اختیار عوام کے قریب لائیں

؎ کیا عجب خاک نشینوں کو خبر ہو کہ کہاں
خاک ڈھونڈھے تو تری یاد گہر بار نہ ہو

یہ وہ ارضِ پاک ہے جس کی ہر دھرتی کو قرآن کا وہ ابدی وعدہ ملا ہے کہ "وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ” (القصص: 5) مگر افسوس کہ آج اس سرزمین کے چاروں کنارے اس طرح خودمختار ہو گئے ہیں کہ وفاق کا تخت خالی پڑا ہے، اور ہر صوبے کا امیر اپنی سلطنت کا بادشاہ بن بیٹھا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کی شب، جو جمہوریت کے نام پر آئی، اس نے وفاق کو اتنا نزار کر دیا کہ جب وہ محصولات کا خزانہ جمع کرتا ہے تو اس کا بیشتر حصہ نیشنل فنانس کمیشن کے راستے صوبوں کو پہنچ جاتا ہے، اور مرکز ایسے کنگال رہ جاتا ہے جیسے کوئی تاجر جس کا سرمایہ سب شراکت داروں میں تقسیم ہو گیا ہو۔

قابل تقسیم محصولات کا یہ کلیہ، جو چاروں صوبوں میں اس طرح بٹتا ہے جیسے وراثت کا کوئی پرانا نظام ہو، دراصل ان صوبوں کو قارون کی سی دولت سے نوازتا ہے مگر انہیں ایک درہم بھی اوپر یا نیچے منتقل کرنے پر آمادہ نہیں کر پاتا۔ فاٹا کے اس عظیم علاقے کا معاملہ دیکھو، جسے خیبرپختونخوا کے ساتھ ضم کیا گیا تو سرتاج عزیز کمیٹی نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ دس سال تک ڈویزیبل پول کا تین فیصد فاٹا کو دیا جائے تاکہ وہ باقی مملکت کے ہم پلہ ہو سکے۔ مگر آٹھ برس بیت گئے، اور یہ تین فیصد وعدوں کی دستاویزات میں قید رہا۔ جب بھی اس پر عمل درآمد کی بات ہوئی، تو ہر حکومت نے یہی جواب دیا کہ سندھ اس پر راضی نہیں، گویا ایک صوبے کی ضد نے پوری قوم کا مستقبل یرغمال بنا لیا ہے۔ حالانکہ سندھ خود اپنے اندر کراچی جیسے شہر کی سڑکوں کو کھنڈرات میں بدلتے ہوئے دیکھ رہا ہے، اور اندرونِ سندھ کی آبادی کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھے ہوئے ہے، پھر بھی وہ دوسروں کے حصے پر نظر رکھتا ہے۔

یہ المیہ صرف وسائل کی تقسیم تک محدود نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ اسی آئین نے حکومت کی تین سطحیں مقرر کی ہیں: وفاق، صوبے اور مقامی حکومتیں۔ اٹھارہویں ترمیم کو سولہ برس گزر گئے، مگر کسی بھی صوبے نے مقامی حکومتوں کو حقیقی مالی اور انتظامی اختیارات نہیں دیئے۔ عدالتوں کے احکامات پر کبھی کبھار بلدیاتی انتخابات کرائے گئے، مگر ان کونسلوں کو محض ایک ڈھونگ بنا دیا گیا، جبکہ صوبائی فنانس کمیشن کا تصور بھی رائیگاں ہے۔ ہر وزیراعلیٰ اپنے صوبے میں ایسا بادشاہ ہے کہ اگر وہ ایک ضلع کو سو ارب دے اور دوسرے کو صرف ایک ارب، تو اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبوں کے وسائل میں غیر معمولی اضافے کے باوجود عوام کی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔ کراچی کا راہ گیر آج بھی اپنی سڑکوں کو کھنڈرات میں دیکھتا ہے، مظفرگڑھ کا مریض لاہور تک کا سفر طے کرنے پر مجبور ہے، کشمور کا مسافر کراچی پہنچنے میں پورا دن گزار دیتا ہے، چترال کی وادیاں سردیوں میں پشاور سے منقطع ہو جاتی ہیں، اور بلوچستان کی وسعتوں میں ایک ضلع سے دوسرے ضلع تک پہنچنے میں دن رات گزر جاتے ہیں۔

یہ صوبے نہ لسانی بنیادوں پر بنے ہیں اور نہ تاریخی، بلکہ یہ ایک ایسی ساخت ہے جو وقت کے ساتھ استحکام کا روپ دھار چکی ہے۔ پنجاب میں سرائیکی اور پوٹھوہاری بستے ہیں، بلوچستان میں پختون اور براہوی آباد ہیں، سندھ میں اردواسپیکنگ، پختون اور پنجابی کی بڑی تعداد ہے، اور خیبرپختونخوا میں ہندکو، چترالی اور سرائیکی بولنے والے بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔ اب جبکہ یہ صوبے نہ لسانی اور نہ تاریخی اعتبار سے متحد ہیں، تو پھر عوام کی بہتری کے لیے ان کی تقسیم یا دوبارہ ترتیب میں کوئی حرج نہیں۔ یا تو مزید چھوٹے صوبے بنائے جائیں تاکہ انتظامیہ عوام کے قریب ہو، یا پھر موجودہ صوبوں کے اندر ڈویژن کی سطح پر ایسے بااختیار انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں جنہیں صوبائی ڈویزیبل پول سے ایک متعین فارمولے کے تحت براہ راست رقم ملے۔ یہ فیصلہ عوام کے ریفرنڈم کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کی مصلحت پر منحصر۔ جو لوگ پہلے ہی کھربوں بیرون ملک منتقل کر چکے ہیں، وہ تو ادھر چلے جائیں گے، لیکن ہمیں تو اس خاکِ پاک پر ہی رہنا ہے۔ اگر ہم اسی طرح حکمرانی کی اس بے راہ روی پر چلتے رہے، تو وہ دن دور نہیں جب یہ سرزمین اپنے عوام کو تنگ دستی اور مایوسی کے اندھیروں میں چھوڑ دے گی، اور ہم "خاکم بدہن” کہتے ہوئے اپنا سب کچھ کھو بیٹھیں گے۔ فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے، اور فیصلہ نہ کرنا بھی ایک فیصلہ ہے مگر اس کا انجام تاریک تر ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے