ایک شعر جو میری پہچان بنا

اس مضمون کی تحریک ایک ریسرچ سکالر کے اس سوال سے ملی کہ

پہلا شعر جو آپ کی پہچان بنا؟

ہر شاعر کی زندگی میں مقبولیت(شہرت نہیں) کے چند اہم پڑاؤ آتے ہیں۔

پہلا پڑاؤ وہ ہوتا ہے جب شعری سفر کے آغاز میں اس سے چند ایسے اشعار سرزد ہو جاتے ہیں جو اہل ذوق کی توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ یہی اشعار رفتہ رفتہ اس کی شناخت بن جاتے ہیں اور اسے مزید ریاضت، مطالعے اور یکسوئی کے ساتھ شعر کہنے کی تحریک دیتے ہیں۔

دوسرا پڑاؤ عمر بھر کی مشقت اور فنی ریاضت کے بعد آتا ہے۔ بعض اوقات پچاس ساٹھ برس کی عمر میں شاعر سے ایک ایسا شعر "سرزد” ہو جاتا ہے جو اس کے پورے شعری سرمائے پر بھاری پڑتا ہے۔ اور کبھی تاریخ ادب یہ منظر بھی دکھاتی ہے کہ شاعر اپنی زندگی میں وہ پذیرائی نہیں پا سکا جو اسے مرنے کے بعد نصیب ہوئی۔ مجید امجد اس کی روشن مثال ہیں۔جن کو زندگی کے فانی ہونے کے بعد لافانی مقبولیت نصیب ہوئی۔

میرا پہلا شعر جو میری ادبی زندگی کی کامیابی کی پہلی سیڑھی بنا۔۔۔۔لیکن ٹھہرئیے ۔۔ پہلے اس شعر کا پس منظر بھی پڑھیے

اللہ تعالیٰ کا مجھ پر خاص فضل و کرم رہا کہ شاعری کے ابتدائی زمانے میں میرا ایک شعر پشاور کے ادبی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ یہی شعر میری ابتدائی شناخت بھی بنا اور اس نے مجھے اپنے فن کے ساتھ زیادہ سنجیدگی سے وابستہ رہنے کا حوصلہ دیا۔

یہ میری خوش نصیبی تھی کہ شعبۂ اردو پشاور یونی ورسٹی میں ایسے قابل اساتذہ کی ٹھڈی میٹھی چھاؤں نصیب ہوئی ۔جنہوں نے میرے ذوق ادب اور شعور شعر دونوں کی آبیاری کی۔ ایم اے اردو کے دوران میں ڈاکٹر سہیل احمد سے جدید نظم کی تفہیم، ڈاکٹر نذیر تبسم مرحوم سے قدیم و جدید غزل کے فکری و فنی مباحث اور ڈاکٹر روبینہ شاہین صاحبہ سے مشرقی و مغربی تنقید کا ایسا سلیقہ ملا جس نے تخلیقی شعور کو نئی بصیرت عطا کی۔

میرے ادبی سفر کا ایک اور امتیاز یہ بھی تھا کہ اس زمانے میں حلقۂ اربابِ ذوق پشاور حقیقی معنوں میں مختلف نسلوں کے جید شعرا کا سنگم تھا۔ اس وقت کے شعری منظرنامے میں خاطر غزنوی، استاد محترم محمد طہٰ خان، محسن احسان، یوسف رجا چشتی، اور بعد کی نسل میں ڈاکٹر نذیر تبسم، پروفیسر ناصر علی سید، استاد نشاط سرحدی ،ڈاکٹر طارق ہاشمی، ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار اور ڈاکٹر سہیل احمد(کوئی نام رہ گیا ہو تو معذرت) جیسے صاحبان فن کی موجودگی اور گفتگو نے سیکھنے اور سکھانے کی ایک زرخیز روایت قائم کر رکھی تھی۔حلقے کی نشستوں میں پروفیسر خالد سہیل ملک کی افسانہ نگاری اور ڈاکٹر تاج الدین تاجور کی اسلوب شناسی اور لسانیات میں مہارت بھی نئی نسل کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھی۔

آج بھی ادبی نشستوں میں اس بات کا ذکر کرتے خوشی ہوتی ہے کہ ہم پشاور کے اردو ادب کی وہ خوش نصیب نسل ہیں۔ جنھوں نے احمد فراز سے بارہا ملاقاتیں کیں اور شعر سنے ۔ اسے آپ ادبیات پشاور کے دور زریں کی آخری سانسیں بھی کہہ سکتے ہیں۔

اس موقع پر ریڈیو پاکستان پشاور کی ادب دوستی کا ذکر بھی ضروری ہے۔ جس کے چشمہءفیض سے کئی نسلیں سیراب ہوئین۔بی اے کے امتحان کے بعد میری وابستگی ریڈیو پاکستان پشاور کے مقبول پروگرام "یونی ورسٹی میگزین” سے ہوئی۔ اس کی پروڈیوسر محترمہ عفت جبار تھیں۔ جو ادب سے غیر معمولی شغف رکھتی تھیں۔ بیت بازی کے پروگراموں میں وہ باقاعدگی سے مجھے مدعو کرتیں۔

ایک مرتبہ محسن احسان صاحب منصف کی حیثیت سے شریک تھے۔ میں نے عرفان صدیقی کا یہ شعر پڑھا:

ریت پر تھک کے گرا ہوں تو ہوا پوچھتی ہے
آپ اس دشت میں کیوں آئے تھے وحشت کے بغیر

انھوں نے کھل کر داد دی اور اسی نشست کے بعد حلقۂ اربابِ ذوق پشاور میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ یوں میرے ادبی سفر کا ایک نیا باب شروع ہوا۔

بات ہو رہی تھی پہچان شعر کی۔

یہ شعر اس وقت کہا گیا جب میں ایم اے اردو سال دوم کا امتحان دے چکا تھا۔ شعر تو ہو گیا مگر دل یہی چاہتا تھا کہ اس کے ساتھ پوری غزل بھی وجود میں آ جائے اور مشاعرہ پڑھنے کا ",اجازت نامہ سکے۔

یوں تو میری ادبی زندگی کا آغاز تو ادب اطفال سے ہو چکا تھا۔بچوں کی کہانیاں لکھتے لکھتے بڑوں کے لیے افسانہ نگاری بھی شروع ہو چکی تھی۔

اور ان دنوں میرے کئی افسانے حلقہءارباب ذوق پشاور کی میز پر ڈاکٹر اعجاز راہی سے بھی شاباشی وصول کر چکے تھے۔

ان دنوں ایم اے کے نتیجے کا انتظار تھا اور آوارہ گردی میری ہم نصابی سرگرمی بن چکی تھی۔ صبح آرکائیوز لائبریری پشاور میں گزرتی، شام کمپنی باغ صدر میں۔ صبح و شام کے درمیان کا وقت کئی نسلوں کے رت جگوں کی نیند پوری کرنے میں صرف ہوتا جبکہ راتیں قرآن مجید کی تفاسیر، تصوف کی کتابوں، محمد رفیع اور کشور کے لازوال نغموں، اور آخری پہر نصرت فتح علی خان اور عزیز میاں کی قوالیوں کے نام ہوتیں۔

فجر کی نماز کے بعد ہی نیند کی وادی کا ویزہ ملتا۔

اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے تنویر سپرا مرحوم کی روح سے معذرت، شکریہ اور اجازت کے ساتھ ان کے ایک شعر میں معمولی سی تحریف کی جسارت کرتا ہوں۔

اے صبح! مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
شب بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے۔

اس دور کو ہم "جوانی کی راتیں مرادوں کے دن” کہہ سکتے ہیں۔ حکایت لذیذ دراز ہو رہی ہے۔ سو مقبول شعر آپ کی نذر۔تاکہ تجسس ختم ہو۔
دیوانوں کے مانند مرے شہر کے سب لوگ
دستار کے قابل کوئی سر ڈھونڈ رہے ہیں

فیس بک کے علاوہ پشاور کے ویٹس ایپ گروپس میں بھی یہ پوسٹ شئیر ہوئی تو ابتدائی سفر کے "چشم دید گواہوں” کی اکثریت نے درست جوابات دیے۔ فیس بک پر ہمارے فاضل دوست گورنمنٹ کالج باجوڑ میں شعبۂ اردو کے پروفیسر رحیم اللہ سالارزئی کا تیر نشانے پر لگا۔سالار زئی صاحب نے تبصرہ خانے (کمنٹ بکس) میں شعر بھی داغ دیا۔پی ایچ ڈی میں میری کلاس فیلو ڈاکٹر سعدیہ خلیل صاحبہ (پشاور یونی ورسٹی) نے بھی یہ پہیلی سوجھ لی۔ویٹس ایپ پر سب سے پہلے انھوں نے درست جواب بھیجا۔

تو دوستو! وہ شعر ہے۔

اس شعر کی کتھا "حکایت لذیذ” سے کسی طور کم نہیں

یہاں ایک دلچسپ واقعہ بھی بتاتا چلوں۔ کہ سینڈیکیٹ آف رائٹرز میں مشاعرے کے دوران میں یونی ورسٹی کے ایک طالب علم نے ٹوکتے ہوئے کہا

"کے مانند” غلط ہے "کی مانند” پڑھو۔ تو خاطر غزنوی مرحوم نے فرمایا”برخوردار! اساتذہ نے کے مانند باندھا ہے” اور میر تقی میر کا یہ شعر پڑھ دیا۔جس کی ردیف ہی "کے مانند” ہے۔

سر اٹھاتے ہی ہو گئے پامال
سبزۂ نو دمیدہ کے مانند

چند دنوں بعد پی سی ہوٹل پشاور میں ممتاز شاعر فیصل عجمی صاحب کے یادگار ادبی رسالے "آثار” کی تقریب پزیرائی کے بعد رسالے کی مدیر ثمینہ راجا مرحومہ نے جو اشعار سنائے تھے۔ ان بھی ایک شعر میں "کے مانند ” باندھا گیا تھا۔

چھوڑ بھی آئے وہ گھر بھول بھی آئے ہیں وہ یاد
دل میں کچھ ٹوٹے ہوئے تیر کے مانند بھی ہے۔

پشاور کی ادبی فضا میں اس شعر کی مقبولیت کی بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ آمریت میں قیادت کے بحران سے عام آدمی سے خاص آدمی تک ایک پریشانی تھی۔پوری قوم مسیحا کی تلاش میں سرگرداں تھی۔اس لیے یہ شعر اکثر و بیشتر پشاور کے جلسوں اور کالموں میں بھی پڑھا جاتا۔ پشاور یونی ورسٹی کی خیبر لٹریری سوسائٹی نے تقریری مقابلے کے لیے دوسرے مصرعے کو عنوان بنایا تھا۔

"دستار کے قابل کوئی سر ڈھونڈ رہے ہیں ” لیکن اس زمانے کے پرووسٹ غالبا،” ڈاکٹر اجمل خان مرحوم نے وائس چانسلر کے کہنے پر بدل دیا تھا۔ اتفاق سے ان دنوں اسلامی جمعیت طلبہ یونی ورسٹی کیمپس میں میرے کئی دوست موجود تھے۔ انھوں نے اس مصرع پر تقریری مقابلہ رکھ دیا۔

اس شعر کی برکت دیکھیے کہ اس شعر کے بطن اور باطن جو غزل برآمد ہوئی۔ اس ایک شعر سے میرے پہلے شعری مجموعے "شہر میں گاؤں کے پرندے ” کا نام بھی "برآمد” ہوا۔ اس شعر کا فیض دیکھیے کہ اس کی پذیرائی نے مجھے شعر کہنے کی خوب تحریک دی کے جادو سے مجھے افسانہ نگاری تیاگنے کی "توفیق” نصیب ہوئی خصوصاً پروفیسر خاطر غزنوی مرحوم کی نصحیت بلکہ ڈانٹ سے میں "فنا فی الشعر” ہو گیا ۔کہانی کے اس موڑ پر ہمدم دیرینہ ڈاکٹر رئیس احمد مغل کا کردار بھی میرے لیے یوں فیصلہ کن ثابت ہوا کہ مغل صاحب سکول کے دنوں سے میری ادبی سرپرست ہیں۔

ان کی نصیحت نے کئی بار میری نفسیات کا زائچہ بدلا ہے۔ ایک شام پشاور صدر کی آوارہ گردی سے تھک ہار کر بلکہ "تروتازہ” ہو کر ہم چائے خانے میں بیٹھے تو انھوں نے مجھے حلف لیا کہ میں افسانہ نگاری کا خواب توڑ دوں۔ مجھے یاد ہے کہ اسی وقت چائے خانے میں ایک پیالی ٹوٹنے کی آواز آئی ۔ تو میں نے بے ساختہ کہا "جناب یہ آواز افسانہ نگاری کے خواب کے ٹوٹنے کی تھی”مغل صاحب کی بار بار شاعری کی بحر اور بحروں میں ڈوبنے کی تلقین سے حتمی فیصلہ کر لیا کہ وقت آگیا ہے نثر کو خدا حافظ اور شاعری کو خوش آمدید کہا جائے۔

سوال یہ ہے کہ اس شعر کو پر کیسے لگے؟ کس نے لگائے؟ مطلب آج کی زبان میں یہ شعر کیسے "وائرل” ہوا۔ اور ایسے زمانے میں جب فیس بک،ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا کے دیگر ذرائعوں کا نام و نشان تک نہ تھا۔

تو جناب اس کا کریڈٹ جاتا ہے۔۔ پاکستان کے 11 شہروں سے چھپنے والے روزنامہ "ایکسپریس” کے مقبول کالم نگار سعد اللہ جان برق صاحب کو ان تک یہ شعر کیسے پہنچا یہ قصہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔جب غزل مکمل ہوئی تو حلقہءارباب ذوق پشاور میں تنقید کے لیے پیش ہوئی۔ خوش قسمتی سے ادب کی عظیم ہستیوں خاطر غزنوی ،محسن احسان،استاد محترم پروفیسر محمد طہ’خان اور سجاد بابر بھی تنقیدی نشست میں تشریف فرما تھیں۔ کچھ مصرعے کمزور تھے۔ جنھیں بعد میں میں نے بدل دیا۔ مثال کے طور پر یہ مصرع

"گھبرائے ہوئے رہتے ہیں افسردہ پرندے” کی نئی صورت یوں تھی۔
اب شام ہے تو شہر میں گاؤں کے پرندے”
محسن احسان صاحب نے تجویز دی کہ اشعار کی تعداد بڑھائی جائے۔ تو چند دنوں میں یہ شعر ہوا
وہ لوگ جو سورج کو بچانے نہیں نکلے
اب راکھ کی بستی میں شرر ڈھونڈ رہے ہیں

جب غزل مکمل ہوئی تو خاطر غزنوی مرحوم نے روزنامہ”صبح” پشاور میں چھاپ دی۔ وہ ان دنوں روزنامہ”صبح” سے وابستہ تھے۔ میرے لیے اعزاز تھا اخبار کے دس پندرہ شمارے لیے اور دوستوں میں سوغات کر دیے۔ ایک کاپی یونی ورسٹی بک ایجنسی پشاور کے مالک میاں انعام صاحب کو بھی دی۔ ان دنوں یونی ورسٹی بک ایجنسی میں محترم سعد اللہ جان برق کبھی کبھار منڈلی جماتے تھے۔ میری غزل ان کی نظر سے گزری تو کالم لکھا۔برق صاحب ٹھہرے بڑے کالم نگار۔ یوں 11 شہروں سے چھپنے والے اخبار میں میرے شاعر ہونے کا اعلان ہو گیا۔
کتاب "شہر میں گاؤں کے پرندے” جب شائع ہوئی تو سعد اللہ جان برق صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے خصوصی شفقت فرمائی اور 24 فروری 2022 کے روزنامہ "ایکسپریس” میں لکھا۔

"ہم نے جب پہلے پہل یہ شعر سنے تھے کہ

دیوانوں کے مانند مرے شہر کے سب لوگ
دستار کے قابل کو ئی سر ڈھونڈ رہے ہیں

وہ لوگ جو سورج کو بچانے نہیں نکلے
اب راکھ کی بستی میں شرر ڈھونڈ رہے ہیں

اب شام ہے تو شہر میں گاؤں کے پرندے
رہنے کے لیے کوئی شجر ڈھونڈ رہے ہیں

تو اسی وقت سمجھ لیا کہ یہ شخص اونچا اڑنے والا ہے اور وہ اڑ گیا اڑ رہا ہے اور اس اڑان کا پتہ اس کے مجموعہ کلام سے بخوبی لگ جاتا ہے۔

”شہر میں گاؤں کے پرندے”اسحاق وردگ کی شاعری کا نیا مجموعہ ہے اور صاف پتہ چل رہاہے کہ گاؤں کا یہ پرندہ پشاور شہر اور پختون خوا سے اڑ کر کہاں کہاں پہنچ گیا۔پشاور پختون خوا پھر پاکستان اور اب بھارت سے بھی اس کی پذیرائی کی آوازیں آرہی ہیں”(روزنامہ”ایکسپریس” 24 فروری 2024)

اس غزل نے میری یکسوئی شعری امکانات کی دریافت پر مرکوز کی۔ان دنوں پشاور کی فضا پر شاعری چھائی ہوئی تھی۔نثر نگاری کی بہ نسبتا” شاعری کا رجحان غالب تھا۔

اس فضا میں نئے شاعر کے لیے شعر میں نام بنانے کا ایک فی صد امکان بھی نہیں تھا۔افسانے کا میدان خالی تھا۔ کہانی لکھنے کی تھوڑی بہت ریاضت بھی تھی۔ساتویں جماعت سے بچوں کے عمدہ رسائل میں میری کہانیاں چھپ رہی تھیں۔ کئی کہانیوں پر مجھے انعامات اور اسناد سے بھی نوازا جا چکا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اٹک کے پار بطور کہانی نگار مجھے اتنی عزت دی تھی کہ ایک بار فیصل آباد کے بچوں کے عمدہ ادیب اور آج کے سنئیر تجزیہ نگار محمد ناصر زیدی نے ایک مصاحبے (انٹرویو) میں کہا کہ مجھے اسحاق وردگ کی کہانیوں کا اسلوب پسند تھا۔

عجیب دور تھا کہ مجھے پر کہانیاں اترتی تھیں اور میں بچوں کے معیاری رسائل میں سخت گیر مدیران کی چھان بین کے بعد چھپتا تھا اور پھر بڑوں چند افسانے لکھنے کے بعد شعر کی دیوی کی مہربان نظروں میں آگیا۔

تو دوستو! میرے پہلے مقبول شعر نے پشاور سے ایک ابھرتے ہوئے افسانہ نگار کو چھین تو لیا لیکن ایک صاحب کتاب شاعر سے نوازا بھی۔

اور آخر میں پوری غزل آپ کی نذر
ہم خاک بہ سر گرد سفر ڈھونڈ رہے ہیں
اور لوگ سمجھتے ہیں کہ گھر ڈھونڈ رہے ہیں

دیوانوں کے مانند مرے شہر کے سب لوگ
دستار کے قابل کوئی سر ڈھونڈ رہے ہیں

اب شام ہے تو شہر میں گاؤں کے پرندے
رہنے کے لیے کوئی شجر ڈھونڈ رہے ہیں

جو ذات کی گلیوں میں ہمیشہ سے ہے موجود
یہ لوگ اسے آج کدھر ڈھونڈ رہے ہیں

گلیوں میں بھٹکتے ہوئے مانوس سے چہرے
مٹتی ہوئی تہذیب کے گھر ڈھونڈ رہے ہیں
وہ لوگ جو سورج کو بچانے نہیں نکلے
اب راکھ کی بستی میں شرر ڈھونڈ رہے ہیں

افسردہ سے چہروں پہ بڑی دیر سے ہم لوگ
اک کھویا ہوا دست ہنر ڈھونڈ رہے ہیں
(اسحاق وردگ کا تعارف
ڈاکٹر اسحاق وردگ کا تعارف

خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی

دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں

اس ضرب المثل شعر کے خالق ڈاکٹر اسحاق وردگ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اکیسویں صدی کی نئی نسل کےایسے شاعر ہیں جو اپنے جدید لہجے اور منفرد شاعری کی وجہ سے خیبر پختونخوا کے نمائندہ شاعر کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ اسحاق وردگ اپنی ادبی زندگی کے پہلے دور میں بچوں کے ادب سے وابستہ رہے۔ وہ خیبرپختونخوا کے پہلے شاعر ہیں۔ جنھیں بچوں کے ادب کے لئے، دعوت اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی اسلام آباد نے "نشان اعزاز ” عطا کیا۔ بچوں کے لیے کہانیوں کی کتاب "اور تتلیاں روٹھ گئیں” چھپ چکی ہے۔

وہ ادبی زندگی کے دوسرے دور میں اردو غزل و نظم کے جدت پسند شاعر کے طور پر سامنے آئے۔ اپنے منفرد لہجے کی بنا پر پاکستان اور بیرون پاکستان ان کی شاعری ناقدین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر چکی ہے .

ڈاکٹر اسحاق وردگ کا پہلا شعری مجموعہ "شہر میں گاؤں کے پرندے” 2021 میں شائع ہوا اور اس کتاب کو اردو شاعری کا رجحان ساز مجموعہ قرار دیا گیا۔

ڈاکٹر اسحاق وردگ اس وقت ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر شعبہء اردو گورنمنٹ سپیرئیر سائنس کالج پشاور سے وابستہ ہیں۔ادارہ آئی بی سی اردو)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے