اکیسویں صدی کو اگر ڈیجیٹل انقلاب کی صدی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انٹرنیٹ، اسمارٹ فون، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت نے انسانی زندگی کے انداز کو یکسر بدل دیا ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچ جاتا ہے، علم کے خزانے تک رسائی ممکن ہے اور گھر بیٹھے تعلیم و تجارت کی سہولت حاصل ہے۔ لیکن اس ترقی کے روشن پہلو کے ساتھ ایک تاریک حقیقت بھی موجود ہے: ڈیجیٹل دنیا ہمیں حقیقت سے زیادہ اس کا ایک دلکش عکس دکھاتی ہے۔ یہی عکس کبھی خوش فہمی، کبھی احساسِ محرومی اور کبھی ذہنی غلامی کا سبب بن جاتا ہے۔
سب سے بڑا فریب مصنوعی خوشی کا ہے۔ سوشل میڈیا پر انسان عموماً اپنی زندگی کے بہترین لمحات دکھاتا ہے، ناکامیاں اور پریشانیاں نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسروں کی ظاہری خوش حالی دیکھ کر ہم اپنی حقیقی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ ایک شخص کی چند سیکنڈ کی مسکراتی ویڈیو اس کی پوری زندگی کی نمائندگی نہیں کرتی، مگر ہم اسے مکمل حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ یوں ڈیجیٹل دنیا ہمیں دوسروں کی زندگی سے اپنا موازنہ کرنے پر مجبور کرتی ہے اور احساسِ کمتری کو جنم دیتی ہے۔
دوسرا بڑا فریب وقت کی بچت ہے۔ ٹیکنالوجی نے بہت سے کام آسان ضرور کیے ہیں، لیکن غیر ضروری ڈیجیٹل استعمال نے وقت کا سب سے بڑا چور بھی پیدا کر دیا ہے۔ ایک طالب علم کتاب کھول کر پڑھنے بیٹھتا ہے، مگر موبائل کی ایک اطلاع اس کی توجہ ہٹا دیتی ہے۔ وہ چند لمحوں کے لیے ویڈیو دیکھتا ہے اور پھر ایک ویڈیو دوسری، دوسری تیسری میں بدل جاتی ہے۔ اس طرح قیمتی وقت ضائع ہوتا رہتا ہے۔ گویا مسئلہ موبائل کا نہیں بلکہ موبائل پر اپنے وقت اور توجہ کا اختیار کھو دینے کا ہے۔
ڈیجیٹل دنیا کا ایک خطرناک پہلو جعلی معلومات بھی ہیں۔ انٹرنیٹ پر خبر کی رفتار اس کی تصدیق سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ جھوٹی خبر چند منٹوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کی تردید شاید بہت دیر بعد سامنے آئے۔ جعلی تصاویر، من گھڑت خبریں اور گمراہ کن ویڈیوز نہ صرف لوگوں کو دھوکا دیتی ہیں بلکہ معاشرے میں خوف، نفرت اور انتشار بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل دور میں صرف تعلیم یافتہ ہونا کافی نہیں؛ باشعور اور تنقیدی سوچ رکھنے والا صارف ہونا بھی ضروری ہے۔
ایک اور المیہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل رابطوں کی کثرت کے باوجود حقیقی تعلقات کمزور ہو رہے ہیں۔ ایک ہی گھر میں بیٹھے افراد بسا اوقات ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کے بجائے اپنے اپنے موبائل میں مصروف رہتے ہیں۔ ہمارے پاس سیکڑوں آن لائن دوست ہو سکتے ہیں، مگر مشکل وقت میں ساتھ دینے والے حقیقی دوست چند ہی ہوتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رابطہ بڑھ جانا اور تعلق مضبوط ہو جانا ایک ہی بات نہیں۔
ڈیجیٹل دنیا کا فریب صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ کاروباری اور معاشرتی سطح پر بھی موجود ہے۔ اشتہارات ہماری خواہشات کو ضرورت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ خوب صورتی کے مصنوعی معیار، مہنگی اشیا کی نمائش اور کامیابی کی مبالغہ آمیز کہانیاں انسان کو مسلسل یہ احساس دلاتی ہیں کہ اس کے پاس ابھی بہت کچھ کم ہے۔ یوں ڈیجیٹل دنیا صرف ہماری توجہ نہیں بلکہ بعض اوقات ہماری خواہشات اور فیصلوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔
تاہم ٹیکنالوجی بذاتِ خود دشمن نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان ٹیکنالوجی کا مالک رہنے کے بجائے اس کا غلام بن جائے۔ ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے وقت مقرر کرنا چاہیے، ہر خبر کی تصدیق کرنی چاہیے، حقیقی رشتوں کو ترجیح دینی چاہیے اور آن لائن دکھائی دینے والی زندگی کو مکمل حقیقت سمجھنے سے گریز کرنا چاہیے۔
آخرکار یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ اسکرین پر نظر آنے والی دنیا ہماری پوری دنیا نہیں ہے۔ ڈیجیٹل دنیا سہولت کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگر ہم نے اس کے فریب کو حقیقت سمجھ لیا تو یہی سہولت ہماری توجہ، وقت، تعلقات اور ذہنی سکون چھین سکتی ہے۔ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو استعمال کریں، مگر ٹیکنالوجی ہمیں استعمال نہ کرے۔