دل سے اگر نکل گئی سوزِ انسانیت کی لو
پھر دعویٰٔ اشرفیت بھی رہتا نہیں باوقار
(آمنہ درانی)
اگر انسانیت واقعی سب کے لیے برابر ہے تو پھر فلسطین کے معصوم بچوں، بے گھر خاندانوں، تباہ حال بستیوں اور پامال ہوتے بنیادی انسانی حقوق کے لیے انصاف بھی سب کے لیے برابر کیوں نہیں؟ اگر عالمی قوانین، انسانی حقوق اور انصاف کے اصول عالمگیر ہیں تو فلسطین ان اصولوں سے مستثنیٰ کیوں دکھائی دیتا ہے؟
کیا مظلوم کی فریاد صرف اسی وقت سنی جاتی ہے جب وہ طاقتور کے مفادات سے نہ ٹکراتی ہو؟ اور اگر ایسا نہیں تو پھر فلسطین آج بھی انصاف کا منتظر کیوں ہے؟
فلسطین میں بچوں کی ہلاکتیں، شہری آبادی کی تباہی، گھروں کی مسماری، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور عبادت گاہوں پر حملے، لاکھوں افراد کی بے گھری اور قبرستانوں کو پہنچنے والے نقصان کے واقعات دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔ زندہ انسان تو پہلے ہی شدید مصائب کا شکار ہیں، مگر مردوں کے احترام پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کی گلیوں میں ہر طرف ملبے کے ڈھیر، اجڑے ہوئے گھر اور تباہی کی داستانیں نظر آتی ہیں۔ ہر گزرتا دن نئی ہلاکتوں، نئے زخموں اور نئے المیوں کی خبر لے کر آتا ہے۔
اس کے باوجود ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر اسرائیل کے خلاف آج تک کوئی ایسی مؤثر بین الاقوامی پابندی یا فیصلہ کن کارروائی کیوں سامنے نہیں آئی جو بین الاقوامی قانون کے غیر جانب دار نفاذ کی عکاسی کرے؟ اگر عالمی قوانین واقعی سب کے لیے برابر ہیں، تو پھر ان کا اطلاق بھی سب پر یکساں کیوں نظر نہیں آتا؟
دنیا کے مختلف تنازعات میں فوری پابندیاں عائد کی جاتی ہیں ،سفارتی دباؤ بڑھایا جاتا ہے، عالمی ادارے متحرک ہو جاتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے۔ مگر فلسطین کے معاملے میں یہی رفتار یہی سنجیدگی اور یہی مؤثر عملی اقدامات کیوں دکھائی نہیں دیتے؟کیا انصاف کا معیار طاقت، سیاست اور مفادات کے مطابق تبدیل ہو جاتا ہے؟
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کوئی ریاست بار بار فوجی کارروائیاں کرے، مختلف ممالک کی خودمختاری کو چیلنج کرےیا ایسے اقدامات کرے جن پر بین الاقوامی سطح پر شدید اعتراضات سامنے آئیں تو کیا عالمی نظام کے پاس صرف تشویش کے بیانات ہی رہ گئے ہیں؟ اگر طاقت ہی قانون بن جائے اور قانون طاقت کے سامنے بے بس ہو جائے تو پھر عالمی انصاف کی بنیاد کہاں باقی رہ جاتی ہے؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم ممالک کی جانب سے بیانات، سفارتی کوششوں اور مختلف اقدامات کے باوجود بہت سے لوگوں کی نظر میں وہ مؤثر عملی نتائج سامنے نہیں آ سکے جن کی توقع کی جا رہی تھی۔ شاید ہم یہ بھول رہے ہیں کہ اگر آج کسی ایک خطے میں ظلم، ناانصافی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر مؤثر ردِعمل نہیں دیا جا رہا تو کل یہی خاموشی کسی اور سرزمین کا مقدر بھی بن سکتی ہے۔
ظالم کے ظلم سے زیادہ خطرناک اُن لوگوں کی خاموشی ہوتی ہے جو سب کچھ دیکھ کر بھی تماشائی بنے رہتے ہیں۔ جب اہلِ ضمیر خاموش ہو جائیں تو یہی خاموشی ظلم کو طاقت، ظالم کو حوصلہ اور مظلوم کو تنہائی عطا کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم صرف ظالم کی قوت سے نہیں بلکہ خاموش تماشائیوں کی بے حسی سے بھی پروان چڑھتا ہے۔
اگر عالمی برادری واقعی انسانی حقوق، انصاف اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو پھر ضروری ہے کہ ہر الزام ہر ممکنہ جنگی جرم اور ہر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق کیا جائے اور انصاف کا معیار ہر قوم ،ہر ملک اور ہر انسان کے لیے یکساں رکھا جائےکیونکہ جب انصاف کا ترازو سب کے لیے برابر نہ رہے تو سوال صرف فلسطین کا نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کا بن جاتا ہے۔
اگر ہم ظلم کے سامنے خاموش رہے تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں بزدلی، بے حسی اور خاموش تماشائی ہونے کے حوالے سے یاد کریں گی۔ تاریخ صرف ظالموں کو ہی نہیں بلکہ ظلم پر خاموش رہنے والوں کو یاد رکھتی ہے۔
کیا ہم آخری فلسطینی کے شہید ہونے کا انتظار کر رہے ہیں؟ یا اس دن کا، جب انصاف، انسانیت اور عالمی ضمیر بھی تاریخ کے ملبے تلے دفن ہو جائیں؟فلسطین صرف ایک سرزمین کا نام نہیں بلکہ یہ آج پوری انسانیت کے ضمیر، عالمی انصاف اور بین الاقوامی قوانین کی ساکھ کا امتحان بن چکا ہے۔ اگر آج بھی انصاف طاقتور اور کمزور کے درمیان تقسیم رہا تو تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ انسان چاند تک تو پہنچ گیامگر اپنے ہی جیسے انسان کو انصاف نہ دے سکا۔