کورونا وبا کے دوران گھر سے کام (ورک فرام ہوم) کو ایک انقلابی سہولت سمجھا گیا تھا سفر سے نجات، وقت کی بچت اور اخراجات میں کمی جیسے فائدے اس کے ساتھ جوڑے گئے۔ مگر پانچ سال بعد سامنے آنے والی حقیقت اس تصویر کا ایک مختلف رخ دکھا رہی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر سے کام کرنے والے افراد کے بجلی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ لیپ ٹاپ، مانیٹر، وائی فائی راؤٹر اور ایئر کنڈیشنر روزانہ کئی گھنٹے چلنے کے باعث بلوں میں غیر محسوس طور پر اضافہ کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ مسلسل آن لائن میٹنگز کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ پیکجز بھی ایک اضافی خرچ بن چکے ہیں۔
ابتداء میں سادہ انتظامات سے کام چلانے والے افراد کو جلد ہی احساس ہوا کہ آرام دہ اور مؤثر کام کے لیے مناسب فرنیچر ناگزیر ہے۔ چنانچہ کرسی، میز، مانیٹر اسٹینڈ اور بہتر روشنی جیسے سامان پر ہزاروں روپے خرچ کرنا پڑے۔ ماہرین کے مطابق یہ اخراجات دراصل صحت کے لیے ضروری ہیں، کیونکہ غیر مناسب نشست کمر، گردن اور کلائی کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
گھر میں مسلسل موجودگی نے کھانے پینے کی عادات کو بھی متاثر کیا ہے۔ بار بار اسنیکس اور غیر منظم خوراک کی وجہ سے گھریلو اخراجات میں خاموش اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سب سے اہم اثر کیریئر پر پڑ سکتا ہے۔ دفتر سے دور رہنے والے ملازمین ترقی، تنخواہ میں اضافے اور اہم منصوبوں میں شرکت کے مواقع سے محروم رہ سکتے ہیں، جبکہ نئے ملازمین سیکھنے کے قدرتی مواقع کھو دیتے ہیں۔
صحت کے حوالے سے بھی خطرات سامنے آئے ہیں، جن میں کمر اور گردن کا درد، آنکھوں کی تھکن، وزن میں اضافہ، سر درد اور نیند کی خرابی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ سماجی میل جول میں کمی ذہنی دباؤ اور بے چینی کو بڑھا رہی ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں۔
مزید برآں سائبر سیکیورٹی بھی ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔ گھر سے کام کے دوران اگر لیپ ٹاپ گم، چوری یا ہیک ہو جائے تو نہ صرف ذاتی بلکہ ادارے کا حساس ڈیٹا بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اگرچہ ورک فرام ہوم کے فوائد جیسے وقت کی بچت، سفر سے نجات اور خاندانی وقت میں اضافہ اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تمام پوشیدہ اخراجات کو شامل کیا جائے تو یہ سہولت اتنی سستی نہیں رہتی جتنی ابتدا میں سمجھی گئی تھی۔