رحمت شاہ سائل: فن و فکر کی سکونت کا مکین

پشتو کے معاصر ادب کی وسیع فضا میں جب ہم رحمت شاہ سائل کا نام لیتے ہیں تو اس سے مراد محض ایک شاعر کا نام نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسے فکری اور تخلیقی جہان کا حوالہ ہوتا ہے جو اپنی ذات میں ایک مکمل کائنات رکھتا ہے۔ سائل اُن نابغۂ روزگار تخلیق کاروں میں سے ہیں جن کا فن صرف لفظوں کی خوب صورتی تک محدود نہیں، بلکہ انہوں نے فکر، معنی اور احساس کا ایسا مربوط نظام تشکیل دیا ہے جس نے شاعر اور شاعری کے درمیان موجود فاصلے کو مٹا دیا ہے۔

سائل یقیناً الفاظ کو ترتیب دینے اور مصرعوں کو تراشنے کے ہنر سے آشنا ہیں، مگر ان کی اصل عظمت اس میں ہے کہ وہ اپنے لفظوں میں زندگی کی سانس پھونک دیتے ہیں۔ ان کی شاعری محض ان کے ذاتی جذبات کا اظہار نہیں ہوتی بلکہ قاری کے باطن میں بھی احساسات اور ادراک کے نئے سانچے تشکیل دیتی ہے۔ یوں وہ اپنے قاری کو براہِ راست تخلیقی تجربے کا شریک بنا لیتے ہیں۔ سائل کا شعر صرف الفاظ کی سطح پر گفتگو نہیں کرتا بلکہ شعور، حافظے اور وجدان کے بند دریچوں پر بھی دستک دیتا ہے۔

سائل کا تخیل روایتی شعری پیکروں اور مروجہ استعاراتی چوکھٹوں میں مقید نہیں رہتا۔ وہ بعض اوقات ایسے فکری اور معنوی مناظر تخلیق کرتے ہیں گویا کائنات کی پیشانی پر کوئی نیا نقش ثبت کر رہے ہوں۔ ان کے بعض استعارات اور فکری اشارے اس قدر بلند اور آگے کی چیز ہیں کہ میرے خیال میں ابھی تنقیدی شعور کی زبان بھی اس مرحلے تک پوری طرح نہیں پہنچی۔ ان کا تخیل صرف موجود حقائق کا عکس پیش نہیں کرتا بلکہ ان ان دیکھے افقوں کی مصوری بھی کرتا ہے جنہیں سمجھنے اور بیان کرنے کے لیے تنقید کی موجودہ زبان ابھی کوئی واضح اور مؤثر ڈسکورس تشکیل نہیں دے سکی۔ اسی لیے ہم آج بھی ان کے فن کو سمجھنے کے لیے روایتی تنقیدی اصطلاحات ہی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

سائل کی فکر انسان، زندگی، حسن، عشق، تاریخ اور معاشرے کے حوالے سے گہرے تجربے اور وسیع مشاہدے کا حاصل ہے۔ بسا اوقات وہ حقیقت کے ان گوشوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتے ہیں جو تضادات کے معمول کے جدلیاتی تناظر سے بھی اوجھل رہ جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری جمالیاتی لطف کے ساتھ ساتھ فکری تحریک بھی پیدا کرتی ہے اور قاری کو نئے زاویوں سے دیکھنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔

سائل نے اپنی شاعری کو زندگی سے کبھی جدا نہیں ہونے دیا۔ ان کی شخصیت میں جو اخلاقی وقار، انسانی محبت اور فکری استقامت موجود ہے، وہ ان کی شاعری کے مزاج اور رنگ سے مکمل ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے۔ ان کے وجود میں شاعری محض ایک فن یا صنعت نہیں بلکہ جینے کا ایک اسلوب ہے۔ اسی لیے سائل کا شعر سائل کے رنگ میں نظر آتا ہے اور سائل اپنی شاعری کے رنگ میں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بہت کم تخلیق کار پہنچ پاتے ہیں۔

تصوف کی اصطلاح میں پیر روشان اس کیفیت کو ’’سکونت‘‘ کا نام دیتے ہیں، یعنی وہ مرحلہ جہاں وجود اپنے حقیقی گھر میں قیام پذیر ہو جائے اور ظاہر و باطن کے درمیان حائل دیوار گر جائے۔ پشتو ادب کی دنیا میں چند دیگر شخصیات کے ساتھ رحمت شاہ سائل بھی اپنے فن کے اس مقام پر ایک مستقل مکین دکھائی دیتے ہیں۔

اسی لیے جب کوئی شخص ان کے فن و فکر کی کائنات کے روبرو کھڑا ہوتا ہے تو اسے صرف ایک عظیم شاعر ہی نہیں بلکہ ایک عظیم انسان کے قد و قامت کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ اور یہ سامنا احترام و عقیدت کے اس احساس کو بیدار کر دیتا ہے جس کے سامنے سر بے اختیار جھک جاتا ہے۔ اس لیے کہ رحمت شاہ سائل بہت سوں کی طرح محض ایک شاعر نہیں، بلکہ ایک ادبی اور انسانی تجربہ ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے