شہر کی پرانی فصیل کے سائے جب شام کے دھندلکوں میں تحلیل ہونے لگتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت خود بھی اپنے زخموں پر گرد ڈال کر خاموشی سے گزر جانا چاہتا ہو۔ انہی ساعتوں میں ایک نیم روشن کمرے کے اندر ایک بوڑھا درخت آخری سانسیں لے رہا تھا۔ یہ درخت دراصل ایک انسان تھا؛ ایسا انسان جس کے جسم کی ہر شاخ پر زندگی کی کئی دہائیوں کے موسم گزر چکے تھے، مگر اس کی جڑوں میں برسوں پہلے خاموشی سے اترنے والا ایک ننھا سا زہریلا کیڑا اب پورے وجود کو چاٹ چکا تھا۔ اس نے کبھی کسی جنگ کا اعلان نہیں کیا، نہ کوئی شور مچایا، نہ کوئی پرچم بلند کیا۔ وہ خاموشی سے جگر کی اینٹ سے اینٹ بجاتا رہا، یہاں تک کہ زندگی کا قلعہ اندر سے کھوکھلا ہو گیا۔ یہی خاموش دشمن وائرل ہیپاٹائٹس ہے؛ ایسا دشمن جو تلوار نہیں چلاتا بلکہ انتظار کرتا ہے، اور پھر ایک دن انسان کو اس کے اپنے جسم میں اجنبی بنا دیتا ہے۔
ہر سال اٹھائیس جولائی کو دنیا وائرل ہیپاٹائٹس سے آگاہی کا عالمی دن مناتی ہے، لیکن سوال یہ نہیں کہ کتنے سیمینار ہوئے، کتنے بینر آویزاں کیے گئے یا کتنی تقاریر کی گئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ہسپتال، ہماری گلیاں، ہمارے دیہی مراکزِ صحت اور ہماری طبی عادات بھی اس آگاہی کی روشنی سے منور ہوئیں یا نہیں؟ کیونکہ بیماری کا اصل میدان تقریبات نہیں بلکہ معاشرہ ہوتا ہے، اور اگر میدان ہی غیر محفوظ رہے تو فتح کے اعلانات محض لفظی فتوحات بن کر رہ جاتے ہیں۔
پاکستان آج ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں ہیپاٹائٹس بی اور سی کا بوجھ قومی صحت کے نظام کے لیے ایک مسلسل امتحان بن چکا ہے۔ المیہ صرف یہ نہیں کہ لاکھوں افراد اس وائرس کا شکار ہیں، بلکہ اس سے کہیں زیادہ دردناک حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد اپنی بیماری سے بے خبر زندگی گزار رہی ہے۔ یہی لاعلمی اس وائرس کی سب سے طاقتور ڈھال ہے۔ جب علامات ظاہر ہوتی ہیں تو اکثر جگر اپنی طبعی صلاحیت کا بڑا حصہ کھو چکا ہوتا ہے، اور مریض علاج کے بجائے بقا کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔
سائنس نے اس معرکے میں انسان کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑا۔ ہیپاٹائٹس بی کے خلاف مؤثر حفاظتی ویکسین موجود ہے اور ہیپاٹائٹس سی کے لیے ایسی جدید ادویات دستیاب ہیں جو بیشتر مریضوں کو مکمل شفا کی امید دیتی ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہماری ناکامی طب کی کمزوری نہیں بلکہ نظام کی بے ترتیبی ہے۔ جدید تحقیق کی روشنی جب غیر منظم طبی ڈھانچوں تک پہنچتے پہنچتے مدھم ہو جائے تو دریافتیں بھی بے اثر دکھائی دینے لگتی ہیں۔
اس وبا کی سب سے خطرناک آماجگاہ وہ مقامات ہیں جنہیں شفا کی علامت ہونا چاہیے تھا۔ غیر معیاری سرنجوں کا استعمال، جراثیم سے پاک نہ کیے گئے جراحی آلات، غیر محفوظ خون کی منتقلی، غیر تربیت یافتہ عطائیوں کی بھرمار اور انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات ایسے دروازے ہیں جہاں سے وائرس روزانہ نئی زندگیاں تلاش کرتا ہے۔ اگر علاج گاہیں خود بیماری کے سفر کی شاہراہ بن جائیں تو پھر صحت کا پورا تصور سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
دوسری طرف جہالت کا اندھیرا اس وبا کو مزید گہرا کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اب بھی بے شمار افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس ایک ایسا عیب ہے جسے چھپانا ضروری ہے، یا پھر وہ تعویذ، ٹونے ٹوٹکے اور غیر سائنسی دعوؤں کے سہارے وقت ضائع کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مرض مصافحہ کرنے، ساتھ بیٹھنے یا ایک دسترخوان پر کھانا کھانے سے منتقل نہیں ہوتا۔ خوف، بدنامی اور سماجی تعصب مریض کو علاج سے زیادہ تنہائی کی سزا دیتے ہیں، اور یہی تنہائی بیماری کو مزید طاقتور بنا دیتی ہے۔
دیہی پاکستان اور کچی آبادیوں کی صورتِ حال اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ جہاں بنیادی طبی سہولتیں نایاب ہوں، وہاں بروقت تشخیص محض ایک خواب بن جاتی ہے۔ کئی خاندان معمولی ٹیسٹ کی قیمت برداشت نہیں کر سکتے، جبکہ مہنگی ادویات ان کے لیے ناقابلِ حصول رہتی ہیں۔ یوں بیماری صرف جسم کو نہیں بلکہ غربت، بے بسی اور عدم مساوات کو بھی مزید گہرا کر دیتی ہے۔ صحت اگر دولت مند اور غریب کے درمیان تقسیم ہو جائے تو وبائیں بھی طبقاتی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت نے 2030 تک وائرل ہیپاٹائٹس کے خاتمے کا جو ہدف مقرر کیا ہے، وہ صرف طبی منصوبہ نہیں بلکہ سیاسی عزم، انتظامی دیانت اور سماجی شعور کا امتحان بھی ہے۔ پاکستان نے حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کے ذریعے نومولود بچوں کو ہیپاٹائٹس بی سے محفوظ بنانے کی سمت اہم پیش رفت کی ہے، مگر بالغ آبادی کی بڑے پیمانے پر اسکریننگ، محفوظ طبی طریقۂ کار، معیاری خون کی فراہمی اور مفت علاج تک رسائی کے بغیر یہ سفر اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔
اب وقت آ چکا ہے کہ اس جنگ کو صرف ڈاکٹروں کی ذمہ داری نہ سمجھا جائے۔ یہ ریاست، تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، مذہبی و سماجی قیادت اور ہر شہری کی مشترکہ آزمائش ہے۔ ہمیں ایسی قومی حکمتِ عملی درکار ہے جس میں بیماری کے علاج سے زیادہ اس کی روک تھام کو ترجیح دی جائے، جہاں ہر انجکشن محفوظ ہو، ہر خون کی بوتل جانچی ہوئی ہو، ہر طبی مرکز انفیکشن کنٹرول کے اصولوں کا پابند ہو اور ہر فرد کو بلا خوف و جھجک ٹیسٹ اور علاج کی سہولت میسر ہو۔
شام ہر روز ڈھلتی ہے، مگر ہر شام اندھیرے کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض شامیں انسان کو یہ موقع دیتی ہیں کہ وہ اگلے دن کے سورج کے لیے چراغ روشن کرے۔ اگر ہم نے آج ہیپاٹائٹس کے خلاف علم، احتیاط اور اجتماعی ذمہ داری کا چراغ روشن کر دیا تو شاید کل کسی اور گھر میں زندگی کی شام اتنی بے بسی سے نہ ڈھلے۔ قومیں صرف بیماریوں کا علاج کر کے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ بیماریوں کے اسباب کو ختم کر کے اپنی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناتی ہیں۔