ارشد ندیم نے کامن ویلتھ گیمز میں مایوس کن کارکردگی کی وجہ بتادی

پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور قومی جیولن تھرو اسٹار ارشد ندیم نے کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو فائنل میں توقعات کے برعکس کارکردگی کی وجہ شدید سرد موسم کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹھنڈ کی وجہ سے جسم اکڑ گیا تھا، جس کے باعث رن اپ متاثر ہوا۔

کامن ویلتھ گیمز میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنے والے ارشد ندیم کو 31 جولائی کو گلاسگو کے اسکاٹسٹون اسٹیڈیم میں مشکل دن کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے اپنی پہلی کوشش میں فاؤل کیا، جبکہ دوسری کوشش میں 77.41 میٹر کی بہترین تھرو کی، تیسری کوشش میں وہ صرف 75.39 میٹر تک ہی جیولن پھینک سکے، جس کے بعد ابتدائی تین راؤنڈز کے اختتام پر وہ ٹاپ آٹھ میں جگہ نہ بنا سکے اور مقابلے سے باہر ہوگئے۔

وطن واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ارشد ندیم نے کہا کہ موسم بہت زیادہ سرد تھا، مجھے ذاتی طور پر محسوس ہوا کہ اس کا اثر میرے جسم پر پڑا، آپ نے گزشتہ کئی مقابلوں میں دیکھا ہوگا کہ میرا رن اپ ہمیشہ بہت ہموار ہوتا ہے، لیکن اس بار ایسا نہیں تھا کیونکہ ٹھنڈ کی وجہ سے میرا جسم اکڑ گیا تھا، میری فٹنس اور صحت بالکل ٹھیک تھی، مگر آخرکار وہی ہوتا ہے جو اللّٰہ کو منظور ہوتا ہے۔

انہوں نے قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ براہِ کرم دل چھوٹا نہ کریں اور میری حوصلہ افزائی جاری رکھیں، جو کچھ بھی میں نے حاصل کیا ہے، وہ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے ممکن ہوا ہے، پاکستان کو دنیا بھر میں جو عزت اور پہچان ملی، وہ برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے، میں نے پاکستان میں رہ کر دن رات محنت کی ہے۔

ارشد ندیم نے مزید کہا کہ میں قوم سے دعا اور حوصلہ افزائی کی درخواست کرتا ہوں، ان شاء اللّٰہ آئندہ مقابلوں کے لیے پوری لگن کے ساتھ تیاری کروں گا اور ایک بار پھر عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں کبھی اپنی کارکردگی کے لیے بہانے نہیں بناتا، میں ہر مقابلے میں مکمل تیاری کے ساتھ اترتا ہوں، اس بار بھی ایسا ہی تھا، آخر میں وہی ہوتا ہے جو اللّٰہ کی مرضی ہوتی ہے اور میں اس کے فیصلے پر راضی ہوں۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے ارشد ندیم نے کہا کہ میں نے سوشل میڈیا پر بہت سی باتیں سنی ہیں، لیکن سب یاد رکھیں کہ میں پاکستان کا بیٹا ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ بہت سے پاکستانی میری کارکردگی سے مایوس ہوئے ہوں گے، لیکن میں مایوس نہیں ہوں، میں نے سوشل میڈیا پر زیادہ توجہ نہیں دی، البتہ کچھ تبصرے دیکھے ہیں، ان سے دکھ ضرور ہوا کیونکہ میں آپ لوگوں کا ہیرو بھی ہوں اور آپ ہی کا بیٹا بھی، پاکستانی عوام میرے اپنے ہیں، اس لیے ان کے جذبات کو سمجھتا ہوں۔

کامن ویلتھ گیمز کے جیولن تھرو مقابلے میں سری لنکا کے رومیش تھرانگا پاتھیراگے نے طلائی تمغہ، جبکہ بھارت کے نیرج چوپڑا نے چاندی اور یشویر سنگھ نے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔

واضح رہے کہ 2022ء کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم نے 90.18 میٹر کی ریکارڈ تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا تھا۔

ارشد ندیم کا اگلا مقابلہ 21 اگست کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی لوزان ڈائمنڈ لیگ میں ہوگا، جہاں ان کا مقابلہ نیرج چوپڑا، رومیش تھرانگا پاتھیراگے، عالمی چیمپئن کیشورن والکوٹ، اینڈرسن پیٹرز اور تھامس روہلر جیسے عالمی معیار کے ایتھلیٹس سے ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے