چوری شدہ لفظوں کا زمانہ

اپنی زندگی کے مسائل اور غمِ روزگار میں اس قدر الجھا ہوا تھا کہ کافی عرصے سے اپنے ہمنوا شمبو کے گیراج جانے کا موقع ہی نہ ملا۔ زندگی کے بے شمار غم اور ایک روشن مستقبل کی فکرِ معاش نے مجھے گویا اپنی ہی دنیا میں قید کر رکھا تھا۔

ایک روز میں اسی سڑک سے گزر رہا تھا۔ میرے سفید کپڑے گرد و غبار اور میل کچیل سے سیاہ دکھائی دے رہے تھے، جبکہ میرے جوتے اس قدر پرانے اور پھٹے ہوئے تھے کہ ہر چند قدم بعد ان کا تسمہ کھل جاتا۔ آخرکار میں نے تنگ آکر جوتے ہاتھ میں اٹھا لیے اور تیز قدموں سے چلنے لگا۔ اتفاق سے راستہ شمبو کے گیراج کے سامنے سے گزرتا تھا۔

اس نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو فوراً آواز دے کر بلایا۔ ایک گلاس پانی دیا، چائے کا آرڈر کیا اور مسکراتے ہوئے بولا، "یار! آج کل میں ایک معروف لکھاری بن چکا ہوں۔”

یہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ یہی شمبو تو کچھ عرصہ پہلے اپنے گیراج کا حساب کتاب بھی دوسروں سے لکھواتا تھا، پھر اچانک لکھاری کیسے بن گیا؟ اگلے ہی لمحے خیال آیا کہ یہ چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت کا دور ہے، اور اب دوسروں کی تحریریں، اسکرپٹ اور خیالات چرا کر اپنے نام سے پیش کرنا بھی بعض لوگ باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ شاید شمبو بھی اسی راہ پر چل نکلا ہو۔

میں نے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا، مگر نہ جانے کیوں اس کا ذائقہ بھی مجھے اجنبی سا محسوس ہوا۔ دو گھونٹ پینے کے بعد میں نے شمبو سے اجازت لی اور ایک گمنام منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔

مجھے اپنی نئی اسائنمنٹ کے لیے پاگلوں کی زندگی پر ایک کہانی تخلیق کرنی تھی، مگر کوئی مناسب کردار نہیں مل رہا تھا۔ آخرکار میں نے خود ہی پاگلوں جیسا حلیہ بنا لیا تاکہ اپنی کہانی کا مرکزی کردار خود بن سکوں۔

راستے میں ایک اور خیال آیا: کیوں نہ کسی کتاب یا انٹرنیٹ سے مواد چرا کر کہانی لکھ دوں؟ آخر اس معاشرے میں یہ سب کچھ اب نہ صرف عام ہو چکا ہے بلکہ بعض لوگ اسے فخر کے ساتھ اپنی کامیابی بھی سمجھتے ہیں۔

شاید اصل المیہ یہی ہے کہ اب لفظ چرانے والے لکھاری کہلاتے ہیں، جبکہ اپنے درد سے لفظ تراشنے والے گمنامی کے اندھیروں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے