غصہ کیوں بڑھ رہا ہے؟ وجہ سامنے آ گئی

پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر اور مبلغ مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ اگر جدید دور میں خواتین نے گھروں میں کھانا پکانا چھوڑ دیا ہے تو یہ ایک غیر فطری رجحان ہے، جو ناصرف صحت کے حوالے سے بلکہ معاشرتی اعتبار سے بھی تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

مولانا طارق جمیل نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے گھریلو طرزِ زندگی، خوراک اور صحت سے متعلق مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔

دورانِ گفتگو مولانا طارق جمیل سے سوال پوچھا گیا کہ آج کل خواتین میں گھر میں کھانا نہ پکانے کا رجحان بڑھ رہا ہے، اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟

اس سوال کے جواب میں مولانا طارق جمیل نے کہا کہ اگر واقعی خواتین نے گھر میں کھانا پکانا چھوڑ دیا ہے تو یہ ایک بہت غیر فطری بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1998ء میں امریکا کے دورے کے دوران ایک ڈاکٹر نے مجھے شمالی امریکا کے اعداد و شمار دکھائے تھے، جن کے مطابق صرف ایک سال میں ڈپریشن کی ادویات پر 1 کھرب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اُس وقت صورتحال یہ تھی تو آج اس میں مزید اضافہ ہو چکا ہوگا۔

مولانا طارق جمیل کے مطابق غیر فطری اور مصنوعی خوراک انسانی رویوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاسٹ فوڈ کے زیادہ استعمال سے مزاج میں اتار چڑھاؤ، غصے میں اضافہ اور برداشت میں کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں میاں بیوی کے تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں اور گھریلو تنازعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر صحت بخش غذا ہماری توانائی، صحت اور جسمانی قوت کو بھی متاثر کر سکتی ہے، دیسی گھی استعمال کریں، جنک فوڈ سے پرہیز کریں، دیسی کھانا کھائیں اور کوکنگ آئل کا استعمال ترک کریں، ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے گھروں میں دیسی گھی موجود ہے۔

مولانا طارق جمیل نے کہا کہ اگر گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں تو یہ بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے، جبکہ اس رجحان سے معالجین کا کاروبار بھی بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے بیکری مصنوعات اور مختلف اقسام کی ڈبل روٹی کو بھی غیر صحت بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی غذائیں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے