کامران حیات کی تصویر مجھے بیس سال پیچھے لے گئی۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے اس باہمت نوجوان نے برطانیہ کی ایک یونیورسٹی سے اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اپنی تصویر مجھے بھیجی ہے۔
بیس سال پہلے کامران کے والد حیات اللہ خان کو شمالی وزیرستان سے اغوا کیا گیا تو وہ صرف چار پانچ سال کا تھا۔ پشاور اور اسلام آباد میں حیات اللہ خان کی بازیابی کے لیے صحافیوں نے بہت سے مظاہرے کیے۔ ایسے ہی ایک مظاہرے میں ننھا سا کامران اپنی بہن اور چھوٹے بھائی کے ساتھ ایک پلے کارڈ پکڑے کھڑا تھا، جس پر لکھا تھا: "شمالی وزیرستان کے صحافی حیات اللہ کو بازیاب کرو۔”
حیات اللہ اغوا سے قبل مجھ سمیت اسلام آباد کے کئی صحافیوں کو بتا چکا تھا کہ اگر اسے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار حکومتی ادارے ہوں گے۔ شمالی وزیرستان کا پولیٹیکل ایجنٹ یہ جھوٹ بولتا رہا کہ حیات اللہ کو امریکیوں نے اٹھا لیا ہے اور وہ بگرام جیل میں ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ امریکیوں کا مخبر تھا، اس لیے طالبان نے اسے اغوا کر لیا۔
چھ ماہ کی گمشدگی کے بعد 16 جون 2006ء کو میر علی میں حیات اللہ کی لاش ملی۔ اس کے ہاتھوں میں سرکاری ہتھکڑی تھی اور سر میں گولی ماری گئی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ کسی عقوبت خانے سے بھاگ نکلا تو پیچھے سے اسے گولی مار دی گئی۔
19 جون 2006ء کو میں نے روزنامہ جنگ میں اپنے کالم میں لکھا کہ حیات اللہ خان کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ پہلے پہل حکومت ان حملوں کے بارے میں کہتی تھی کہ دہشت گرد بم بناتے ہوئے اپنا ہی بم پھٹنے سے مارے گئے، مگر حیات اللہ ان حملوں میں استعمال ہونے والے Made in USA میزائلوں کے ٹکڑوں کی تصاویر سامنے لے آیا۔
سچ سامنے لانے پر اسے کہا گیا کہ یا تو شمالی وزیرستان چھوڑ دو یا صحافت۔ سرکاری نوکری کی پیشکش بھی ہوئی، لیکن انکار پر اسے اغوا کر لیا گیا۔
مشرف حکومت کے وزیر داخلہ آفتاب خان شیرپاؤ نے ہم سے مذاکرات کے بعد عدالتی کمیشن بنوا دیا۔ اس کمیشن کے سامنے حیات اللہ کی اہلیہ ان افراد کے نام سامنے لانا چاہتی تھیں جنہیں ان کے شوہر نے اغوا سے پہلے ذمہ دار قرار دیا تھا۔
نومبر 2007ء میں حیات اللہ کی اہلیہ میر علی میں اپنے ہی گھر کے اندر ہینڈ گرنیڈ حملے میں شہید کر دی گئیں۔ یوں کامران اور اس کے چھوٹے بہن بھائی اپنے والدین دونوں سے محروم ہو گئے۔
کامران اپنے والد کے قائم کردہ الحیات ماڈل اسکول میں نرسری کا طالب علم تھا، جہاں اس کی والدہ بچیوں کو تعلیم دیتی تھیں۔ لڑکیوں کی تعلیم دونوں میاں بیوی کا خواب تھا۔
حیات اللہ نے جنگل خیل جیسے پسماندہ علاقے میں یہ اسکول قائم کیا تو مجھے بتایا تھا کہ: "آپ شمالی وزیرستان کو صرف دہشت گردی اور ڈرون حملوں کی وجہ سے جانتے ہیں، لیکن میں تعلیم کے ذریعے اپنے علاقے کی تقدیر بدلوں گا۔”
یتیم بچوں اور بوڑھے والدین کو انصاف کی کوئی امید نہ تھی، اس لیے حیات اللہ کے بھائی احسان اللہ بچوں کو لے کر پشاور چلے گئے۔ ننھا کامران کبھی بنوں اور کبھی پشاور کے مختلف اسکولوں میں پڑھتا رہا، پھر ایبٹ آباد کے ماڈرن ایج اسکول اینڈ کالج کے بورڈنگ میں داخل ہو گیا۔
اس دوران خاندان جن مشکلات اور پریشانیوں سے گزرا، وہ ایک الگ داستان ہے، لیکن کامران نے تعلیم کا سفر نہیں چھوڑا۔ ماڈرن ایج اسکول میں اسے جناب واحد میر اور محترمہ سمیرا واحد جیسے مخلص اساتذہ کی رہنمائی ملی۔
میٹرک اور انٹر کے بعد اس نے ایس بی ایم کالج ایبٹ آباد سے اکاؤنٹنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد وہ آسانی سے کسی سرکاری یا نجی ادارے میں ملازمت کر سکتا تھا، مگر اس نے اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کیا۔
مالی مشکلات کے باوجود اسے برطانیہ کی ٹیسائیڈ یونیورسٹی میں اکاؤنٹنگ اینڈ فنانس میں ایم ایس سی میں داخلہ مل گیا۔
داخلہ ملنے کے بعد ویزا کا مرحلہ بھی آسان نہ تھا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان کے نوجوان کو ویزا مل بھی گیا تو برطانیہ میں داخلہ نہیں ملے گا۔ تاہم کامران کو ویزا مل گیا، لیکن اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے اسے کافی دیر تک روک کر پوچھ گچھ کی۔ آخرکار اسے جانے کی اجازت ملی۔
برطانیہ پہنچنے کے بعد اخراجات پورے کرنے کے لیے اسے پارٹ ٹائم ملازمت کرنا پڑی۔ بعض پاکستانیوں نے اس سے کام تو لیا، مگر معاوضہ دیے بغیر فارغ کر دیا۔ اس کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری۔
اسی دوران آرمی پبلک اسکول پشاور حملے میں زخمی ہونے والے باہمت نوجوان احمد نواز نے آکسفورڈ سے فون پر اس کی رہنمائی کی۔
بالآخر مسلسل محنت اور لگن کے بعد کامران نے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کر لی۔
اس کی تصویر میں مجھے صرف ایک نوجوان کی کامیابی نظر نہیں آتی بلکہ پورے شمالی وزیرستان، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے ہر مظلوم کی کامیابی دکھائی دیتی ہے۔
بچپن میں والدین سے محروم ہونے والے کامران حیات نے اپنی قابلیت سے دنیا کو بتا دیا کہ شمالی وزیرستان صرف بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی سرزمین نہیں، بلکہ اگر وہاں کے نوجوانوں کو مناسب ماحول، وسائل اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ تعلیم سمیت ہر شعبے میں ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
کامران کو ریاست آج تک انصاف نہیں دے سکی، لیکن اس نے انتقام کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے اپنی محنت سے بیرون ملک پاکستان کا نام روشن کیا۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد کامران کو پاکستان واپس آنا چاہیے؟ کیا آج کا پاکستان بیس سال پہلے کے پاکستان سے زیادہ محفوظ ہے؟ اگر وہ میر علی میں اپنے والدین کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے جائے تو کیا خیریت سے واپس اسلام آباد آ سکے گا؟
یہ وہ سوال ہے جس پر پاکستان کے حکمرانوں کو غور کرنا چاہیے۔ آج بڑے بڑے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر کیا کوئی یہ ضمانت دے سکتا ہے کہ کامران کے ساتھ وہ کچھ نہیں ہوگا جو اس کے والدین کے ساتھ ہوا؟
ریاست پچھلے بیس برس میں شمالی وزیرستان کو امن اور انصاف کیوں فراہم نہ کر سکی؟
حیات اللہ خان تعلیم کے ذریعے اپنے علاقے کی تقدیر بدلنا چاہتے تھے۔ کامران کی کامیابی ان کے خواب کی تعبیر کا آغاز ہے۔
مجھے یقین ہے کہ ایک دن کامران حیات پاکستان ضرور واپس آئے گا۔ اسے امن اور انصاف ملے یا نہ ملے، وہ اپنے والد کے خواب کی تعبیر کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا۔
کامران کامیاب ہو گیا، تعلیم کے ذریعے شمالی وزیرستان بھی کامیاب ہوگا، اور ایک دن پاکستان بھی کامیاب ہوگا۔ کامیابی کی یہ تصویر ہماری اگلی نسل ضرور دیکھے گی۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)