بھارت کی مشہور درس گاہ ندوۃ العلماء کے سابق ناظم تعلیمات مولانا سید سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے ۔ ان کی تدفین و نماز جنازہ آج بعد از نماز عصر جامعہ سید احمد شہید کٹولی ملیح آباد میں ہوگی۔ وہ ایک جری اور ایک باصلاحیت عالم تھے تاہم کچھ وجوہات کی بنیاد پر ان کی زندگی کا اختتام متنازعہ ہوا۔
مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال کی خبر نے برصغیر کے علمی حلقوں میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے۔ ان کی وفات کے ساتھ ایک ایسی شخصیت کا باب بند ہوا جو اپنی غیر معمولی علمی استعداد، شاندار خطابت، وسیع مطالعے اور فکری جرأت کے باعث ہمیشہ نمایاں رہی، لیکن زندگی کے آخری برسوں میں شدید تنہائی، مسلسل تنازعات اور اپنے ہی علمی حلقے سے دوری کا شکار ہو گئی۔
مجھے ذاتی طور پر ان سے ملاقات کا موقع 2011ء میں ملا، جب وہ مجلس صوت الاسلام کی دعوت پر میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں منعقدہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے۔ اس زمانے میں ہم “قیام” کے نام سے ایک علمی و فکری رسالہ شائع کرتے تھے۔ اسی کے لیے میں نے ان کا ایک تفصیلی انٹرویو کیا۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھ کئی طویل نشستیں بھی ہوئیں جن میں دینی مدارس کے نظام تعلیم، نصاب کی اصلاح، امت کے فکری مسائل اور جدید دور کے چیلنجز پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس وقت وہ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں حدیث کے استاذ اور تدریسی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ میرا بعد میں بھی کافی عرصہ ان سے رابطہ رہا۔ ایک نفیس ، نستعلیق اور خوشگوار انسا ن تھے۔ ان دنوں ان کی گفتگو میں ایک توازن، اعتماد اور علمی وقار نمایاں طور پر محسوس ہوتا تھا۔
مولانا کا تعلق اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کے معروف حسینی سادات بارہہ خاندان سے تھا۔ وہ حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ دار العلوم ندوۃ العلماء سے حدیث کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ، ریاض سے ایم اے کیا، جہاں انہیں شیخ عبد الفتاح ابو غدہ رحمۃ اللہ علیہ جیسے جلیل القدر محدث کی شاگردی نصیب ہوئی۔
انہوں نے برسوں دار العلوم ندوۃ العلماء میں حدیث کی تدریس کی، کلیۃ الدعوۃ والاعلام کے عمید رہے، دنیا بھر میں دعوتی اسفار کیے اور اردو و عربی میں متعدد اہم کتابیں لکھیں۔ حدیث، شاہ ولی اللہ دہلوی کی فکر، اسلامی تعلیم، دعوت، نصاب تعلیم اور امت مسلمہ کے فکری بحران ان کے خصوصی موضوعات تھے۔ مدارس کے نصاب میں اصلاح اور دینی و عصری علوم کے امتزاج کی ضرورت پر ان کی گفتگو ہمیشہ سنجیدہ علمی حلقوں میں زیر بحث رہی۔
لیکن ان کی زندگی کا آخری دور پہلے سے بالکل مختلف تھا۔
اپنے بعض منفرد افکار، سیاسی مؤقف اور مسلسل متنازع بیانات کی وجہ سے ان کے اور ندوۃ العلماء کے درمیان فاصلے بڑھتے گئے۔ بالآخر انہیں ندوۃ العلماء سے الگ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان کی تقاریر اور بیانات میں وہ علمی اعتدال کم ہوتا چلا گیا جس سے وہ کبھی پہچانے جاتے تھے۔ ان کے اپنے مکتب فکر کے متعدد علماء نے بھی ان کے اسلوب، لہجے اور بعض مؤقف پر کھلے عام تنقید کی۔ انہیں بارہا یہ احساس دلایا گیا کہ ان کی گفتگو کا انداز ایک بڑے عالم دین کے شایان شان نہیں اور اس سے علمی روایت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ان کے آخری برسوں کی گفتگو میں ایک مسلسل اضطراب، بے چینی اور تلخی محسوس ہوتی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ اپنے علمی حلقے سے دور ہو جانے کے احساس کو دل سے قبول نہیں کر پا رہے۔ ان کی خطابت، جو کبھی اعتماد اور استدلال کی علامت سمجھی جاتی تھی، آخری دور میں کئی مواقع پر شدید جذبات، شکووں اور داخلی کشمکش کی عکاس نظر آتی تھی۔ بیرونی طور پر یہ ایک فکری جدوجہد دکھائی دیتی تھی، لیکن سننے والوں کو اس میں ایک گہری تنہائی اور بے اطمینانی بھی محسوس ہوتی تھی۔ تاہم کسی شخص کی داخلی نفسیاتی کیفیت کے بارے میں قطعی رائے دینا ممکن نہیں، اس لیے اس پہلو پر احتیاط ضروری ہے۔
اسی عرصے میں انہوں نے تاریخ اسلام، فرقہ وارانہ اختلافات اور معاصر سیاسی معاملات پر ایسے بیانات بھی دیے جنہیں بہت سے علماء نے غیر ضروری طور پر اشتعال انگیز قرار دیا۔ ناقدین کا مؤقف تھا کہ ان کی بعض گفتگو اختلافات کو کم کرنے کے بجائے مزید گہرا کرتی ہے اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ کرتی ہے۔ ان کے حامی ان باتوں کو حق گوئی قرار دیتے رہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کے آخری برس مسلسل تنازعات کی نذر رہے۔
یہ ایک المیہ بھی ہے کہ جس شخصیت نے مدارس کے نصاب، اسلامی تعلیم اور امت کے فکری مستقبل پر اتنا سنجیدہ کام کیا، اس کی زندگی کا اختتام زیادہ تر اختلافات اور تنازعات کے پس منظر میں یاد کیا جا رہا ہے۔ علمی دنیا میں اختلاف ایک فطری امر ہے، لیکن جب اختلاف مکالمے کی جگہ کشیدگی اختیار کر لے تو نقصان صرف افراد کا نہیں، اداروں اور علمی روایت کا بھی ہوتا ہے۔
مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ اپنے پیچھے درجنوں کتابیں، ہزاروں شاگرد، بے شمار خطبات اور کئی ایسے علمی مباحث چھوڑ گئے ہیں جن پر آنے والے برسوں میں بھی گفتگو ہوتی رہے گی۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ علم انسان کو بلندی عطا کرتا ہے، مگر علمی وقار کا تحفظ صرف علم سے نہیں بلکہ اعتدال، تحمل، خود احتسابی اور مکالمے سے بھی ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی علمی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے۔ آمین۔