اللہ کریم ہے، مہربان ہے۔ ہم جیسے گنہگاروں کو پہلے مدینہ لے آتا ہے، پھر مکہ لے جاتا ہے، اور پھر طائف بھی دکھا دیتا ہے۔ اُسی ربِّ کریم کی حمد و ثنا کے ساتھ یہ کالم اُس مسجد میں لکھ رہا ہوں جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے اللہ کے نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی، جن کا شمار اسلام کے اوّلین مفسرینِ قرآن میں ہوتا ہے۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ اِس وقت لائبریری اور بذاتِ خود مزارِ عبداللہ بن عباس کے احاطے میں بیٹھا ہوں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما خود ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں: میں اپنے والد حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ کے پاس ایک شخص بیٹھا سرگوشی کر رہا تھا، اور آپ ﷺ گویا میرے والد سے اِعراض فرما رہے تھے۔ ہم وہاں سے نکلے تو والد صاحب نے کہا: بیٹا! تم نے دیکھا نہیں، تمہارے چچا زاد بھائی نے مجھ سے کیسا رُخ پھیرے رکھا؟ میں نے عرض کیا: ابا جان! اُن کے پاس ایک شخص تھا جو اُن سے سرگوشی کر رہا تھا۔ والد صاحب چونکے: کیا وہاں کوئی تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔
ہم واپس لوٹے۔ والد صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے عبداللہ سے یوں یوں کہا تھا، اُس نے بتایا کہ آپ کے پاس کوئی شخص تھا جس سے آپ سرگوشی فرما رہے تھے۔ کیا واقعی کوئی تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اے عبداللہ! کیا تم نے اُسے دیکھا تھا؟” میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: "وہ جبریل تھے۔ اور وہی تھے جنہوں نے مجھے تم سے مشغول رکھا۔” (مسند احمد، طیالسی، طبرانی)
ذرا اِس منظر کو دل میں اُتاریے۔ ایک باپ کا گلہ، ایک بیٹے کی معصوم گواہی، اور پھر یہ انکشاف کہ جس ہستی کو بچے نے دیکھا وہ جبریلِ امین تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے جبریل علیہ السلام کو دو بار دیکھا، اور نبی کریم ﷺ نے دو بار میرے لیے حکمت کی دعا فرمائی۔
اور وہ دعا کیا تھی؟ آپ ﷺ نے اُنہیں سینے سے لگایا، سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اَللّٰهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَمم اے اللہ! اِسے دین کی سمجھ عطا فرما اور اِسے قرآن کی تاویل کا علم سکھا۔ یہی دعا تھی جس نے اُس بچے کو "ترجمانُ القرآن” اور "حَبْرُ الاُمّہ” بنا دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُن کا ذکر کرتے تو فرماتے: یہ نوجوان بوڑھوں کا استاد ہے، اِس کی زبان سوال کرنے والی اور دل سمجھنے والا ہے۔ مشکل مسائل میں حضرت عمرؓ اُنہیں بلاتے، اہلِ بدر مہاجرین و انصار موجود ہوتے، مگر عبداللہ بن عباسؓ بات کرتے تو حضرت عمرؓ اُن کی رائے سے آگے نہ بڑھتے۔
مدینہ میں اُن کا حلقۂ درس اتنا بڑا تھا کہ اُنہوں نے دن بانٹ رکھے تھے: ایک دن فقہ کا، ایک دن تفسیر کا، ایک دن مغازی کا، ایک دن شعر کا، اور ایک دن عربوں کی تاریخ کا۔ اور اِسی طائف میں، ۶۸ ہجری میں، اُن کی رحلت ہوئی۔ نمازِ جنازہ حضرت محمد بن الحنفیہ رحمہ اللہ نے پڑھائی اور فرمایا: "آج اِس اُمت کا ربّانیِ علم رخصت ہو گیا۔” روایات میں ہے کہ جب اُنہیں قبر میں اُتارا جا رہا تھا تو ایک سفید پرندہ آیا اور اُن کے کفن میں داخل ہو گیا، پھر باہر نہ نکلا۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا ذکر چھڑے تو گھرانۂ نبوت کا ذکر خود بخود چلا آتا ہے وہ خود اہلِ بیت میں شمار ہوتے ہیں، اور اُسی گھرانے کے حضرت علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ ہیں۔
بخاری و مسلم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں: فاطمہؓ نے مجھ سے چکی پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں پڑنے والے چھالوں کی شکایت کی۔ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس گئے کہ کوئی خادم مل جائے۔ آپ ﷺ اُس وقت تشریف نہیں رکھتے تھے، فاطمہؓ نے حضرت عائشہؓ کو بتا دیا۔ رات کو آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم بستر پر لیٹ چکے تھے۔ ہم اُٹھنے لگے تو فرمایا: اپنی جگہ پر رہو۔ پھر آپ ﷺ ہمارے درمیان بیٹھ گئے حضرت علیؓ فرماتے ہیں، میں نے آپ ﷺ کے قدمِ مبارک کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں اُس سے بہتر چیز نہ بتا دوں جو تم نے مانگی؟ جب بستر پر جاؤ تو چونتیس بار اللہ اکبر، تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمد للہ کہہ لیا کرو یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔
اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سخاوت کا وہ منظر بھی مستند ہے جو ترمذی اور مسند احمد میں ہے: جیشِ عُسرہ کی تیاری کے موقع پر وہ ایک ہزار دینار آستین میں لے کر حاضر ہوئے اور نبی کریم ﷺ کے دامنِ مبارک میں ڈال دیے۔ راوی کہتے ہیں، میں نے دیکھا آپ ﷺ اُن دیناروں کو ہاتھ سے اُلٹ پلٹ رہے تھے اور فرما رہے تھے: "آج کے بعد عثمان جو بھی کرے، اُسے کوئی نقصان نہ دے گا۔”
اب ایک بات دیانت کے ساتھ۔ ہمارے ہاں وعظ کی مجالس میں ایک قصہ بہت مشہور ہے: کہ حضرت عثمانؓ نے نبی کریم ﷺ کی دعوت کی اور آپ ﷺ کے ہر قدم پر ایک غلام آزاد کرتے گئے؛ پھر سیدہ فاطمہؓ نے بھی دعوت کی، دسترخوان پر جنت کا کھانا آیا، اور اُن کی دعا پر ہر قدم کے بدلے ایک ہزار گنہگار جہنم سے آزاد کر دیے گئے۔
یہ قصہ دل کو بہت بھاتا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ یہ کسی معتبر کتابِ حدیث یا سیرت میں نہیں ملتا نہ اِس کی کوئی سند ہے، نہ کلاسیکی حوالہ۔ اہلِ علم اِسے ثابت نہیں مانتے۔ میں نے اِسے اِس لیے لکھا کہ ہمارے ہاں یہ زبان زدِ عام ہے اور بہت سے لوگ اِسے حدیث سمجھ بیٹھتے ہیں۔ محبت میں مبالغہ روا نہیں اور سچ پوچھیے تو جو اوپر مستند بات گزری، وہ اِس سے کہیں زیادہ حسین ہے: ایک بیٹی چکی پیستے پیستے ہاتھ چھلوا بیٹھی اور باپ نے خادم کے بجائے تسبیح عطا فرما دی۔ اِس ایک منظر میں نبوت کا سارا مزاج کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔
طائف کے ذکر کے ساتھ مجھے ہمیشہ اپنے تایا حضور یاد آ جاتے ہیں سید صوبیدار جان، جنہیں ہم "دیر بابا” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ اکثر فرماتے: بیٹا! مجھے ساتھ لے کر عمرے پر جانا، اور طائف سے عمرہ کریں گے۔ (طائف کے قریب ہی قرن المنازل، یعنی السیل الکبیر، میقات ہے۔) فرماتے: دیکھ کر آؤں گا، میں جاننا چاہوں گا اِس شہر کو اور یہاں کے باسیوں کو، جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایسا رویہ کیوں برتا۔ اللہ جانتا ہے، اِس وقت مسجدِ عبداللہ بن عباس کی پہلی صف میں تمام اہلِ طائف بیٹھے ہیں اور سب کے سامنے قرآنِ کریم کھلا ہوا ہے۔ اور مجھے نبی کریم ﷺ کی وہ دعا یاد آ رہی ہے۔
جب آپ ﷺ طائف تشریف لائے تو ساتھ صرف حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ اُس وقت کے سردارانِ ثقیف کے پاس گئے وہ تین سگے بھائی تھے: عبدِ یالیل، مسعود اور حبیب، تینوں عمرو بن عُمیر بن عوف ثقفی کے بیٹے۔ آپ ﷺ نے اُن کے سامنے دعوتِ حق رکھی اور نصرت طلب کی۔
پہلے نے کہا: اگر اللہ نے واقعی تمہیں بھیجا ہے تو جاؤ، کعبے کا غلاف اُتار لو۔
دوسرے نے کہا: کیا اللہ کو بھیجنے کے لیے تمہارے سوا کوئی اور نہ ملا؟
اور تیسرے نے کہا: واللہ! میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو تمہارا مرتبہ اِس سے کہیں بڑا ہے کہ میں تمہیں جواب دوں، اور اگر تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو تو مجھے تم سے بات کرنا زیب ہی نہیں دیتا۔
آپ ﷺ اُٹھ کھڑے ہوئے اور صرف اتنا فرمایا: جو کیا سو کیا، مگر یہ بات چھپا رکھنا۔ آپ ﷺ نہیں چاہتے تھے کہ قریش کو خبر ہو اور اُن کے حوصلے بڑھیں۔ مگر اُنہوں نے چھپانے کے بجائے اپنے اوباشوں اور غلاموں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا۔ راستے کے دونوں طرف صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے اور پتھر برساتے رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے قدمِ مبارک لہولہان ہو گئے اور نعلینِ پاک خون سے تر ہو گئیں۔
تب جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور اُن کے ساتھ پہاڑوں کا فرشتہ تھا۔ اُس نے عرض کیا: اگر آپ حکم دیں تو میں اِن دونوں پہاڑوں کو اِن پر ملا دوں۔ اور اُس ہستی نے، جس کا لہو ابھی بہہ رہا تھا، فرمایا: "نہیں۔ بلکہ مجھے اُمید ہے کہ اللہ اِن کی پشتوں سے ایسی اولاد پیدا فرمائے گا جو صرف اُسی کی عبادت کرے گی اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی۔” (بخاری و مسلم)
اور یقین جانیے، طائف کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کی یہ دعا سو فیصد درست ثابت ہو رہی ہے۔ جن کے باپ دادا نے پتھر مارے تھے، اُن کی اولاد آج اُسی نبی ﷺ کے قرآن پر سر جھکائے بیٹھی ہے۔ اللہ تا ابد اُن ہاتھوں کو جہنم میں جلائے جو اتنی پیاری ہستی پر پتھر برساتے رہے مگر بچے وہ بھی نہیں، اور نہ وہ سردار جنہوں نے اِن لڑکوں کو ورغلایا تھا۔
میں والد صاحب کے ساتھ کئی بار طائف کا سفر کر چکا ہوں، اور اُسی باغ میں اکثر میں اور بابا فنا ہو جایا کرتے تھے جہاں نبی کریم ﷺ زخمی حالت میں تشریف فرما ہوئے۔ وہ باغ قریش کے دو بھائیوں عُتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کا تھا۔ لہولہان حالت میں آپ ﷺ اُسی باغ کی طرف پناہ لینے کو بڑھے اور انگور کی ایک بیل کے سائے تلے بیٹھ گئے۔ عُتبہ اور شیبہ دونوں وہیں موجود تھے اور وہ اُس وقت آپ ﷺ کے دشمنوں میں تھے (دونوں بعد میں بدر کے دن مارے گئے)۔ مگر آپ ﷺ کی یہ حالت دیکھ کر اُن کے اندر قرابت کی رگ پھڑک اُٹھی، آخر آپ ﷺ اُنہی کی قوم قریش کے تھے۔
اُنہوں نے اپنے نصرانی غلام عدّاس کو بلایا اور کہا: انگور کا ایک خوشہ اِس طشتری میں رکھ کر اُس شخص کے پاس لے جاؤ اور کہو کہ کھا لیں۔ عدّاس نے آ کر طشتری آپ ﷺ کے سامنے رکھ دی اور عرض کیا: تناول فرمائیے۔ آپ ﷺ نے ہاتھ بڑھایا اور فرمایا: "بسم اللہ۔” پھر کھانا شروع کیا۔ عدّاس آپ ﷺ کے چہرۂ مبارک کو تکنے لگا اور بولا: خدا کی قسم! یہ کلمہ تو اِس سرزمین کے لوگ نہیں بولتے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: عدّاس! تم کس علاقے سے ہو، اور تمہارا دین کیا ہے؟ اُس نے کہا: میں نصرانی ہوں، اہلِ نینویٰ میں سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اُس نیک آدمی یونس بن مَتّٰی کی بستی سے؟ عدّاس چونک اُٹھا: آپ کو یونس بن متیٰ کا کیسے علم؟ فرمایا: وہ میرے بھائی ہیں۔ وہ نبی تھے، اور میں بھی نبی ہوں۔
بس یہ سننا تھا کہ عدّاس جھک گیا اور آپ ﷺ کے سرِ مبارک، ہاتھوں اور قدموں کو بوسے دینے لگا۔ دور سے دیکھ رہے دونوں بھائیوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: لو، تمہارا غلام تو ہاتھ سے گیا۔ عدّاس واپس آیا تو اُنہوں نے پوچھا: تجھے کیا ہوا، تُو اِس شخص کے سر اور ہاتھ پاؤں چوم رہا تھا؟ عدّاس نے کہا: آقا! روئے زمین پر اِس سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ اِنہوں نے مجھے وہ بات بتائی ہے جو نبی کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ اُنہوں نے کہا: خبردار عدّاس! یہ تجھے تیرے دین سے نہ پھیر دے، تیرا دین اِس کے دین سے بہتر ہے۔ مگر جو دیکھ چکا تھا، وہ کیا پلٹتا۔
اور اُسی باغ میں، اُسی جگہ پر، آج مسجدِ عدّاس قائم ہے۔ محلۂ المثناۃ الغربیہ کے باغات کے بیچوں بیچ، مسجدُ الخُبزہ سے تقریباً آدھا کلومیٹر مشرق کی طرف۔ بعض لوگ اِسے مسجدُ الرِّیع بھی کہتے ہیں، مگر اہلِ ادبِ طائف اِس کے قدیم نام "مسجدِ عدّاس” ہی سے پکارتے ہیں۔ خیر الدین الزرکلی نے اپنی کتاب "ما رأیتُ وما سمعت” میں المیورقی کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ مسجد اُسی مقام پر قائم کی گئی جہاں نبی کریم ﷺ نے پناہ لی، جہاں عدّاس ایمان لایا، اور جہاں بعد میں اُسے دفن کیا گیا۔ مسجد چھوٹی سی ہے، حالیہ برسوں میں اِس کی تجدید ہوئی ہے، اور اندر داخل ہوں تو لگتا ہے وقت وہیں کا وہیں ٹھہر گیا ہو۔
سوچیے ایک غلام، جس کا اپنا کوئی نام و نسب نہ تھا، جو دو سرداروں کے باغ میں انگور توڑا کرتا تھا۔ آج اُس کے آقاؤں کے نام تاریخ میں بدر کے مقتولین کے طور پر آتے ہیں، اور اُس غلام کے نام پر چودہ سو سال بعد بھی مسجد آباد ہے، جہاں دنیا بھر سے آنے والے سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ کا نظامِ عزت و ذلت یہی ہے۔
اُسی باغ کے بالمقابل وہ دوسری مسجد ہے جسے ہم پاکستانی "مسجدِ علی” کہتے ہیں۔ اہلِ طائف اور سعودی محکمۂ آثار اِسے مسجدُ القنطرہ یا مسجدُ المَدہون کے نام سے جانتے ہیں، اور مسجدُ الکوع بھی اِسی محلۂ المثناۃ میں ہے۔ اصل میں یہ وہی مینار والی مسجد ہے جو عثمانی دور میں تعمیر ہوئی — شریف عبدالمطلب بن غالب کے زمانے میں، تقریباً ۱۸۴۶ء میں اگرچہ طرزِ تعمیر عباسی ہونے کی وجہ سے کہیں زیادہ قدیم معلوم ہوتی ہے۔ گول مینار اور اُس پر کرہ نما گنبد اِسے دور ہی سے پہچنوا دیتا ہے۔
اور اِسی محلے میں مسجدُ الکوع ہے، جسے مسجدُ الموقف بھی کہا جاتا ہے۔ جبلِ ابی زبیدہ کے دامن میں، وادیِ وج کے کنارے۔ "موقف” اِس لیے کہ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ طائف تشریف لاتے ہوئے پہلی بار یہیں ٹھہرے تھے، اور "کوع” اِس لیے کہ کہا جاتا ہے آپ ﷺ نے ایک چٹان پر کہنی ٹیکی تو پتھر میں گڑھا پڑ گیا۔ اہلِ طائف میں ایک روایت یہ بھی مشہور ہے کہ مشرکین نے آپ ﷺ پر، حالتِ نماز میں، ایک بھاری چٹان گرانا چاہی مگر وہ اپنی جگہ رُک گئی۔
یہاں ایک بات صاف کر دینی چاہیے: یہ سب مقامی روایات ہیں۔ چٹان والا واقعہ کسی معتبر کتابِ حدیث یا سیرت میں مجھے نہیں ملا، اور اہلِ علم اِس کی تصدیق نہیں کرتے۔ عقیدت اپنی جگہ، مگر جو بات سند سے ثابت نہ ہو اُسے سند کے ساتھ بیان کرنا امانت میں خیانت ہے۔ ہاں، یہ کہ نبی کریم ﷺ نے اِس وادی میں سخت ترین دن گزارے یہ ثابت ہے، اور یہی اصل بات ہے۔
اور سب سے بڑھ کر جس مسجد میں بیٹھ کر یہ سطریں لکھ رہا ہوں، مسجدِ عبداللہ بن عباسؓ، وہ خود اُن مساجد میں شمار ہوتی ہے جہاں نبی کریم ﷺ نے نماز ادا فرمائی۔ اِسے "مسجدِ رسول” بھی کہا جاتا ہے۔ آٹھ ہجری میں، غزوۂ حنین کے بعد جب آپ ﷺ نے طائف کا محاصرہ کیا تو حصار کی طرف بڑھنے کے بجائے آپ ﷺ اُس مقام پر اُوپر تشریف لے گئے جہاں آج طائف کی یہ مسجد ہے۔ اُمّ سلمہ اور زینب بنت جحش رضی اللہ عنہما ہمراہ تھیں، اُن کے لیے دو خیمے نصب کیے گئے، اور آپ ﷺ پورے محاصرے کے دوران اُنہی دو خیموں کے درمیان نماز پڑھاتے رہے۔ ابن ہشام نے محاصرے کی مدت سترہ دن بتائی ہے (بعض نے اٹھارہ، بعض نے بیس اور بعض نے اُس سے زیادہ کہی ہے)۔ ابن حزم نے "جمہرۃ أنساب العرب” میں لکھا کہ عمرو بن اُمیہ نے اُسی مصلائے رسول ﷺ پر یہ مسجد تعمیر کی — "فھو مسجدھم الیوم”، یہی آج اُن کی مسجد ہے۔
سو چودہ سو سال بعد، اُسی جگہ، وہی صفیں اور اُن صفوں میں بیٹھے اہلِ طائف کے سامنے قرآن کھلا ہوا۔ نام کی اِس بحث میں پڑے بغیر، طائف وہ شہر ہے جہاں مسجدِ عدّاس ہے، مسجدِ عبداللہ بن عباسؓ ہے، مسجدُ الخُبزہ ہے، مسجدُ الکوع ہے اور جہاں آ کر اِن مقامات کا اپنا لطف اور اپنا سبق ہے، جسے سمجھنے کی ہمیں بہت ضرورت ہے۔
طائف کا ذکر ہو اور میں اپنے اُستاد جہان رازق صاحب کا نام نہ لوں، یہ نہیں ہو سکتا۔ وہ آج کل یہیں طائف میں مقیم ہیں، میرے کزن بھی ہیں اور ہمارے انگریزی کے اُستاد بھی رہے۔ اور مہمان نوازی ایسی کہ ہمارے جتنے بھی رشتہ دار اِدھر آتے ہیں، سب کی خاطر تواضع بڑی محبت سے کرتے ہیں۔ پردیس میں اپنوں کا ایسا ٹھکانہ مل جائے تو سفر کی تھکن آدھی رہ جاتی ہے۔
آج میں یہاں دیر بابا کے لیے دعا گو ہوں، اور اِس کی وجہ ہے۔ وہ علم کے رسیا تھے، دینی علوم کے ماہر تھے، اور کتابوں کے شوقین تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے تفسیرِ قرآن کے حوالے سے جو محنت کی، اُس کا فیض آج تک جاری ہے اور میں آج بھی دیر بابا کی لائبریری کی "تفسیر احسن البیان” بڑی عقیدت کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ جب دیر بابا دنیا سے رحلت فرما گئے تو اُن کی لائبریری کی بے شمار نادر کتابیں میں نے مختلف کتب خانوں میں تقسیم کیں۔
سید صوبیدار جان دیر میں نواب کے صوبیدار رہے۔ پاکستان سے الحاق کے بعد وہ دیر ہی میں رہے، پھر دیر پائین آ گئے۔ اپنے بچوں کو لکھایا پڑھایا، کچھ کو سعودی عرب بھجوایا، اور میرے لیے وہ دینی حوالے سے بطورِ اُستاد کرم فرما ہوئے۔
دین کے رسیا ایسے تھے کہ زندگی کے بیشتر ایام مسجد ہی کے پہلو میں گزرے۔ جہاں قیام ہوتا، مسجد کے ساتھ ایک چھوٹا سا کمرہ بنا لیتے اور وہیں رہ پڑتے نہ بڑے مکان کی خواہش، نہ سامان کا بوجھ۔ صبح اذان سنائی دیتی تو دو قدم پر مسجد، اور رات کو کتاب کھول کر بیٹھ جاتے۔ اور یہ کوئی ایک جگہ کی بات نہیں جہاں کہیں بھی قیام ہوتا، وہاں کی مسجد کے لوگوں کا اُن سے رُخ ہو جانا عام سی بات تھی۔ لوگ خود کھنچے چلے آتے، مسئلہ پوچھنے، کتاب مانگنے، یا بس بیٹھنے کے لیے۔
آج مسجدِ عبداللہ بن عباسؓ کے احاطے میں بیٹھ کر سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ دیر بابا کی ساری زندگی اِسی ایک اصول پر تھی جہاں مسجد، وہیں گھر۔ بابا فرماتے تھے: جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا، کوئی پریشانی یا مصیبت آتی، میں ذہن میں کہتا لالا ہیں نا۔ وہ دیر بابا کو پیار سے "لالا” کہتے تھے۔ اور میں قسم کھاتا ہوں بابا کی وفات سے ڈیڑھ دن پہلے وہ دیر بابا کو گویا مخاطب ہو کر کہہ رہے تھے: "لالا، میں آ رہا ہوں۔”
سچ بتاؤں تو بابا اور دیر بابا کا بھائیوں والا رشتہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے، بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ الحمدللہ، میں بھائیوں میں وہی "لالا” والا رشتہ حلیم شاہ کے ساتھ نبھاتا ہوں کچھ بھی ہو جائے، حلیم ہے، عابد بھائی ہیں، سعید لالاجی ہیں، حمید ہیں۔ اللہ خیر کرے گا۔
وادیِ طائف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے لے کر دیر بابا کی نصیحتیں اور بابا کے ساتھ گزرے لمحے سب باندھ باندھ کر رکھ دیتے ہیں، جذباتی کر دیتے ہیں۔ پر وقت ہے، رکتا نہیں۔
ایک بچے کی گواہی نے ثابت کیا تھا کہ جبریل آئے تھے۔ ایک زخمی نبی ﷺ کی دعا نے چودہ سو سال بعد اِس شہر کی صفیں قرآن سے بھر دیں۔ ایک صوبیدار کی لائبریری آج بھی کسی نہ کسی کے ہاتھ میں کھلی ہوگی۔ اور ایک بھائی دوسرے بھائی سے کہہ رہا تھا لالا، میں آ رہا ہوں۔
اللہ میرے والد صاحب کو جنت نصیب کرے، اور دیر بابا کو بھی۔ آمین۔