لائبریریوں کا آغاز، ارتقاء، سندھ کی قدیم اور جدید لائبریریاں: تعارفی جائزہ

مشہور مؤرخ بلاذری کے قول کے مطابق اسلام کے پہلے دور میں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک جو تحریری سرمایہ موجود تھا، وہ قرآنِ مجید کی متفرقہ سورتیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوطِ مبارکہ، صلحِ حدیبیہ وغیرہ کے معاہدے، اور شعراء کے قصیدے تھے۔

بعد کے زمانے میں تحریر اور کتابت کو وسعت ملی، لیکن تقریباً یہ مواد لسانیات اور مذہب کے متعلق تھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک عیسائی طبیب، ابنِ اثال، نے طب کی کتابوں کے عربی میں ترجمے کیے۔ یہ پہلا اضافہ تھا، جس سے عربی زبان میں دوسرے موضوعات پر بھی مواد جمع ہوا۔ بعد کے زمانے میں ترقی ہوتی رہی، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقاعدہ، منظم طور پر لائبریری کو کس نے وجود بخشا؟ اب یہ پتہ لگانا مشکل ہے اور مؤرخین کے بیانات بھی مختلف ہیں۔ ضمناً جو بات معلوم ہوتی ہے، اس کے مطابق اس محسن کا نام، جس نے باقاعدہ لائبریری کی بنیاد رکھی، خالد بن یزید بن معاویہ تھا۔ مشہور مؤرخ ابن خلدون اس کے انکاری ہیں اور علامہ ابن الندیم اس رائے کے حق میں ہیں، جبکہ ابن الندیم کی رائے اور تحقیق پر متأخرین کو اطمینان ہے اور اس کو راجح قرار دیا ہے۔

ہارون الرشید نے بیت الحکمۃ کی داغ بیل ڈالی، جس کا ایک حصہ لائبریری کے لیے مختص تھا، لیکن ان کے زمانے میں شاہی کتب خانوں کا رواج تھا۔ مأمون کے دورِ حکومت میں یہ شوق عام ہوا۔ ہر عالم، وزیر اور امیر بھی بڑی بڑی لائبریریاں بنانے لگے۔ چوتھی صدی میں اس کو بہت پذیرائی ملی۔ اس دور کی سب سے بڑی لائبریری بنو امیہ کے فرد حکیم مستنصر کی تھی، جس کی لائبریری میں چار لاکھ کتابیں تھیں۔ اس کے مقابلے میں بنو فاطمہ کی لائبریری مصر میں تھی، جس میں کتابوں کی تعداد چھ لاکھ تھی۔ صرف تاریخِ طبری کے 1200 نسخے تھے۔

سندھ کی علمی حیثیت اور عظمت کسی سے مخفی نہیں۔ یہاں مختلف فنون میں ہزاروں کتب تصنیف کی گئی ہیں اور سینکڑوں مصنف پیدا ہوئے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ یہاں عظیم لائبریریاں بھی ہوں گی، جو تحقیق اور تصنیف کا مرکز ہوں گی، لیکن اس بابت تفصیلی بیان اور واضح معلومات نہیں ملتیں۔ قدیم لائبریریوں میں مخدوم الاولیاء، مخدوم نوح ہالائی کی لائبریری زمانے کے ستم سے محفوظ رہی ہے۔

بارہویں صدی ہجری کا دور سندھ میں علم کی ترقی کا دور رہا ہے۔ اس دور کے کتب خانوں اور اداروں کا قدرے تفصیلی مواد ملتا ہے، جن میں ہاشمیہ لائبریری ٹھٹھہ، یوسفیہ لائبریری نواب شاہ، علوی لائبریری شکارپور، قادریہ لائبریری لاڑکانہ، راشدیہ لائبریری پیر گوٹھ، قاضی لائبریری سیہون، کوٹری کبیر، مخدوم محمد معین ٹھٹوی، ولہار، چوٹیاری، مدرسہ ولہیٹ، ہمایوں شریف، گڑھی یاسین، بھرچونڈی شریف، اور مدرسہ مظہر العلوم کھڈہ کراچی کی لائبریریاں قابلِ ذکر ہیں۔

سندھ میں قدیم لائبریریوں کے علاوہ پیر جھنڈو کی لائبریری اور قاسمیہ لائبریری کنڈیارو کی بھی بڑی شہرت رہی ہے۔ اول الذکر لائبریری کا چرچا تو دنیا بھر میں رہا اور ایشیا کی بڑی لائبریریوں میں اس کا شمار ہوتا تھا، اپنے دور کے عرب وعجم کےنامور محققین استفادہ کی غرض سے تشریف لاتے تھے۔

اب لائبریریوں کی تعداد اور قدردانوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ملک بھر میں بڑے بڑے عوامی مکتبے موجود ہیں۔

اس قحط کے دور میں بھی آپ کو لائبریریوں میں عوام کا ہجوم نظر آئے گا، یہ بھی غنیمت ہے۔

سرکاری لائبریریوں میں سے سندھ یونیورسٹی جامشورو، سندھ الائجی حیدر آباد، سندھ آرکائیوز کراچی، شاہنواز بھٹو لائبریری لاڑکانہ، قادر بخش بیدل لائبریری شکارپور، سچل سرمست لائبریری خیرپور، حاجی احمد ملاح لائبریری بدین، اور میر معصوم شاہ لائبریری سکھر اچھی اور معیاری شمار ہوتی ہیں۔ ہر وقت بڑی تعداد میں طلبہ اور عوام مطالعے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔

عروس البلاد کراچی میں تو علمی مراکز اور لائبریریوں کی کمی نہیں۔ ہر جگہ بڑی، کشادہ اور عظیم الشان لائبریریاں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ شخصی لائبریریاں الگ ہیں، جہاں علم دوستوں نے اپنے اپنے گھروں میں کتابوں کی دنیا سجائی ہوئی ہے، جس میں سیرت لائبریری شہداد کوٹ، سندھ ریسرچ لائبریری ڈھرکی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔(دونوں کے تعارف پر راقم کا تفصیلی تعارفی مضمون بھی ہے)

مدرسہ اور لائبریری لازم و ملزوم ہیں، لیکن بیشتر مدارس میں دیکھنے میں آیا ہے کہ لائبریری ندارد۔ علاوہ درسی کتب کے کوئی کتاب نہیں۔ اگر کچھ کتابیں ہیں تو طلبہ کی رسائی نہیں۔ میرے خیال میں ہر مدرسہ ایک وسیع و عریض لائبریری کا اہتمام کرے، جس تک طلبہ کی پہنچ بھی ہو، تو علم و آگہی پھیلے گی، جو معاشرے کے لیے مفید ہے۔ شدت پسندی میں بڑی کمی ہوگی، اور کتاب سے تعلق جڑنے کے بعد بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔

یہ سندھ کی لائبریریوں کا اجمالی، بلکہ بہت مختصر تذکرہ تھا۔ ان میں سے ہر لائبریری پر محققین نے تفصیلی مقالات لکھے ہیں، جن کو ڈاکٹر عبدالرسول قادری نے "سنڌ ۾ ڪتب خانا” کے نام سے سندھی زبان میں جمع کیا ہے۔ مہران اکیڈمی شکارپور کی طرف سے یہ کتاب چھپی ہے۔

مزید بھی کام کی ضرورت ہے۔ محققین کے ان نقوش کو سامنے رکھ کر بہت کام کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ تحقیق کے طالب علم اس جانب توجہ دیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے