تربت ؛ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ موجودہ بلوچستان حکومت دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کے قیام، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں اور موجودہ حکومت پہلی حکومت ہے جس نے صوبائی ترقیاتی پروگرام (PSDP) پر 100 فیصد بلکہ اس سے بھی زیادہ عملدرآمد یقینی بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے اور سرحد پار سے بیرونی حمایت یافتہ عناصر بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اس عزم پر قائم ہیں کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کا قیام حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ موجودہ انسرجنسی کو سپورٹ کرنے والوں کے اپنے جیو پولیٹیکل مفادات ہیں اور وہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ اس جنگ کا سب سے زیادہ نقصان بلوچ قوم کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ نوجوان اور بلوچ دانش اس صورتحال کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، جبکہ بلوچ خواتین کا خودکش حملوں میں استعمال بلوچ روایات اور بلوچ کوڈ آف کنڈکٹ کے سراسر خلاف ہے، جس کی پورے معاشرے کو حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی ریاستی بیانیے پر کھل کر بات کر رہے ہیں اور حکومت کو مؤثر انداز میں چلا رہے ہیں۔ دو روز قبل صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، تاہم صدر مملکت نے صوبائی حکومت کی تبدیلی سے متعلق کوئی ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی یا ڈھائی سالہ فارمولے سے متعلق گردش کرنے والی خبریں محض افواہیں ہیں اور اس حوالے سے نہ پارٹی قیادت نے کوئی بات کی ہے اور نہ ہی ہمارے سامنے ایسا کوئی معاملہ آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی بلوچستان میں حکومت بنتی ہے تو اس کی تبدیلی سے متعلق افواہیں شروع ہوجاتی ہیں۔ بعض عناصر اور ایک نام نہاد قوم پرست جماعت موجودہ حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے، ان افواہوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل پارٹی بلوچستان اسمبلی میں پانچویں نمبر کی جماعت ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت بے روزگاری کے خاتمے اور معاشی ترقی کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے حلقے میں بنیادی انفراسٹرکچر، سڑکوں، ڈیموں، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ بلیدہ ڈویلپمنٹ پیکیج کی تکمیل سے علاقے میں نمایاں ترقی اور معاشی انقلاب آئے گا، جبکہ بلیدہ کو سڑکوں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے صوبے، ملک اور بین الاقوامی شاہراہوں سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں ایران اور افغانستان کی سرحدوں پر 13 جوائنٹ بارڈر مارکیٹیں قائم کی جا رہی ہیں، جن سے سرحدی علاقوں میں تجارت کو فروغ ملے گا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔