لکھنے کا مشق اور معمول دو عشروں پر مشتمل ہے۔ اس دوران اپنی بات لکھ کر لوگوں تک پہنچانے کے لیے دو اصول اپنا رکھے ہیں۔
پہلا اصول: نافعیت
اگر میں سمجھوں کہ میرے اس والے کالم / تحریر سے قارئین کو نفع یعنی فائدہ مل رہا ہے تو بہرحال لکھ لیتا ہوں، تاکہ کسی کا بھلا ہو، کسی کو کوئی نئی بات معلوم ہو، کسی کی سوچ میں کوئی مثبت تبدیلی آئے یا کسی کے لیے میری تحریر کسی کام آ جائے۔
میرے نزدیک لکھنے کا سب سے بڑا جواز یہی ہے کہ الفاظ محض الفاظ نہ رہیں، بلکہ کسی نہ کسی درجے میں انسانوں کے لیے نفع بخش ثابت ہوں۔
دوسرا اصول: استغناء
لکھتے ہوئے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اس کا مجھے کوئی مالی یا کوئی اور فائدہ ہوگا۔ اس بارے بھی خود کو مستغنی کر دیا ہے۔ اس لیے لوگوں کی تحسین و تضحیک کا خاص فرق نہیں پڑتا، البتہ تحسین سے حوصلہ ملتا ہے، تنقید سے اصلاح ہوتی ہے اور تضحیک سے دل دکھتا ہے۔
میں نے لکھنے کو کبھی منفعت کا ذریعہ نہیں بنایا، اسے اپنی ذمہ داری، اپنے شوق اور اپنی بات پہنچانے کا ایک وسیلہ سمجھا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود لکھنے کا یہ مشق اور معمول بدستور قائم ہے اور بڑھتا جارہا ہے۔
تجربے کی بات ہے کہ "نافعیت” ہو تو قلم چلتا ہے، اور استغناء ہو تو قلم آزاد رہتا ہے۔