سچ تو یہ ہے کہ ملک کے موجودہ حالات اور اردگرد پھیلی مایوسی کو دیکھ کر میرا کئی دن سے لکھنے کو بالکل بھی دل نہیں کر رہا تھا، اور میں نے قلم ایک طرف رکھ دیا تھا۔ لیکن حالیہ برسات کے موسم میں جب غریبوں کے کچے مکانات کی گرتی ہوئی چھتیں دیکھیں، معصوم بچوں کی چیخیں سنیں اور غریب خاندانوں کے بے پناہ نقصانات کو اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کیا، تو میرا ضمیر مجھے جھنجھوڑنے لگا۔ ان دلخراش واقعات نے مجھے اندر سے اس قدر تڑپایا کہ میں خاموش نہ رہ سکا اور آج دوبارہ قلم اٹھا کر یہ کالم لکھنے پر مجبور ہو گیا۔ موسمِ برسات جہاں گرمی سے ستائے ہوئے لوگوں کے لیے خوشی اور سکون کی نوید لاتا ہے، وہاں ہمارے ملک کے غریب، مزدور اور دیہاڑی دار طبقے کے لیے یہ موسم ایک بہت بڑی آفت اور مصیبت بن کر نازل ہوتا ہے۔
جب آسمان پر کالی گھٹائیں چھاتی ہیں اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چلتے ہیں، تو امیر اور خوشحال طبقہ اپنے پکے، محفوظ اور خوبصورت گھروں کے کمروں یا بالکونیوں میں بیٹھ کر بارش کا مزہ لیتا ہے، پکوڑے کھاتا ہے اور چائے کی چسکیاں لیتا ہے۔ لیکن بالکل اسی وقت، اسی شہر کی کسی کچی بستی، تنگ گلی یا دور دراز کے کسی پسماندہ گاو ¿ں میں ایک غریب انسان اپنی ٹپکتی ہوئی چھت کو دیکھ کر خوف سے کانپ رہا ہوتا ہے۔ ہر سال بارشوں کے دنوں میں غریبوں کے کچے مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے اتنے دلخراش اور افسوسناک واقعات پیش آتے ہیں کہ سن کر ہی انسان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ سال 2026 کی ان حالیہ بارشوں میں بھی ملک کے الگ الگ علاقوں، جیسے پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے کئی ایسے حادثات سامنے آئے ہیں، جہاں معصوم بچے، عورتیں اور بوڑھے رات کو سوتے ہوئے اپنی ہی چھت کے ملبے تلے دب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اب یہاں یہ بڑا سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ چھتیں آخر ہر سال برسات میں ہی کیوں گرتی ہیں اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کی سب سے بڑی اور کڑوی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کے غریب انسان کے پاس اتنے پیسے یا وسائل نہیں ہوتے کہ وہ مو ن سون کا سیزن شروع ہونے سے قبل اپنے گھر کی اچھے طریقے سے مرمت کروا سکے۔ پسماندہ علاقوں، شہروں کی کچی آبادیوں اور دیہاتوں میں زیادہ تر غریبوں کے گھر کچی مٹی، پرانی لکڑی کے بالوں اور لوہے کے سستے ٹی آر گارڈرز سے بنے ہوتے ہیں۔ ان چھتوں کی لائف پہلے ہی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
جب مسلسل کئی دنوں تک تیز بارش ہوتی ہے، تو ان چھتوں سے پانی ٹپکنے لگتا ہے۔ اس پانی کو روکنے کے لیے غریب لوگ عام طور پر ایک دیسی طریقہ اپناتے ہیں اور چھت کے اوپر مزید کچی مٹی ڈال دیتے ہیں تاکہ پانی اندر نہ آئے۔ لیکن یہی عمل ان کے لیے موت کا پروانہ بن جاتا ہے۔ بارش کا مسلسل پانی جذب کر کے یہ مٹی اتنی وزنی ہو جاتی ہے کہ نیچے لگی پرانی لکڑیاں اور کمزور دیواریں اس کا بوجھ برداشت نہیں کر پاتیں اور پوری چھت زوردار دھماکے سے اچانک نیچے آ گرتی ہے۔ یہ مٹی اور گارڈرز جو غریب کا سر چھپانے کا واحد سہارا تھے، وہی اس کی اور اس کے پورے خاندان کی قبر بن جاتے ہیں۔
جب بھی ملک میں ایسا کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے، تو ہماری سرکاری مشینری اور ریسکیو کی ٹیمیں فوراّ حرکت میں آتی ہیں۔ ملبے کو ہٹانے کا کام شروع ہوتا ہے، دبی ہوئی لاشوں اور زخمیوں کو باہر نکالا جاتا ہے، انہیں ہسپتال پہنچایا جاتا ہے اور پھر حکومت کے اعلیٰ حکام کی طرف سے متاثرہ خاندانوں کے لیے کچھ امدادی رقم، راشن یا خیموں کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ حکومت نے اس سال بھی بارشوں کے ممکنہ نقصانات سے بچنے اور نمٹنے کے لیے”نیشنل ریزیلینس پلان 2026“ جیسے بڑے بڑے منصوبوں اور فنڈز کا اعلان کیا ہے۔ این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز بھی الرٹ جاری کرتی رہتی ہیں۔ حادثے کے بعد عارضی طور پر خیمے لگا دینا، کھانا بانٹ دینا یا چند لاکھ روپے کا چیک دے دینا یقیناً ایک اچھا اور ہمدردانہ قدم ہے، لیکن یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ اس سنگین مسئلے کا کوئی پکا اور مستقل حل ہے؟ کیا صرف نقصان ہو جانے کے بعد جاگنا اور ہمدردی دکھانا کافی ہے؟ کیا ان پیسوں سے کسی ماں کا مرا ہوا بچہ یا کسی خاندان کا واحد کفیل واپس آ سکتا ہے؟ بالکل نہیں!
سچی بات تو یہ ہے کہ نقصان ہو جانے کے بعد امداد دینے یا افسوس کے بیانات جاری کرنے سے وہ قیمتی انسانی جانیں کبھی واپس نہیں آتیں جو غفلت کی نذر ہو گئیں۔ حکومت کی پالیسی ہمیشہ ”حادثہ ہو جانے کے بعد“ شروع ہوتی ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ”حادثہ ہونے سے پہلے“غریب کی جان بچائی جائے۔ ہمارے ملک کا پورا نظام ایسا ہے جہاں امیروں کے بنگلوں، کمرشل پلازوں اور بڑی بڑی سوسائٹیوں کی عمارتوں کو چیک کرنے کے لیے تو درجنوں محکمے اور نقشہ پاس کرنے والے افسران موجود ہوتے ہیں، لیکن غریبوں کی ان کچی آبادیوں کی طرف کوئی مڑ کر بھی نہیں دیکھتا جہاں ہزاروں انسان موت کے سائے میں جی رہے ہوتے ہیں۔
مقامی لوکل انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کا یہ بنیادی فرض بنتا ہے کہ وہ مو ن سون کا سیزن شروع ہونے سے کم از کم دو ماہ پہلے ہی اپنے اپنے علاقوں کا ایک تفصیلی سروے کریں۔ وہ ٹیمیں بنا کر خطرناک، پرانے اور خستہ حال مکانات کی پہچان کریں اور وہاں رہنے والے غریب خاندانوں کو بارشیں شروع ہونے سے پہلے کسی سرکاری پناہ گاہ یا محفوظ جگہ پر منتقل کریں۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا کوئی بھی حفاظتی کام وقت پر نہیں کیا جاتا اور جب کوئی چھت گرتی ہے تو سارا ملبہ صرف قسمت پر ڈال دیا جاتا ہے۔
اگر حکومت سچے دل سے غریبوں کی مدد کرنا چاہتی ہے اور ان حادثات کو ہمیشہ کے لیے روکنا چاہتی ہے، تو اسے اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر کچھ پکے، ٹھوس اور پائیدار قدم اٹھانے ہوں گے۔ سب سے پہلے تو حکومت کو کچی آبادیوں کو قانونی شکل دے کر وہاں سستے اور مضبوط گھر بنانے کا کوئی جدید طریقہ متعارف کروانا ہو گا۔ ماہرینِ تعمیرات کی مدد سے غریبوں کو یہ گائیڈ لائن دی جائے کہ وہ روایتی بھاری مٹی اور گارڈرز کی چھتوں کے بجائے ہلکی، مضبوط اور واٹر پروف چھتیں کیسے ڈال سکتے ہیں۔ بارش اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے اور اسے سب کے لیے رحمت ہی رہنا چاہیے۔
یہ ہم سب کے لیے، ہمارے سماج کے لیے اور خاص طور پر حکومت کے اربابِ اختیار کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ جب بارش کی پہلی بوند زمین پر گرتی ہے، تو ایک غریب کا دل خوشی سے دھڑکنے کے بجائے خوف اور مٹی کے گرنے کے ڈر سے کیوں کانپنے لگتا ہے؟ جب تک ہم اپنے ملک کے سب سے کمزور اور پسماندہ انسان کو ایک محفوظ چھت اور پرسکون نیند نہیں دے سکتے، تب تک ہمارے ملک کی ہر ترقی، ہر ڈیجیٹل منصوبہ اور ہر بڑا دعویٰ ادھورا اور کھوکھلا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت محض ہنگامی امداد کے اعلانات اور اخبارات کے بیانات سے آگے بڑھے اور زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے کوئی ایسا مستقل اور مضبوط انتظام کرے کہ آئندہ برسات کا پانی کسی غریب کا آشیانہ اجاڑنے اور اس کے گھر کا چراغ گل کرنے کا سبب نہ بن سکے۔