ویلکم ٹو گلگت بلتستان، جو نئے مالی سال میں بغیر بجٹ کے داخل ہوا ہے۔ کچھ اخراجات منظور ہوئے ہیں کس مد میں کس نے کس ضابطے کے تحت کچھ پتہ نہیں ہے۔ 2 وزرائے اعلیٰ ہیں، ایک اپنے فرائض منصبی سے اصولاً سبکدوش ہوگیا ہے اور موجودہ حیثیت سمجھنے کےلئے باقاعدہ خطوط لکھ رہا ہے کہ کوئی حلف لے تو میں اپنی زمہ داریاں منتقل کردوں گا اور گھر چلا جاؤں گا۔ میں نے الیکشن کرانے تھے تو کرادئے، امن و امان میری زمہ داری تھی حتی الامکان کوشش کی اور کروادئے۔ دوسرا صاحب قائد ایوان منتخب ہوگئے ہیں اور سوشل میڈیا میں ہدایات دینے اور نوٹسز لینے کا سلسلہ شروع کرچکے ہیں۔ چیلوں کے مطابق چونکہ انہوں نے حلف نہیں اٹھایا ہے اس لئے بجٹ اور حکومت سازی کی تاخیر کو وزن مل جاتا ہے لیکن بغیر حلف کے ہی ہدایات جاری کرنا بھی واہ واہ کےلئے کافی ہے۔
امجد حسین ایڈوکیٹ صاحب پچھلے 7330 دن کم از کم گلگت میں رہے ہیں۔ گلگت سے باہر نکلے تو بھی امور پر نظر رکھی اکثریتی وقت حزب اختلاف میں رہا جس کی بنیاد پر مسائل پر کھل کر بولتے رہے۔ گلگت شہر سے ایک اور مضبوط اور توانا آواز کے طور پر سامنے آگئے۔ حلقہ 1 گلگت میں اب مقابلے میں اترتے ہوئے مخالفین 20 مرتبہ سوچتے ہیں۔ کیونکہ تاحال یہ واحد رہنما ہیں جنہیں ووٹ خدمت، دستیابی، رسائی، کوشش، اور امیدوں کی بنیاد پر ملتا ہے اور فرقہ وارانہ ٹھپے اور لیبل کا ووٹ کم سے کم ہوتا جارہا ہے۔ 2 بار جیتے ہیں دونوں بار بھاری اکثریت سے جیتے ہیں اور دونوں بار امپھری پٹرول پمپ اور معلق پل کے پاس پڑے ووٹ کو رنگ نسل زات مذہب کی بنیاد پر الگ کرنا مشکل پڑ گیا اور یہی رویہ بعد میں امجد حسین ایڈوکیٹ کی جانب سے اپنے ووٹرز یا حلقے کے عوام کے ساتھ بھی نظر آگیا۔
دوسرا رخ یہ ہے کہ پہلی بار مظلوم حکومت ملی ہے۔ اس وقت پھنسے 3 نشستوں میں 2 پیپلزپارٹی کی جیتی ہوئی نشستیں ہیں۔ پیپلزپارٹی جہاں معمولی مارجن سے ہاری ہوئی ہے وہاں تو ری کاؤنٹنگ بھی نہیں ہورہی ہے۔ آزاد امیدواروں کےلئے کشش ہمیشہ اکثریت کے پاس ہوتی ہے کیونکہ یہاں حکومت بنانے کےلئے آسانی ہوتی ہے اور اپنے شرائط پر آپ حکومت کا حصہ بن سکتے ہیں لیکن اس بار آزاد امیدواروں سے بات چیت کے باوجود ان کی جھولی خالی رہی اور راتوں رات ایک خالی برتن کو بھر دیا گیا۔ نظر یہ آرہا ہے کہ عدالت میں "جج صاحب ہم نے لڑنا چھوڑ دیا ہے” کہنے والے صاحب نے پھر سے تاؤ لگانا شروع کردیا ہے۔
باوجود اس کے کہ حالات کے مخمصے نے پہلا بلا مقابلہ وزیراعلیٰ منتخب کرایا لیکن چلاس اور داریل کا دکھ دل میں بھرا ہوا ہے۔ ورنہ کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ حلف کو بلاوجہ تاخیر کرے اور بغیر بجٹ منظوری کے نئے مالی سال میں داخل ہوجائے۔
نومنتخب وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈوکیٹ صاحب محض سیاستدان ہی تو نہیں بلکہ بقول بزمی "تو پرولو قابل قانون دان اکی نوش” قانون کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہونے کا ہنر بھی رکھتے ہیں۔ استحکام پاکستان کے ساتھ معاملات بھی تعطل کا شکار ہیں، وزارتوں کی تقسیم پر ڈیڈلاک برقرار ہے، 3 اہم نشستیں التوا کا شکار ہیں، اور بھی غم ہوں گے مگر اس غریب و مجبور خطے کا قصور کیا ہے؟ اس وقت ملازمین کی تنخواہوں کے علاوہ بجلی، پانی ، ٹریفک، پارکنگ، تھانہ نظام، عدالتی نظام، سب کچھ تقریباً غیر قانونی چل رہا ہے اور غیر قانونی اخراجات کررہے ہیں۔ جو اب تو معمولی بات نظر آرہی ہے لیکن بعد میں بڑے مسائل کا سبب بھی بنیں گے اور امجد صاحب نے ابھی سے ہی مخالفین کو بھرپور مواقع فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ امجد صاحب علاقے کی خاطر دل بڑا کریں۔ بلاول بھٹو زرداری کی شرکت کوئی اتنی بڑی معنی نہیں رکھتی تھی جس کےلئے پورا نظام چوک کرایا گیا ہے۔ اب یہ تاثر بھی جنم لے گا کہ بلاول بھٹو زرداری کے سامنے گلگت بلتستان کی تھوڑی بھی حیثیت و اہمیت ہوتی تو کم از کم جون مہینے میں بلاول بھٹو زرداری صاحب بھی کہتے "امجدئی اسوٹ ضرورت ہن شوا”