولوں کو مد نظر رکھ کر منضبط کیا، بلکہ بعض احادیث کو اس ادا یا وقت کے ساتھ تسلسل کے ساتھ روایت کیا جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص ادا سے ارشاد فرمایا یا ایک خاص وقت پر ارشاد فرمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار ایسی احادیث کو اسی ادا یا وقت کی پاپندی کے ساتھ بیان فرماتے آرہے ہیں، اسی کو "تسلسل” اور ایسی احادیث کو "مسلسلات” کہا جاتا ہے۔
حضرت شیخ صاحب مدظلہ العالی نے آج کی مجلس میں تمام حاضرین کو "مسلسلات” کے ساتھ ساتھ اپنی تمام مرویات کی اجازتِ عامہ عطا فرمائی۔
حضرت والا نے درج ذیل مسلسلات کی اجازت عنایت فرمائی:
1) مسلسل بالأولية.
2) مسلسل بالمحبة.
3) مسلسل بوضع الید علی الرأس۔
4) مسلسل بیوم عاشورہ۔
5) مسلسل بالعد على الأصابع.
6) مسلسل بالقبض على اللّحية.
7) مسلسل بقراءة سورة الصف.
8) مسلسل بالمصافحة.
9) مسلسل بتشبيك اليد.
مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے "مسلسل بالمصافحة” اور "مسلسل بتشبيك اليد” کے تسلسل پر عمل کے لئے سب شرکاء سے الگ الگ مصافحہ اور تشبیک کرنا ممکن نہیں تھا اس لئے حضرت والا نے حاضرین سے استفسار فرمایا کہ وہ سب اپنی طرف سے مصافحہ اور تشبیک کے لئے استاذِ محترم حضرت مولانا عمران اشرف عثمانی صاحب مدظلہم کو اپنا نائب بنادیں، لہذا انہوں نے اپنے جلیل القدر والدِ محترم حضرت شیخ سے پورے مجمع کی نیابت میں مصافحہ اور تشبیک فرمائی۔
اس مجلس کے لئے یومِ عاشورہ کا انتخاب مسلسل بیوم عاشورہ کی وجہ سے ہے، ان میں سے بعض احادیث یا ان کا تسلسل ضعیف ہے، لیکن ضعیف ہونے کی وجہ سے بالکل متروک نہیں کیا جائے گا اور بڑے بڑے محدثین جو حدیث کے معاملے میں بہت محتاط ہیں وہ بھی یہ احادیث بیان فرماتے آرہے ہیں۔
آج دارالعلوم کراچی کی مسجد میں طالبینِ حدیث کا یہ بھرپور اجتماع دیکھ کر سب سے زیادہ سرشاری اس تصوّر سے ہوئی کہ یہ سب حاضرین حدیث کی نسبت سے جمع ہوئے ہیں اور ساتھ ہی قدیم اور کبار محدّثین کے حدیث کے وسیع حلقوں کے جو احوال سن رکھے تھے وہ ذہن میں گردش کرنے لگے۔ الحمد للہ۔
اللہ تعالیٰ ایسے مبارک حلقوں کو پورے عالمِ اسلام میں قائم و دائم رکھے اور مزید اضافہ فرمائے۔ آمین۔