صفر المظفر اور اسلامی نقطۂ نظر

اسلامی سال کا دوسرا مہینہ صفر المظفر شروع ہوتے ہی ہمارے معاشرے میں مختلف قسم کی باتیں گردش کرنے لگتی ہیں۔ کہیں اس مہینے کو نحوست سے تعبیر کیا جاتا ہے، کہیں شادی بیاہ، نئے کاروبار، مکان کی تعمیر، سفر یا دیگر اہم کاموں سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو کہیں ایسے وظائف اور رسومات اختیار کی جاتی ہیں جن کی بنیاد نہ قرآن میں ملتی ہے اور نہ سنتِ رسول ﷺ میں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ تصورات نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں، یہاں تک کہ بہت سے پڑھے لکھے افراد بھی ان سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو توہمات، بدشگونی اور بے بنیاد عقائد سے نکال کر یقین، علم اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا سکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ میں بار بار اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ نفع و نقصان، کامیابی و ناکامی اور عزت و ذلت کا مالک صرف اللّٰه تعالٰی ہے۔ کوئی دن، کوئی تاریخ اور کوئی مہینہ بذاتِ خود انسان کے لیے خیر یا شر کا فیصلہ نہیں کرتا۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”جو شخص اللّٰه پر بھروسا کرے تو اللّٰه اس کے لیے کافی ہے۔”(سورۂ طلاق، آیت 3)یہ آیت ہر مسلمان کو یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں اعتماد کا مرکز صرف اللہ تعالیٰ ہونا چاہیے۔ اگر دل میں اللّٰه پر یقین مضبوط ہو تو پھر کسی مہینے، دن یا تاریخ کی نحوست کا تصور باقی نہیں رہتا۔

ماہِ صفر کے بارے میں جاہلی تصورات

اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں ماہِ صفر کے متعلق کئی غلط عقائد پائے جاتے تھے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ اس مہینے میں مصیبتیں زیادہ آتی ہیں، سفر کرنا نقصان دہ ہے، نکاح کرنا مناسب نہیں اور نئے کام شروع کرنے سے ناکامی مقدر بن جاتی ہے۔ ان باطل نظریات کی بنیاد نہ کسی وحی پر تھی اور نہ عقل و فطرت پر، بلکہ محض توہمات اور روایتوں پر تھی۔جب اسلام آیا تو اس نے ایسے تمام باطل تصورات کا خاتمہ کیا۔ رسول اللّٰه ﷺ نے واضح طور پر فرمایا:”بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں اور ماہِ صفر کی کوئی نحوست نہیں۔”(صحیح بخاری، حدیث 5757؛ صحیح مسلم، حدیث 2220)یہ مختصر مگر جامع ارشاد پوری امت کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مہینے کو منحوس سمجھنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ مسلمان کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ ہر چیز اللّٰه تعالٰی کے حکم سے ہوتی ہے، نہ کہ کسی مہینے یا تاریخ کے اثر سے۔

صفر کو منحوس سمجھنے کی کوئی شرعی دلیل نہیں

اگر قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو کہیں بھی یہ تعلیم نہیں ملتی کہ صفر کے مہینے میں شادی، کاروبار، سفر یا دیگر جائز کاموں سے اجتناب کیا جائے۔ نہ رسول اللّٰه ﷺ نے ایسا حکم دیا اور نہ صحابۂ کرام رضی اللّٰه عنہم نے اس پر عمل کیا۔دین اسلام میں کسی بھی عقیدے یا عمل کی بنیاد قرآن و سنت ہوتی ہے۔ اگر کسی بات کی بنیاد مستند شرعی دلیل پر نہ ہو تو اسے دین کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی لیے محدثین، مفسرین اور فقہائے امت نے ہمیشہ اس بات کی وضاحت کی ہے کہ صفر کی نحوست کا عقیدہ جاہلیت کی یادگار ہے، اسلام کی تعلیم نہیں۔

بدشگونی اسلام کی نظر میں
بدشگونی صرف صفر کے مہینے تک محدود نہیں، بلکہ کسی پرندے، جانور، شخص، آواز، تاریخ یا عدد کو منحوس سمجھنا بھی درست نہیں۔ اسلام انسان کو ہر قسم کی بدشگونی سے آزاد کرتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”بدشگونی شرک کی ایک قسم ہے۔”(سنن ابوداؤد، حدیث 3910 جامع ترمذی، حدیث 1614)علمائے کرام نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب انسان کسی چیز کو بذاتِ خود نفع یا نقصان پہنچانے والا سمجھنے لگتا ہے تو اس کے توکل میں کمزوری پیدا ہوتی ہے، حالانکہ حقیقی مؤثر صرف اللّٰه تعالٰی کی ذات ہے۔موجودہ معاشرے کی غلط فہمیاںآج بھی بعض علاقوں میں صفر کے مہینے کے آغاز پر عجیب و غریب رسمیں ادا کی جاتی ہیں۔ کہیں مخصوص کھانے تقسیم کیے جاتے ہیں، کہیں مخصوص دنوں کو منحوس سمجھا جاتا ہے، کہیں کاروبار روک دیا جاتا ہے، اور کہیں شادی کی تاریخ صرف اس لیے تبدیل کر دی جاتی ہے کہ صفر کا مہینہ چل رہا ہے۔یہ تمام اعمال اس وقت تک شرعی حیثیت نہیں رکھتے جب تک ان کی بنیاد قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو۔ مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ ہر معاملے میں دلیل کو معیار بنائے، نہ کہ سنی سنائی باتوں یا خاندانی روایات کو۔

کیا صفر میں پیش آنے والے بعض تاریخی واقعات اس کی نحوست کی دلیل ہیں؟
بعض لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اسلامی تاریخ میں ماہِ صفر کے دوران بعض تلخ اور المناک واقعات پیش آئے، اس لیے یہ مہینہ منحوس ہے۔ یہ استدلال نہ علمی اعتبار سے درست ہے اور نہ شرعی لحاظ سے۔ اگر کسی مہینے میں کوئی آزمائش یا مصیبت پیش آ جائے تو اس سے وہ مہینہ منحوس نہیں ہو جاتا۔ دنیا کی تاریخ کا شاید ہی کوئی ایسا دن یا مہینہ ہو جس میں کسی نہ کسی قوم یا فرد پر کوئی مصیبت نہ آئی ہو۔ اسی طرح ہر مہینے میں خوشیوں، کامیابیوں اور فتوحات کے بے شمار واقعات بھی ملتے ہیں۔

اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ آزمائش اور راحت دونوں اللّٰه تعالٰی کی طرف سے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے، کبھی خوف سے، کبھی بھوک سے، کبھی مال، جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔”
(سورۂ بقرہ، آیت 155)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ آزمائش کا تعلق کسی مخصوص مہینے سے نہیں بلکہ اللّٰه تعالٰی کی حکمت اور مشیت سے ہے۔

رسول اللّٰه ﷺ کی عملی تعلیم
اگر صفر واقعی نحوست کا مہینہ ہوتا تو رسول اللّٰه ﷺ اپنی امت کو اس میں اہم کام کرنے سے منع فرماتے، لیکن احادیث اور سیرت کی کتابوں میں ایسا کوئی حکم موجود نہیں۔ بلکہ آپ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں توہمات کے خاتمے، اللّٰه تعالٰی پر توکل اور صحیح عقیدے کی تعلیم دی۔
اسلام نے انسان کو یہ سبق دیا ہے کہ وہ ہر جائز کام "اللّٰه کے نام سے” شروع کرے، استخارہ کرے، مشورہ کرے اور اس کے بعد اللّٰه تعالٰی پر بھروسا کرتے ہوئے قدم بڑھائے۔ کامیابی یا ناکامی کو مہینوں، دنوں یا تاریخوں سے جوڑنا اسلامی مزاج نہیں۔

ائمۂ امت کی وضاحت
امت کے جلیل القدر محدثین اور فقہائے کرام نے بھی واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ صفر کی نحوست کا عقیدہ بے بنیاد ہے۔
علامہ امام نووی رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه ﷺ کے فرمان کا مقصد یہ ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ صفر کو منحوس سمجھتے تھے، اسلام نے اس باطل عقیدے کو ختم کر دیا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه بھی لکھتے ہیں کہ صفر کے متعلق پائے جانے والے تمام جاہلی تصورات کی نفی خود نبی کریم ﷺ نے فرما دی، اس لیے کسی مسلمان کے لیے ایسے عقائد اختیار کرنا درست نہیں۔
یہی مؤقف دیگر ائمۂ حدیث اور فقہاء کا بھی ہے کہ کسی مہینے کو بذاتِ خود منحوس سمجھنا شرعی تعلیمات کے خلاف ہے۔

مسلمان کا طرزِ فکر کیا ہونا چاہیے؟
ایک سچا مسلمان حالات کے بجائے اپنے اعمال پر نظر رکھتا ہے۔ اگر زندگی میں مشکلات آئیں تو وہ اپنے گناہوں پر استغفار کرتا ہے، اللّٰه تعالٰی سے دعا کرتا ہے، صدقہ دیتا ہے، صبر اختیار کرتا ہے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کسی مہینے یا تاریخ کو قصوروار نہیں ٹھہراتا۔
اسی طرح اگر خوش حالی، کامیابی اور آسانیاں ملیں تو وہ انہیں اللّٰه تعالٰی کا فضل سمجھتا ہے، نہ کہ کسی دن یا مہینے کی برکت کا ذاتی اثر۔
اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان کا تعلق اپنے رب سے مضبوط ہو۔ جب یقین اللّٰه تعالٰی پر ہو تو توہمات خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔

ہماری ذمہ داری
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء، خطباء، اساتذہ، والدین اور ذرائع ابلاغ عوام میں صحیح اسلامی تعلیمات کو عام کریں۔ بچوں کو ابتدا ہی سے یہ سکھایا جائے کہ نحوست کا تعلق مہینوں سے نہیں بلکہ گناہوں اور نافرمانی سے پیدا ہونے والی بے برکتی سے ہے۔ اگر معاشرے سے توہمات کا خاتمہ کرنا ہے تو قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا اور ہر اس رسم سے بچنا ہوگا جس کی کوئی شرعی بنیاد موجود نہیں۔

ہمیں چاہیے کہ صفر المظفر سمیت سال کے ہر مہینے کو عبادت، نیکی، علم، خدمتِ خلق، صلہ رحمی، صدقہ خیرات اور اللّٰه تعالٰی کی اطاعت میں گزارنے کی کوشش کریں۔ یہی وہ طرزِ زندگی ہے جو دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

ماہِ صفر اللّٰه تعالٰی کے پیدا کیے ہوئے بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے۔ اسے منحوس سمجھنا، اس میں جائز کاموں سے اجتناب کرنا یا اسے مصیبتوں کا سبب قرار دینا قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ رسول اللّٰه ﷺ نے خود ایسے تمام باطل تصورات کی نفی فرمائی اور امت کو اللّٰه تعالٰی پر کامل بھروسا، صحیح عقیدہ اور مثبت طرزِ فکر اختیار کرنے کی تعلیم دی۔

آئیے، اس صفر المظفر کے آغاز پر عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی کو توہمات سے پاک، قرآن و سنت سے وابستہ اور اللّٰه تعالٰی پر کامل اعتماد کے ساتھ گزاریں گے۔ یہی ایک مومن کی شان ہے، یہی اسلام کا پیغام ہے اور یہی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے