دو ٹکیاں دی نوکری

محسن نقوی صاحب فرماتے ہیں کہ نوکری جائے تو جائے۔انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے۔ان کی نوکری والی بات سے مجھے ایک فلم یاد آگئی۔ جو بہت عرصے پہلے بنی تھی۔ فلم کا نام تھا روٹی کپڑا اور مکان ۔جس میں زینت امان اور منوج کمار ہیرو اور ہیروئن تھے۔ فلم کے ایک سین میں شدید بارش ہورہی ہوتی ہے۔ ہیرو یعنی منوج کمار کو نوکری کے لیے انٹرویو دینے جانا ہوتا ہے مگر زینت امان بھیگی ہوئی ساڑھی میں ملبوس بارش کے موسم کو انجوائے کررہی ہوتی ہیں۔ دوسری طرف منوج کمار کو انٹرویو کے لیے جلدی ہے۔

مگر زینت امان ان کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ ان کے ساتھ بارش میں بھیگیں اور رومانس کریں۔ ممکن ہے کہ بارش کے تھم جانے کے بعد وہ پکوڑے بناکر منوج کمار کو اپنے ہاتھوں سے کھلاتیں لیکن منوج کمار کی بے چینی اور بدحواسی کو دیکھتے ہوئے وہ گانا گانے اور ڈانس کرنے لگتی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ کسی طرح اپنے ہیرو کو روک لیں۔ جب زینت امان جیسی خوبصورت خاتون کسی کو روکنا چاہے اور وہ بھی برسات میں تو کون انکار کرسکتا ہے۔ لحاظہ منوج کمار صاحب انٹرویو دینے کے بجائے اپنی محبوبہ سے عشق فرمانے لگتے ہیں اور دو ٹکیاں دی نوکری کو خیرباد کہ دیتے ہیں۔ اب وہ گانا بھی سن لیں جو اپنے وقت کے معروف اردو اور پنجابی شاعر ورما ملک نے لکھا تھا گانے کے بول تھے۔

ہائے ہائے یہ مجبوری
یہ موسم اور یہ دوری
مجھے پل پل ہے تڑپائے
تری دو ٹکیاں دی نوکری میں
مرا لاکھوں کا ساون جائے

انسان کی زندگی میں نوکری کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔انسان نوکری چھوڑنے کی بات تبھی کرتا ہے ۔جب کوئی اور چیز اسے نوکری سے بھی زیادہ عزیز ہو اور ایسا لگتا ہے کہ نقوی صاحب کو انتظامی یونٹ بنانے میں نوکری سے زیادہ دلچسپی ہے۔ اسی لیے انہوں نے اتنی بڑی بات کہی ہے۔ہم جیسے مڈل کلاسیوں کے لیے تو نوکری ہی سب سے بڑی چیز ہے اگر نوکری نہ ملے تو انسان خالی ڈبے کی طرح بجتا رہتا ہے۔

دراصل محسن نقوی چاہتے ہیں کہ ملک کامیاب ہو۔ ملک ترقی کرے ۔دنیا میں اس کا نام ہو۔ ہر پاکستانی کو اس کا حق ملے۔ مہنگائ پر کنٹرول ہو معیشت مستحکم ہو جی ڈی پی میں اضافیہ ہو پینے کو صاف پانی ملے وغیرہ وغیرہ مگر ان کے خیال میں اس کے لیے نئے صوبے ناگزیر ہیں۔جبکہ ان کے مخالفین ایسا نہیں سمجھتے ان کے خیال میں صوبوں کے بننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

حالات پریشان کن ہیں۔ ایک پارٹی صوبوں کے خلاف کچھ سننا نہیں چاہتی ہے۔ جبکہ ایک پارٹی اسمبلی سے واک آؤٹ کر جاتی ہے۔ ایک پارٹی احتجاجی جلسوں میں مصروف ہے اور ایک اور پارٹی اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے پریشان ہے۔

محترم سہیل وڑائچ صاحب نے جو اپنی پیشین گوئی کی تھی وہ درست ثابت ہورہی ہے۔ جون کے بعد سے حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں۔لندن کے سرد ماحول میں جو میٹنگز ہوئ ہیں ان سے ماحول میں اور شدت آگئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسےکبھی ہم سڑک پر چلتے ہوئے کبھی گرما گرم سموسے کھایا کرتے تھے۔

جمعہ کی نماز میں مولوی صاحب خطبہ میں فرما رہے تھے کہ اپنے اعمال بہتر کرو مسلمان کو اللّٰہ کے ہاں اپنے عمل کا جواب دینا پڑتا ہے۔ جبکہ ایک پارٹی کے کارکنان کو یاد دلایا جارہا ہے کہ وہ قیامت کے دن اپنے لیڈر کو کیا منہ دکھائیں گے۔

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

صوبے بنیں یا نہ بنیں لوگ انتشار نہیں چاہتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ صوبے بننے کی نوبت آخر کیوں آئی ہے
یہ سوچنے کی بات ہے ۔ اگر سندھ کے سارے سیاستدان مل کر اچھا کام کرتے تو شاید یہ صورت حال نہ ہوتی مگر بقول قابل اجمیری

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

کالم کے شروعات میں فلم روٹی کپڑا اور مکان کا ذکر کیا تھا۔ ایک پارٹی کا نعرہ بھی تو یہی تھا۔ اس پارٹی نے ماضی میں ملک میں اپنا سکہ جمایا تھا۔ اس کی مقبولیت پنجاب سمیت پورے ملک میں تھی مگر پھر یہ صرف سندھ تک محدود کیوں ہوگئی۔ بھٹو کے ویژن کا کیا ہوا کیوں آج ملک میں روٹی کپڑا اور مکان لوگوں کی پہنچ سے دور ہے۔

نئے صوبوں کی بچث جاری ہے۔کیا ہونے جارہا ہے عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہے۔ خدا کرے جو بھی ہو وہ ملک کی بہتری کے لیے ہو۔

اصل مسئلہ تو بیروزگاری, ناانصافی ,دہشت گردی , مینٹینس اور مہنگائی کا ہے جو فلم روٹی کپڑا اور مکان کے اس گانے کی یاد دلاتا ہے

ایک ہمیں آنکھ کی لڑائی مار گئی
دوسری یار کی جدائی مار گئی
تیسری ہمیشہ کی تنہائی مار گئی
چوتھی یہ خدا کی خدائی مار گئی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے