آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اسلام آباد بار کونسل، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب سے مکمل ہڑتال کی گئی اور جنرل باڈی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محمد بلال مغل ایڈووکیٹ اور نثار شاہ ایڈووکیٹ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
اجلاس میں وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل چوہدری آصف عرفان ایڈووکیٹ، ممبران اسلام آباد بار کونسل راجہ علیم عباسی ایڈووکیٹ اور ظفر کھوکھر ایڈووکیٹ، صدر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن ارم رشید ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری خاور دھمیال ایڈووکیٹ، ایڈیشنل سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان، محرکانِ قرارداد محمد بلال مغل ایڈووکیٹ اور نثار شاہ ایڈووکیٹ، نیز اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس کے آغاز میں آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ واقعات میں جاں بحق ہونے والے تقریباً 80 شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی ارواح کے ایصالِ ثواب کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ شرکاء نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔
وکلاء رہنماؤں نے آزاد جموں و کشمیر کے پُرامن عوام پر تشدد، ہلاکتوں، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر طاقت کے استعمال کا سلسلہ بند کیا جائے، عوام کے پُرامن احتجاج کے آئینی و قانونی حق کا احترام کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے موجودہ بحران کا حل نکالا جائے۔
اجلاس میں درج ذیل قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں:
1. اجلاس نے 5 جون سے آج تک آزاد جموں و کشمیر میں پیش آنے والے واقعات، انسانی جانوں کے ضیاع، زخمیوں، گرفتاریوں، املاک کے نقصانات اور اس تمام صورتحال پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا۔
2. پاکستان کی تمام وکلاء تنظیموں، ریٹائرڈ ججز، انسانی حقوق کی تنظیموں اور معتبر صحافیوں پر مشتمل ایک آزاد، خودمختار اور غیرجانبدار تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا، جو آزاد جموں و کشمیر جا کر حقائق پر مبنی رپورٹ مرتب کرے اور اس رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
3. اجلاس نے مطالبہ کیا کہ آزاد جموں و کشمیر میں جاری ڈیڈ لاک کے خاتمے کے لیے انا، ضد اور محاذ آرائی کی سیاست ترک کرتے ہوئے فوری طور پر بامقصد مذاکرات اور ڈائیلاگ کا آغاز کیا جائے تاکہ مسئلہ پرامن اور آئینی طریقے سے حل ہو سکے۔
4. اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام گرفتار افراد کو قانون کے مطابق فوری انصاف فراہم کیا جائے، غیر ضروری مقدمات واپس لیے جائیں اور پُرامن سیاسی و جمہوری سرگرمیوں پر عائد تمام غیر ضروری پابندیاں ختم کی جائیں۔
5. اجلاس نے پاکستان بار کونسل، تمام صوبائی بار کونسلز، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز، انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے بنیادی انسانی، آئینی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
6. اجلاس نے واضح کیا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ آئین، قانون، انصاف اور باہمی مذاکرات میں ہے، اور تمام فریقین کو تحمل، برداشت اور جمہوری رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وکلاء برادری آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے جائز، آئینی اور جمہوری حقوق کی حمایت کرتی رہے گی۔
محمد بلال مغل ایڈوکیٹ
نثار شاہ ایڈوکیٹ