گلی محلوں اور چوک چوراہوں کا ورثہ

یوں تو ٹیکسلا کی قدامت سے سبھی واقف ہیں ،کہ ٹیکسلا ایسی قدامت رکھتا ہے، جس پر جدت رشک کرتی ہے ۔

شاید ٹیکسلا کے باسیوں کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ٹیکسلا ،ماضی بعید کے ذی شان، تاریخی ، مذہبی اور ثقافتی ورثے کی وراثت کے ساتھ ساتھ، ماضی قریب کے بھی شاندار ورثے کی ملکیت رکھتا ہے ۔

اندرون ٹیکسلا ، ٹیکسلا کا وہ گوشہ ہے جہاں ٹیکسلا کے متنوع ماضی کے شاید آخری حوالے ، اپنے عہدِ ضعیفی میں سانسیں لے رہے ہیں ۔
مندروں کے پیکر میں ، حویلیوں کے در و دیوار میں ، ماڑیوں کے جھروکوں میں ۔

تاریخ صرف وہ نہیں جو محلات میں ہوتی ہے ، ایوانوں میں ہوتی ہے ، تاریخ گلی کوچوں میں بھی ہوتی ہے اور چوک چوراہوں میں بھی ۔ بازاروں میں بھی ہوتی ہے اور چوپالوں پہ بھی۔

ٹیکسلا کے گلی محلوں ،چوک چوراہوں اور بازاروں کی تاریخ کھوجنے ، اندرون ٹیکسلا میں ، ٹیکسلا کی متنوع تاریخ کے آخری حوالوں کو دیکھنے کے واسطے کچھ مسافروں نے کی ،ایک شام ،تاریخی ورثے کے نام ۔ اس شام ہمیں ٹیکسلا میوزیم سے اندرون ٹیکسلا ،پیادہ سفر کرنا تھا ۔

ٹیکسلا بیٹھک نے ٹیکسلا کے تاریخی ورثے کے فروغ کا بیڑہ اُٹھا رکھا ہے۔ وقتاً فوقتاً ایسے پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے کہ جن میں لوگوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے اور پھر ورثے پر ،تاریخ پر ، ثقافت پر ، فنون پر ،گفتگو کی جاتی ہے ، گفتگو سنی جاتی ہے، مکالمے ہوتے ہیں ۔ ورثے کو قبول کرنے ، اس کو محفوظ کرنے ،اس کو سراہنے ، اس پر فخر کرنے جیسی خوبصورت سوچ اور رویے کو تشکیل دیا جاتا ہے ، فروغ دیا جاتا ہے ۔ اُس شام ،یہ سفر ، اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا ۔

ٹیکسلا میوزیم میں تمام مسافر جمع ہوئے ۔ سفر شروع کیا اور تھوڑی ہی میں ہم اندرون ٹیکسلا کے بازار میں داخل ہوگئے ۔

تنگ راستے اور راستے کے دونوں جانب چھوٹی بڑی دکانیں ، دکانوں پر بکتا رنگارنگ متنوع سامان، گاہکوں کو متوجہ کرتے دکاندار اور متجسس نگاہیں لئے چلتے پھرتے ،آتے جاتے گاہک ۔

یہ وہ حال ہے ،جو بول رہا ہے ، جو زندہ ہے۔

بازار کی رونقوں کو نظر انداز کر کے جیسے ہی کوئی اپنا سر اُٹھاتا ہے تو نظر اُن شکستہ عمارتوں پر جا ٹھہرتی ہے، جو کبھی پر شکوہ تھیں۔ ان کے مکینوں کو تقسیم کی لہر سرحد پار لے گئی اور وہ کہیں اور جا بسے۔ تب سے ان عمارتوں کے وجود پر ، ان کے پیکر پر، ان کے در و دیوار پر ، ان کے صحنوں پر ، ان کے جھروکوں پر ویرانی طاری ہے ، اداسی کا عالم ہے ، بے رونقی ہے ، بے نوری ہے۔

اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا
سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا
اس کے جاتے ہی یہ کیا ہو گئی گھر کی صورت
نہ وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت
کوئی یہاں سے چل دیا رونق بام و در نہیں
دیکھ رہا ہوں گھر کو میں گھر ہے مگر وہ گھر نہیں
یہ وہ ماضی ہے، جو خاموش ہے ، مَر رہا ہے ، رفتہ رفتہ ، آہستہ آہستہ۔

چلتے چلتے ہم ایک عمارت کے بالائی حصے میں پہنچ گئے ،جہاں ہمارے میزبان نے ہماری نشست کو چائے کی شیرینی اور موسیقی کی دل آویزی سے معطر کر رکھا تھا۔ اُس سفر میں ، سکوت کے یہ وہ لمحات تھے جن میں گفتگو بھی تھی ، مکالمہ بھی تھا، چائے کی لذت بھی تھی ، موسیقی کی لطافت بھی تھی اور خلوص کی مہک بھی تھی۔

سورج ڈوب چکا تو مسافروں نے پلٹنے کا فیصلہ کیا ۔ واپس ٹیکسلا میوزیم پہنچے اور پھر چند لمحوں کے لئے ایک جیسا ذوق کے کر ،ایک جیسا شوق لے، ایک دوسرے کے ہمقدم چلنے والے ، اپنی اپنی زندگی کی راہوں پر جُدا جُدا چلنے لگے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے