پرکاش راج تو ہیرو ہیں

فلموں میں یا پھر حقیقت میں ولن کا امیج بہت خراب ہوتا ہے۔ ولن عموماً امیر ہوتا ہے۔ بدمعاش ہوتا ہے اور عام لوگوں پر ظلم کرتا ہے۔

لوگوں کو بلا وجہ پریشان کرتا ہے۔ جبکہ اس کے بر عکس ہیرو میں دنیا بھر کی خوبیاں ہوتی ہیں۔ وہ اچھی شکل و صورت کا مالک ہوتا ہے۔

ڈانس کرتا ہے رومینس کرتا ہے اور بنیادی طور پر شریف بھی ہوتا ہے۔ غریب ہونے کے باوجود لوگوں کی مدد کرتا ہے اور محلے والے بھی اس سے خوش ہوتے ہیں ۔ہیرو کو لڑکیاں پسند کرتی ہیں جبکہ ولن سے لڑکیاں دور بھاگتی ہیں۔

کوئی لڑکی کسی غنڈے موالی کے ہاتھوں پریشان ہو رہی ہو تو ہیرو نجانے کہاں سے اڑتا ہوا آجاتا ہے۔ اور ولن کی وہ حالت کرتا ہے کہ ولن خود کو پہچان نہیں پاتا۔ یہی ہیرو اگر ساؤتھ انڈین موویز کا ہو تو اور کمال ہوجاتا ہے ۔ہیرو رجنی کانت کے اسٹائل میں عینک کو گھماتا ہے اور ولن کو الجھا کر ہیروئن کو غنڈے موالیوں سے بچا کر لیجاتا ہے۔ خاص کر ساؤتھ انڈین فلموں کے ولن اپنے مکے اور لاتوں سے سینکڑوں بدمعاشوں کو مار بھگاتے ہیں۔ہیرو کی پاور فل اینٹری سے گاڑیاں ہوا میں اڑنے لگتی ہیں جو ممکن ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ لیکن شاید اسی کو فلم کہتے ہیں۔

ہماری پرانی پاکستانی فلموں میں بھی کسی زمانے میں ہوا میں قلابازی لگا کر ولن کو مارنے کا بہت رجحان تھا۔ کیمرے کو ولن کے منہ کے سامنے کر دیا جاتا تھا۔ جس سے وہ اور بھیانک شکل و صورت کا معلوم ہوتا۔ ہیرو ایک زور دار مکا ولن کے تھوبرے پر رسید کرتا اور ولن دور ہوا میں اچھل جاتا اور پھر اسی رفتار سے واپس آجاتا اور پھر ایک اور تھپڑ ہیرو سے کھاتا۔

تھپڑ سے مجھے بھارت کی کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ذہن میں آگئے۔ جن کو پچھلے دنوں کچھ غنڈے موالیوں نے بھرے مجمع میں کئی تھپڑ رسید کردیے تھے۔

ایک فلم کا مشہور ڈائیلاگ ہے کہ ” تھپڑ سے ڈر نہیں لگتا صاحب پیار سے لگتا ہے ” مگر فلم اور حقیقت میں فرق ہوتا ہے۔ ابھیجیت کو تھپڑ سے ڈر لگا ہو یا نہ لگا ہو مگر اسے تکلیف تو ضرور ہوئی ہوگی ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی مودی سرکار کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ بھارت کے نوجوان سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ ساڈا حق اتھے رکھ کے نعرے لگا رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی شروعات کی کہانی بھی بہت مزیدار ہے۔ اس کی بنیاد ابھیجیت دیپکے نے 16 مئی 2026 کو رکھی۔ یہ تحریک بھارت کے چیف منسٹر سوریا کانت کے اس بیان کے ردعمل میں آئی جس میں انہوں نے بیروزگار نوجوانوں کو کاکروچ قرار دیا۔ دو ہی دنوں میں اس پارٹی کے کئی ملین فالوور ہوگئے۔نوجونوں نے کاکروچ کا بھیس بدل کر مظاہرے بھی شروع کردیے جو بھارت کے مختلف شہروں میں جاری ہیں۔

کالم کے شروع میں ولن کی بات ہوئی تھی۔ پچھلے دنوں ساؤتھ اور بالی وڈ سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف ولن پرکاش راج بھی کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی جلسے میں شریک ہوئے۔ یہ وہی پرکاش راج ہیں ۔جن کو آپ بھارتی فلموں میں ولن کے کردار میں دیکھتے رہتے ہیں۔ اور شاید ان کی بہترین اداکاری کی وجہ سے ان سے نفرت بھی کرتے ہوں۔ فلم سنگھم میں ولن کے رول میں ان کا ڈائیلاگ چیٹنگ کرتا ہے تو بہت مشہور ہوا تھا ۔لیکن حقیقت میں یہ وہی بہادر اداکار ہیں۔ جو مودی سرکار کے خلاف بولتے ہیں ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ انھیں کوئی پرواہ نہیں ہے کہ اسے دھریندر جیسی جھوٹی اور پروپیگینڈا فلموں میں کام ملے یا نہ ملے ۔وہ صرف سچ بولتے ہیں اور کسی سے نہیں ڈرتے ہیں۔

پرکاش راج نے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ ان کے کئی دوست مسلمانوں سے خوفزدہ ہیں۔ حالانکہ وہ شاہ رخ خان سلمان اور عامر خان سے پیار کرتے ہیں۔ ان کو محمد رفیع کے گانے پسند ہیں۔ وہ زینت امان اور وحیدہ رحمان کے دیوانے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ صرف مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔کیونکہ وہ واٹس ایپ کی پھیلائی ہوئی اشتعال انگیز خبروں کے شکار ہیں۔

یہ وہی پرکاش راج ہیں جو مودی کو نکما اور بے شرم کہ چکے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وہ پچھلے دنوں کاکروچ جنتا پارٹی کے جلسے میں گئے اور انھوں نے کاکروچ پارٹی کو سپورٹ کیا۔ انھوں نے نوجوانوں کی ہمت بندھائی۔

یہ جرات اور یہ بہادری بالی وڈ کے کسی ہیرو میں نہیں دیکھی جاسکتی۔ وہ مسلمان اداکار جو اپنا کیرئیر بچانے کے لیے پوجا پاٹ کرتے ہیں۔مسلمانوں کی ہمدردی میں کچھ نہیں بولتے۔ فلموں میں ایسا ایکشن دکھاتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑا ہیرو کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ مگر حقیقت میں وہ بھیگی بلی بنے رہتے ہیں۔

ان کے مقابلے میں پرکاش راج جنھیں ہم ولن کے رول میں دیکھتے ہیں۔ مگر حقیقی زندگی میں وہ ہیرو کا کردار نبھا رہے ہیں۔وہ بغیر کسی خوف کے مودی سرکار اور گودی میڈیا کے خلاف سچ بول رہے ہیں۔پرکاش راج جیسے ولن کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ وہ تو ہیرو سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان کا ساتھ دے رہے ہیں اور ان کے ساتھ احتجاجی جلسے میں کھڑے ہورہے ہیں۔ جنھیں سوریا کانت جیسے منتری کیڑے مکوڑے اور کاکروچ سمجھتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے